Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
View Ayah In
Navigate
Surah
1 Al-Faatiha
2 Al-Baqara
3 Aal-i-Imraan
4 An-Nisaa
5 Al-Maaida
6 Al-An'aam
7 Al-A'raaf
8 Al-Anfaal
9 At-Tawba
10 Yunus
11 Hud
12 Yusuf
13 Ar-Ra'd
14 Ibrahim
15 Al-Hijr
16 An-Nahl
17 Al-Israa
18 Al-Kahf
19 Maryam
20 Taa-Haa
21 Al-Anbiyaa
22 Al-Hajj
23 Al-Muminoon
24 An-Noor
25 Al-Furqaan
26 Ash-Shu'araa
27 An-Naml
28 Al-Qasas
29 Al-Ankaboot
30 Ar-Room
31 Luqman
32 As-Sajda
33 Al-Ahzaab
34 Saba
35 Faatir
36 Yaseen
37 As-Saaffaat
38 Saad
39 Az-Zumar
40 Al-Ghaafir
41 Fussilat
42 Ash-Shura
43 Az-Zukhruf
44 Ad-Dukhaan
45 Al-Jaathiya
46 Al-Ahqaf
47 Muhammad
48 Al-Fath
49 Al-Hujuraat
50 Qaaf
51 Adh-Dhaariyat
52 At-Tur
53 An-Najm
54 Al-Qamar
55 Ar-Rahmaan
56 Al-Waaqia
57 Al-Hadid
58 Al-Mujaadila
59 Al-Hashr
60 Al-Mumtahana
61 As-Saff
62 Al-Jumu'a
63 Al-Munaafiqoon
64 At-Taghaabun
65 At-Talaaq
66 At-Tahrim
67 Al-Mulk
68 Al-Qalam
69 Al-Haaqqa
70 Al-Ma'aarij
71 Nooh
72 Al-Jinn
73 Al-Muzzammil
74 Al-Muddaththir
75 Al-Qiyaama
76 Al-Insaan
77 Al-Mursalaat
78 An-Naba
79 An-Naazi'aat
80 Abasa
81 At-Takwir
82 Al-Infitaar
83 Al-Mutaffifin
84 Al-Inshiqaaq
85 Al-Burooj
86 At-Taariq
87 Al-A'laa
88 Al-Ghaashiya
89 Al-Fajr
90 Al-Balad
91 Ash-Shams
92 Al-Lail
93 Ad-Dhuhaa
94 Ash-Sharh
95 At-Tin
96 Al-Alaq
97 Al-Qadr
98 Al-Bayyina
99 Az-Zalzala
100 Al-Aadiyaat
101 Al-Qaari'a
102 At-Takaathur
103 Al-Asr
104 Al-Humaza
105 Al-Fil
106 Quraish
107 Al-Maa'un
108 Al-Kawthar
109 Al-Kaafiroon
110 An-Nasr
111 Al-Masad
112 Al-Ikhlaas
113 Al-Falaq
114 An-Naas
Ayah
1
2
3
4
5
6
7
8
9
10
11
12
13
14
15
16
17
18
19
20
21
22
23
24
25
26
27
28
29
30
31
32
33
34
35
36
37
38
39
40
41
42
43
44
45
46
47
48
49
50
51
52
53
Get Android App
Tafaseer Collection
تفسیر ابنِ کثیر
اردو ترجمہ: مولانا محمد جوناگڑہی
تفہیم القرآن
سید ابو الاعلیٰ مودودی
معارف القرآن
مفتی محمد شفیع
تدبرِ قرآن
مولانا امین احسن اصلاحی
احسن البیان
مولانا صلاح الدین یوسف
آسان قرآن
مفتی محمد تقی عثمانی
فی ظلال القرآن
سید قطب
تفسیرِ عثمانی
مولانا شبیر احمد عثمانی
تفسیر بیان القرآن
ڈاکٹر اسرار احمد
تیسیر القرآن
مولانا عبد الرحمٰن کیلانی
تفسیرِ ماجدی
مولانا عبد الماجد دریابادی
تفسیرِ جلالین
امام جلال الدین السیوطی
تفسیرِ مظہری
قاضی ثنا اللہ پانی پتی
