Urwatul-Wusqaa - Ash-Shura : 16
وَ الَّذِیْنَ یُحَآجُّوْنَ فِی اللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ مَا اسْتُجِیْبَ لَهٗ حُجَّتُهُمْ دَاحِضَةٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ وَ عَلَیْهِمْ غَضَبٌ وَّ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌ
وَالَّذِيْنَ يُحَآجُّوْنَ : اور وہ لوگ جو جھگڑتے ہیں فِي اللّٰهِ : اللہ کے بارے میں مِنْۢ بَعْدِ : بھلا اس کے مَا اسْتُجِيْبَ : جو لبیک کہہ دی گئی لَهٗ : اس کے لیے حُجَّتُهُمْ : ان کی حجت بازی دَاحِضَةٌ : زائل ہونے والی ہے۔ کمزور ہے۔ باطل ہے عِنْدَ رَبِّهِمْ : ان کے رب کے نزدیک وَعَلَيْهِمْ غَضَبٌ : اور ان پر غضب ہے وَّلَهُمْ عَذَابٌ : اور ان کے لیے عذاب ہے شَدِيْدٌ : سخت
اور جو لوگ اللہ کے بارے میں جھگڑتے ہیں بعد اس کے کہ ان کی بحث و تکرار اللہ کے نزدیک فضول ہے اور ان پر اللہ کا غضب ہے اور ان کے لیے سخت عذاب ہے
جن کا جھگڑا بالکل بےکار جھگڑا ہے ان کا ذکر اور انجام 16 ؎ جو لوگ اللہ تعالیٰ کے بارے میں جھگڑا اور مجادلہ کرتے ہیں ان کے جھگڑنے اور مجادلہ کرنے کا کوئی جواز موجود نہیں ہے۔ اللہ کے بارے میں جھگڑا کس نے کیا اور کیوں کیا اور کیسا کیا ؟ اللہ کے بارے میں جھگڑا سب سے پہلے نبی اعظم و آخر ﷺ کے مخاطبین اوّل قریش نے کیا اور محض اس لیے کیا کہ جو کچھ ان کے آباؤ اجداد اللہ کے بارے میں کہتے آ رہے تھے آپ ﷺ نے اس کے خلاف ان کو اللہ رب ذوالجلال والا کرام کا تعارف کرایا حالانکہ فی نفسہٖ وہ اللہ تعالیٰ کو مانتے تھے لیکن اس کے باوجود انہوں نے سینکڑوں سے بھی متجاوز اپنے حاجت روا اور مشکل کشا بنا رکھے تھے اور پھر ان سے محبت کرنے اور ان کے سامنے سجدہ ریز ہونے کے لیے ان کے بت بنا کر اپنے سامنے رکھتے تھے جس طرح آج کے مشرک بتوں کی بجائے ان بزرگوں کی قبروں اور تصویروں کو سامنے رکھتے ہیں۔ ان کے اس تصور کے خلاف اسلام ان کو یہ تصور پیش کرتا تھا کہ جس ذات کا نام اللہ ہے وہ ہر جگہ موجود ہے لیکن وہ کسی کو بھی ان ظاہری آنکھوں سے اس دنیا میں دکھائی نہیں دیتا کیونکہ وہ کوئی جسمانی چیز نہیں ہے اور یہ بھی کہ وہ جس طرح اپنی ذات میں وحدہ لاشریک لہ ہے اسی طرح اپنی صفات میں بھی وہ واحد اور یکتا ہے۔ اس بات سے وہ منکر تھے اور برملا کہتے تھے کہ اللہ ایسی ذات ہے کہ اس تک پہنچنے کے لیے ہمارے بزرگ واسطہ اور وسیلہ ہیں جب تک ان کی نذر و نیاز دے کر ان کو خوش نہ کیا جائے اس وقت تک اللہ تک رسائی ممکن ہی نہیں۔ ہم یہی بات آج تک سنتے آئے ہیں اور ہمارے باپ دادا ایسا کرتے اور کہتے آئے ہیں لہٰذا تیری یہ بات ہماری سمجھ میں نہیں آتی ہم جو ان بزرگوں کو سجدہ و سلامک رتے ہیں تو محض اس لیے کرتے ہیں کہ یہ ہم کو اللہ کے قریب کردیتے ہیں۔ اسلام نے ان کو یہ تصور دیا کہ اللہ اور اس کے کسی بندہ کے درمیان مطلق دوری اور فاصلہ نہیں ہے کہ اس کے قریب جانے کے لیے کسی واسطہ اور وسیلہ کی ضرورت ہو اس لیے کہ وہ تو انسان کی شاہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے اور یہ بھی کہ وہ ہر انسان کی پکار کو سنتا اور اسے قبول کرتا ہے ضرورت ہے تو صرف اس بات کی کہ اس کے دیئے ہوئے احکامات کی پابندی کی جائے اور سچے دل سے ایمان لا کر پورے یقین کے ساتھ اس کو پکارا جائے۔ فرمایا تعجب ہے ان لوگوں پر جنہوں نے یہ جھگڑا اللہ رب العزت کو ماننے کے بعد کھڑا کردیا حالانکہ یہ بات کوئی نئی بات نہیں تھی جو ہمارے رسول محمد رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمائی بلکہ یہ تو وہی بات تھی جو سیدنا نوح (علیہ السلام) سے لے کر سیدنا مسیح (علیہ السلام) تک سارے نبی و رسول کہتے آئے تھے اس لیے کہ سب نے وحدت خداوندی کا اعلان کیا اور اللہ تعالیٰ کی ذات کے سوا دوسرے معبودوں کی نفی کی جس کا مطلب یہ ہے کہ آپ ﷺ کی آمد کے وقت جتنے گروہ موجود تھے ان کے اسلاف تک یہ بات پہنچائی جا چکی تھی لیکن اس کے باوجود انہوں نے اس کو یاد نہ رکھا اور اپنی اختراعی اور من گھڑت باتیں کرتے رہے لیکن ان کو اتنا خیال بھی نہ آیا کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں ان من گھڑت اور انہونی باتوں کی کوئی وقعت نہیں ہے۔ انہی من گھڑت دلیلوں کو حجۃ داحضۃ کے الفاظ سے بیان کیا گیا ہے کہ حق کی تردید کے لیے وہ اپنی طرف سے جو گھڑ کر دلائل بیان کرتے ہیں ان کی کوئی حقیقت نہیں کیونکہ وہ کوئی وزن نہیں رکھتے اور نہ ہی عقل و فکر ان کو قبول کرتی ہے۔ بلاشبہ ایسے لوگ اللہ تعالیٰ کے غضب کے مستحق ہیں اور ان کے لیے آخرت میں نہایت سخت وعیدیں بیان کی گئی ہیں۔ اگر یہ لوگ اس روش سے باز نہ آئے تو یقینا ان سے دوچار ہوجائیں گے۔
Top