Urwatul-Wusqaa - Al-Ahzaab : 2
وَّ اتَّبِعْ مَا یُوْحٰۤى اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرًاۙ
وَّاتَّبِعْ : اور پیروی کریں مَا يُوْحٰٓى : جو وحی کیا جاتا ہے اِلَيْكَ : آپ کی طرف مِنْ رَّبِّكَ ۭ : آپ کے رب (کی طرف) سے اِنَّ اللّٰهَ : بیشک اللہ كَانَ : ہے بِمَا : اس سے جو تَعْمَلُوْنَ : تم کرتے ہو خَبِيْرًا : خبردار
اور جو کتاب تمہارے پروردگار کی طرف سے وحی کی جا رہی ہے اس کی پیروی کرتے رہیے بلاشبہ جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس کو خوب جانتا ہے
تفسیر :2 قرآن کریم کا اسلوب بیان یہ ہے کہ وہ بار بار نبی کریم ﷺ ہی کو مخاطب کرکے بات کرتا ہے اگرچہ وہ بات ہر ایک مسلمان کو سمجھانا مقصود اصل ہوتا ہے۔ گزشتہ آیت میں یہی اصول پیش نظر تھا اور زیر نظر آیت میں بھی یہی بات پیش نظر رکھ کر بات کی جارہی ہے اور ساری دنیا کے مسلمانوں کو بتایا جارہا ہے کہ اگر ہمارا رسول محمد رسول اللہ ﷺ رب ذوالجلال والا کرام کے حکم پر عمل کرکے بدنامی کا خطرہ مول لے گا اور اپنی ذاتی عزت پر دشمنوں کے حملے صبر کے ساتھ برداشت کرے گا تو اللہ رب العزت سے اس کی یہ وفادار انہ خدمت چھپی نہیں رہے گی۔ اس نے جو کچھ کیا محض اللہ کی رضا کے لئے کیا اور اس چیز کی اتباع کی جو اس کی طرف نازل کی گئی یعنی قرآن کریم کیونکہ اس کا نازل کرنے والا صرف اور صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے اور وہ تم تمام انسانوں کے اور خصوصاً تمام مسلمانوں کے اعمال کو جانتا ہے ، کوئی چیز اور کوئی بات ایسی نہیں جو اس کے علم میں موجود نہ ہو اور ظاہر ہے کہ جب وہ مسلمانوں کے اعمال سے واقف ہے تو کیا وہ منافقوں اور فکاروں کے اعمال وکردار سے ناواقف ہے ؟ نہیں ! اس کو ان کی بھی ایک ایک حرکت کا علم ہے کیونکہ وہ سارے انسانوں کے اعمال سے باخبر ہے اور کوئی چیز بھی اس کے احاطہ علم سے باہر نہیں۔
Top