تفسیر ابن عباس
اردو ترجمہ: حافظ محمد سعید احمد عاطف
تفسیر القرآن الکریم
مولانا عبد السلام بھٹوی
تفسیر تبیان القرآن
مولانا غلام رسول سعیدی
تفسیر القرطبی
ابو عبدالله القرطبي
تفسیر درِ منثور
امام جلال الدین السیوطی
تفسیر مطالعہ قرآن
پروفیسر حافظ احمد یار
تفسیر انوار البیان
مولانا عاشق الٰہی مدنی
معارف القرآن
مولانا محمد ادریس کاندھلوی
جواھر القرآن
مولانا غلام اللہ خان
معالم العرفان
مولانا عبدالحمید سواتی
مفردات القرآن
اردو ترجمہ: مولانا عبدہ فیروزپوری
تفسیرِ حقانی
مولانا محمد عبدالحق حقانی
روح القرآن
ڈاکٹر محمد اسلم صدیقی
فہم القرآن
میاں محمد جمیل
مدارک التنزیل
اردو ترجمہ: فتح محمد جالندھری
تفسیرِ بغوی
حسین بن مسعود البغوی
احسن التفاسیر
حافظ محمد سید احمد حسن
تفسیرِ سعدی
عبدالرحمٰن ابن ناصر السعدی
احکام القرآن
امام ابوبکر الجصاص
تفسیرِ مدنی
مولانا اسحاق مدنی
مفہوم القرآن
محترمہ رفعت اعجاز
اسرار التنزیل
مولانا محمد اکرم اعوان
اشرف الحواشی
شیخ محمد عبدالفلاح
انوار البیان
محمد علی پی سی ایس
بصیرتِ قرآن
مولانا محمد آصف قاسمی
مظہر القرآن
شاہ محمد مظہر اللہ دہلوی
تفسیر الکتاب
ڈاکٹر محمد عثمان
سراج البیان
علامہ محمد حنیف ندوی
کشف الرحمٰن
مولانا احمد سعید دہلوی
بیان القرآن
مولانا اشرف علی تھانوی
عروۃ الوثقٰی
علامہ عبدالکریم اسری
معارف القرآن انگلش
مفتی محمد شفیع
تفہیم القرآن انگلش
سید ابو الاعلیٰ مودودی
Urwatul-Wusqaa - Ash-Shura : 13
شَرَعَ لَكُمْ مِّنَ الدِّیْنِ مَا وَصّٰى بِهٖ نُوْحًا وَّ الَّذِیْۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ وَ مَا وَصَّیْنَا بِهٖۤ اِبْرٰهِیْمَ وَ مُوْسٰى وَ عِیْسٰۤى اَنْ اَقِیْمُوا الدِّیْنَ وَ لَا تَتَفَرَّقُوْا فِیْهِ١ؕ كَبُرَ عَلَى الْمُشْرِكِیْنَ مَا تَدْعُوْهُمْ اِلَیْهِ١ؕ اَللّٰهُ یَجْتَبِیْۤ اِلَیْهِ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَهْدِیْۤ اِلَیْهِ مَنْ یُّنِیْبُ
شَرَعَ لَكُمْ
: اس نے مقرر کیا تمہارے لیے
مِّنَ الدِّيْنِ
: دین میں سے
مَا وَصّٰى بِهٖ
: جس کی وصیت کی ساتھ اس کے
نُوْحًا
: نوح کو
وَّالَّذِيْٓ
: اور وہ چیز
اَوْحَيْنَآ اِلَيْكَ
: جو وحی کی ہم نے آپ کی طرف
وَمَا وَصَّيْنَا
: اور جو وصیت کی ہم نے
بِهٖٓ
: ساتھ اس کے
اِبْرٰهِيْمَ
: ابراہیم کو
وَمُوْسٰى
: اور موسیٰ کو
وَعِيْسٰٓى
: اور عیسیٰ کو
اَنْ
: کہ
اَقِيْمُوا الدِّيْنَ
: قائم کرو دین کو
وَلَا تَتَفَرَّقُوْا فِيْهِ
: اور نہ تم اختلاف کرو اس میں۔ نہ تفرقہ ڈالو اس میں
كَبُرَ
: بڑا ہے۔ بھاری ہے
عَلَي الْمُشْرِكِيْنَ
: مشرکوں پر
مَا
: جو
تَدْعُوْهُمْ اِلَيْهِ
: تم بلاتے ہو ان کو طرف اس کے
ۭ اَللّٰهُ
: اللہ
يَجْتَبِيْٓ اِلَيْهِ
: کھینچ لیتا ہے اپنی طرف
مَنْ يَّشَآءُ
: جس کو چاہتا ہے
وَيَهْدِيْٓ اِلَيْهِ
: اور ہدایت دیتا ہے۔ رہنمائی کرتا ہے، اپنی طرف
مَنْ يُّنِيْبُ
: جو رجوع کرتا ہے
(اللہ نے) تمہارے لیے وہی دین مقرر فرمایا جس کا حکم نوح (علیہ السلام) کو دیا تھا اور جو ہم نے آپ ﷺ کی طرف وحی کیا اور اس کا حکم ہم نے ابراہیم اور عیسیٰ (علیہما السلام) کو دیا تھا کہ (اِس) دین کو قائم رکھنا اور اس میں تفرقہ نہ ڈالنا (لیکن اکثر لوگ اس سے ہٹ گئے) مشرکوں پر وہ بات جس کی طرف آپ انہیں بلا رہے ہیں گراں گزرتی ہے (اور) اللہ جس کو چاہتا ہے منتخب فرماتا ہے اور ہر شخص جو اس کی طرف رجوع کرتا ہے اس کو اپنی طرف ہدایت فرماتا ہے
تمہارا وہی دین ہے جو تم سے پہلے نوح (علیہ السلام) اور دوسرے نبیوں (علیہ السلام) کو وحی کیا گیا 13 ؎ اس سورت کی تیسری آیت کو ایک بار نگاہ میں لاؤ جس سے سلسلہ مضمون شروع کیا گیا تھا کیونکہ پہلی دونوں آیتیں تو صرف چوکنا کرنے کے لیے اور خبردار کرنے کے لیے تھیں اور جس مضمون کے لیے خبردار کیا گیا وہ تیسری آیت سے شروع ہوا جو نبی اعظم و آخر ﷺ کو مخاطب کر کے بیان کیا اور فرمایا تھا کہ آپ ﷺ کو اے پیغمبر اسلام اس دین حق کی طرف وحی کی جا رہی ہے جس کی وحی آپ ﷺ سے پہلے دوسرے نبیوں اور رسولوں کو کی گئی تھی۔ اب زیر نظر آیت سے اس کی مزید وضاحت کی جا رہی ہے اور اس وضاحت کے لیے مخاطبین اوّل قریش اور اہل عرب ہیں جو ان ناموں سے واقف تھے جن نبیوں اور رسولوں کا نام لے کر اس دین کی وضاحت چاہی ہے فرمایا جا رہا ہے کہ یہ وہی دین ہے جس کی ہدایت رسول اوّل نوح (علیہ السلام) کو کی گئی تھی اور یہ وہی دین ہے جو ابراہیم (علیہ السلام) پر ہم نے وحی کیا تھا اور یہ دین وہی ہے جس کو موسیٰ اور عیسیٰ (علیہ السلام) اپنے اپنے دور میں لے کر آئے تھے۔ اس کی ضرورت کیا پیش آئی ؟ اس کی ضرورت یہ تھی کہ اہل مکہ ، قریش اور اہل عرب جن میں یہود و نصاریٰ بھی موجود تھے اس دنیا کو نیا دین کہہ رہے تھے اور سارے گروہ مل کر یہ کہہ رہے تھے کہ جو کچھ محمد ﷺ پیش کر رہے ہیں یہ ان کا اپنا گھڑا ہوا ہے کیونکہ یہ الف سے یا تک سارے کا سارا نیا دین ہے جو ہمارے آباؤ اجداد میں سے کسی کا دین بھی نہیں تھا ان کو بتایا جا رہا ہے کہ نوح ، ابراہیم ، موسیٰ اور عیسیٰ (علیہ السلام) سب کے سب کن لوگوں کے آباؤ اجداد تھے پھر جب تم ان سب کو اپنے آباؤ اجداد بھی مانتے ہو اور اپنے اپنے دور کے نبی و رسول بھی اور میں بھی یہ کہہ رہا ہوں کہ میں نے تمہارے سامنے وہی کچھ رکھا ہے جو یہ سارے انبیاء و رسول اپنی اپنی قوموں کے سامنے پیش کرچکے ہیں تو پھر میرے کیے کا جواب کسی دلیل سے تم کو دینا چاہئے جب میں کہہ رہا ہوں کہ میں وہی کچھ پیش کر رہا ہوں جو نوح (علیہ السلام) سے لے کر عیسیٰ (علیہ السلام) تک سارے نبی و رسول پیش کرچکے تو تمہیں میری اس بات کو غلط ثابت کرنے کے لیے کوئی دلیل پیش کرنی چاہئے یہ عجیب معاملہ ہے کہ نہ تو دلیل سے جواب دینے کے لیے تیار ہو اور نہ ہی میری بات کو ماننے کے لیے تیار ہو اس ضد اور ہٹ دھرمی کو چھوڑ دو اور اس دین کو قائم کرو جو سارے نبیوں اور رسولوں کا مشترکہ دین ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں کے ذریعہ سے تم تک پہنچایا ہے اور تم انسانوں میں تفریق مت ڈالو ، تعجب ہے کہ تفریق تم لوگوں نے ڈالی کہ مختلف گروہوں میں تقسیم ہوگئے اور ایک نام پر بھی تم نے بس نہ کی بلکہ اپنے لیے مختلف نام پسند کرتے ہوئے کوئی اپنے آپ کو یہودی کہتا ہے اور کوئی عیسائی اور کوئی صائبی حالانکہ ان تمام نبیوں اور رسولوں کا لایا ہوا دین ایک ہی دین اسلام اور ان کی ساری امتوں کا نام ایک نام ” مسلمین “ تھا۔ یہ تو ان گروہوں کا ذکر تھا جو ہادئی اسلام نبی اعظم و آخر ﷺ کی آمد سے قبل تقسیم ہوچکی تھی پھر آپ ﷺ نے اس تقسیم کو مٹایا اور ان سب جماعتوں اور گروہوں سے نکال کر اس دین اسلام پر اکٹھا کیا جو سارے نبیوں اور رسولوں کا دین تھا اور ایک دوسرے کی نفرتوں کو ختم کر کے ایک امت ، ایک جماعت بنا دیا اور اس ایک ہی جماعت کے ساتھ وابستہ رہنے کی بار بار تلقین فرمائی اور اس جماعت سے الگ ہونے والوں کو سخت وعیدیں سنائیں یہاں تک کہ آپ ﷺ نے فرمایا : (من فارق الجماعۃ شبرا فقد خلع ربقۃ الاسلام من عنقہٖ ) ابوداؤد و احمد بن ابی ذر ؓ ” جس شخص نے دانستور طور پر ایک بالشت بھی جماعت سے علیحدگی اختیار کی اس نے گویا اپنے گلے سے اسلام کا تعلق اتار پھینکا۔ “ اور آپ ﷺ نے فرمایا : (ان ال شیطان ذئب الانسان کذئب الغنم یاخذ الشاذۃ و القاصیۃ والناحیۃ وایاکم والشعاب وعلیکم بالجماعۃ والعامۃ) رواہ ابوداؤد عن معاذ بن جبل ؓ ” جس طرح بھیڑوں کے لیے بھیڑیا ہوتا ہے اسی طرح شیطان انسانوں کے لیے بھیڑیا ہے اور بھیڑیا اپنے ریوڑ سے الگ ہوجانے والی یا دور چلی جانے ولای یا ایک طرف ہوجانے والی بھیڑ کو فوراً پکڑ لیتا ہے اور میں تم کو اس بات سے ڈراتا ہوں کہ تم گروہ گروہ نہ ہوجاؤ ۔ تم پر لازم ہے کہ تم جماعت کے ساتھ رہو اور عام لوگوں کے ساتھ رہو۔ “ (آپ ﷺ کا ارشاد (ید اللہ علی الجماعۃ و من شذشذ فی النار) رواہ الترمذی عن ابن عمر ؓ ” جماعت پر اللہ تعالیٰ کا ہاتھ ہوتا ہے جو شخص جماعت سے جدا ہوا وہ آگ میں ڈال دیا گیا “ غور کرو کہ آج ہم مسلمان سینکڑوں جماعتوں میں تقسیم ہوگئے اور ہر جماعت نے اپنا ایک الگ امیر مقرر کرلیا اور ساری جماعتیں انہی احادیث کو اپنے لیے استعمال کر رہی ہیں حالانکہ یہ ایسی دھاندلی ہے کہ اس جیسی دھاندلی دنیا میں اس سے پہلے نہ ہوئی یہود ایک گروہ تھا اور نصاریٰ دوسرا گروہ ، صائبین تیسرا گروہ ان ساری گروہ بندیوں میں ضمنی گروہ اس وقت بھی موجود تھے اور اس حالت کو گمراہی کی حالت قرار دیا گیا اور ان سب گروہوں کو مخاطب کر کے ان کو وعیدیں سنائی گئیں اور ان سب کو ایک دین اسلام اور ایک نام ” مسلمین “ پر جمع ہونے کے لیے کہا گیا لیکن زیادہ وقت نہ گزرا تھا کہ ہمارے اندر وہی گروہ بندی شروع ہوگئی اور یہود و نصاریٰ اور ان کے ضمنی گروہوں سے کہیں بڑھ کر ہمارے مستقل گروہ اور پھر گروہ در گروہ بنتے ہی چلے گئے جس کا نتیجہ آج سب کی آنکھوں کے سامنے ہے کہ پہلے ہم مسلمان کہلانے والے شیعہ اور سنی دو گروہوں میں بٹے پھر شیعوں کے الگ گروہ ہوتے گئے اور سیوں کے الگ اس وقت ہمارے ہر ایک گروہ کے اندر بیسیوں گروہ بن گئے فقط ایک چھوٹی سی جماعت اہلحدیث کو ہی لے لیجئے کہ اس وقت 1998 ء میں سات مستقل جماعتوں میں وہ تقسیم ہے اور ہر جماعت اپنا الگ امیر اور الگ نظام رکھی ہے اور پھر ہر جماعت انہی رسول اللہ ﷺ کے ارشادات کو لے کر اپنے اوپر چسپاں کر کے اپنی جماعت سے الگ ہونے والوں پر فتویٰ صادر کرتی ہے حالانکہ حقیقت میں وہ خود اس فتویٰ کی زد میں اور اس کے نتیجہ سے دوچار ہے۔ بلاریب مسلمانوں کے لیے ضروری اور لازم ہے کہ وہ سب مل کر ایک امیر کی امارت سے وابستہ ہوں اور ان سب کا ایک امام ہو ، ایک نظام ہو ، سارے اسلامی ممالک کے سارے ممالک اس ایک ہی ملک کے الگ الگ صوبے قرار دیئے جائیں۔ دین سب کا ایک اسلام اور اسلام کے اصولوں کی وضاحت یکساں طور پر ان سے تسلیم کرائی جائے اور سب مل کر ایک جماعت قرار پائے اور اس جماعت سے الگ ہونے والوں کے لیے باقاعدہ سزائیں تجویز کی جائیں۔ اسلامی بلاک کا ایک اپنا نظام ہو اور آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ وہی رابطہ ہو جو ایک صوبہ کا دوسرا صوبہ سے ہوتا ہے اور عالم اسلام کا ایک اپنا وفاق ہو جس وفاق کے تحت یہ سارا نظام چلایا جائے جب تک یہ نظام قائم نہیں کیا جاتا اس وقت تک مسلمان ایک جماعت نہیں کہلا سکتے اور جب تک ایک جماعت نہیں کہلاتے جماعتی فوائد ان کو حاصل نہیں ہو سکتے۔ یہ کام ہونا ہے آج بھی اور کل بھی اور بلاشبہ یہ ناگزیر ہے اللہ تعالیٰ عالم اسلام کے راہنماؤں کو اس ایک ہی منہج پر جمع ہونے اور اسی نقطہ پر سوچنے کی توفیق عطا فرمائے تاکہ جماعتی برکتوں سے مسلمان مستفید ہو سکیں اس کے لیے ہماری تجویز یہی ہے جس کا ذکر ہم قبل ازیں کئی ایک مقامات پر کرچکے کہ آل سعود کو جو اس وقت سعودیہ حکومت کے نام سے ایک مملکت رکھتے ہیں ان ہی کو اسلام کا امیر ، صدر یا امیر المومنین یا جو نام بھی اس کا رکھ لیں تسلیم کرلیں اور اس وقت کے سارے اسلامی ممالک اس ایک ملک کے صوبہ جات قرار دیئے جائیں اور صوبائی انتظام اسی وفاق کے تحت چلایاجائے جس میں قومی اتحاد کے ادارے قائم کیے جائیں جس طرح ہر ملک کے لیے ایک الگ سپریم کورٹ ہے اس کو سارے اسلامی ممالک کی ایک سپریم کورٹ بنائی جائے اور اس وقت کی ساری سپریم کروٹیں ہائی کورٹ قرار دی جائیں۔ سارے اسلامی صوبوں میں ضمنی قانون اس طرح بحال رکھتے ہوئے آہستہ آہستہ ایک قدم پر ان کی اصلاح کی جائے تا آنکہ پوری دنیا کے مسلمانوں کے لیے ایک ہی قانون جو کتاب و سنت کا قانون ہے اس پر کاربند بنایا جائے اور اسلامی وسعتوں سے بھرپور فائدہ اٹھایا جائے۔ یہ باتیں جو ہم نے اس جگہ بیان کی ہیں یہی باتیں اس وقت کرنے کی ہیں اور انہی اقدامات کے تحت قوم مسلم ایک قوم بن سکتی ہے لیکن قرآن کریم نے خود اس کی وضاحت فرما دی کہ یہ کام مشرکوں پر بہت بھاری ہے اس لیے وہ کبھی اس بات پر متفق نہیں ہو سکتے ایک بار نہیں اگرچہ سو بار آپ ان کو اس بات کی طرف دعوت دیں۔ دین اسلام کو قبول کرنے کا اصل مطلب ہی یہ ہے کہ وہ اپنے سارے نظاموں سے کٹ کر ایک نظام کے ساتھ وابستہ ہوں اور اپنے سارے رسم و رواج کو جو ایک عرصہ سے ان کے مطابق زندگی بسر کرتے چلے آرہے ہیں ان سب کو جھٹک کر وہ دور پھینک دیں اگرچہ مشرک اس تبدیلی کو کبھی پسند نہیں کریں گے۔ کیا اس سے یہ راز نہیں کھلتا کہ جو اس طرح کے نظام کو ” ایں خیال است و محال است و جنون “ کہہ کر ٹال دے وہی مشرک ہے۔ اب نبی اعظم و آخر ﷺ کو تسلی دی جا رہی ہے کہ آپ ﷺ ان باتوں سے تنگ نہ ہوں اور یہ جو کہتے ہیں ان کو کہنے دیں آپ ﷺ کو اللہ نے پسند کیا ہے اور اپنا آخری رسول آپ ﷺ کو چن لیا ہے تو ان کے نہ ماننے سے کیا ہوگا۔ رسالت ان کے اختیار کی چیز تو نہیں کہ یہ چاہیں گے تو کسی کو دی جائے گی۔ رسالت تو اللہ کے اختیار میں ہے اور وہ جسے چاہتا ہے اس کے لیے چن لیتا ہے اور اپنے قانون کے مطابق جس کو چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے اور وہ اس کے قانون کے مطابق اس کو ملتی ہے جو اللہ رب العزت کی طرف رجوع کرتا ہے اور یہ اس کا قانون ہے کہ تلاش کرنے والا پاتا ہے اور جو وہ اللہ کی طرف توجہ کرتا ہے تاکہ ہدایت حاصل کرے تو ہدایت اس کو دی جاتی ہے۔
Top