Urwatul-Wusqaa - Ash-Shura : 17
اَللّٰهُ الَّذِیْۤ اَنْزَلَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ وَ الْمِیْزَانَ١ؕ وَ مَا یُدْرِیْكَ لَعَلَّ السَّاعَةَ قَرِیْبٌ
اَللّٰهُ الَّذِيْٓ : اللہ وہ ذات ہے اَنْزَلَ الْكِتٰبَ بالْحَقِّ : جس نے نازل کی کتاب حق کے ساتھ وَالْمِيْزَانَ : اور میزان کو وَمَا يُدْرِيْكَ : اور کیا چیز بتائے تجھ کو لَعَلَّ السَّاعَةَ : شاید کہ قیامت قَرِيْبٌ : قریب ہی ہو
اللہ ہی ہے جس نے حق کے ساتھ کتاب نازل فرمائی اور میزان بھی اور (اے انسان ! ) تجھے کیا معلوم کہ شاید وہ گھڑی قریب ہی ہو
اللہ تعالیٰ نے اس کتاب کو حق کے ساتھ نازل کیا جو ایک ترازو کی حیثیت رکھتا ہے 17 ؎ کتاب یعنی قرآن کریم کو حق کے ساتھ نازل کرنے سے کیا مراد ہے ؟ راغب اصفہانی (رح) نے بیان کیا ہے کہ الحق للفعل والقول : الواقع بحسب ما یحب و قدر ما یحب و فی الوقت الذی یحب (مفردات) ” کوئی قول اور فعل اسی وقت حق کہلاتا ہے جب کہ وہ اسی طرح پایا جائے جیسے چاہئے ، اس انداز سے پایا جائے جتنا مناسب اور موزوں ہو اور اسی وقت پایا جائے جب اس کی ضرورت ہو۔ “ (قرآنِ کریم { بالحق } کہہ کر اللہ تعالیٰ نے اس حقیقت کو واضح کردیا کہ قرآن کریم آیا اور اس شان سے آیا جو اس کے شایان شان تھی ، ایسے دلائل وبراہین سے مزین ہو کر آیا جن کو عقل سلیم ماننے پر مجبور ہے اور عین اس وقت آیا جب ہر طرف گھپ اندھیرا چھا چکا تھا اور انسانیت کا کارواں دشت ضلالت میں بھٹک رہا تھا اور اسی وقت کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیا آیا جب عقل انسانی اپنی طفولیت کی سرحد عبور کر کے فکرو نظر کی وادی میں قدم رکھ رہی تھی اور انسان کے حواس کو مرعوب کرنے والے دلائل سے کہیں زیادہ عقل و خرد کو مطمئن کرنے والی آیات بینات کی ضرورت تھی اور بلاشبہ قرآن کریم کو میزان بنا کر نازل کیا گیا جس نے حق کو حق اور باطل کو باطل کر دکھایا اور قیامت تک آنے والے انسانوں کے سامنے ایسی میزان رکھ دی جس کے قول میں کمی بیشی ممکن ہی نہیں ، دنیا ترقی کرتے کرتے کہیں سے کہیں پہنچ جائے لیکن اس میزان سے وہ کبھی بےنیاز نہیں ہو سکتی۔ تمام مذاہب عالم کو اس میزان پر رکھ کر تولا جائے گا تو یہ اس کے کھرے اور کھوٹے کو واضح کر دے گی اس طرح یہ آیت گویا گزشتہ آیت 15 کی مزید وضاحت کر رہی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ” مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں تمہارے درمیان عدل و انصاف کروں “ اور انصاف کے لیے جس ترازو کی ضرورت ہوتی ہے وہ کسی سے پوشیدہ نہیں ہے۔ انہی معنوں میں قرآن کریم کو { فرقان } اور { مھیمنٌ} بھی کہا گیا ہے اور یہ بھی کہ اس جگہ صرف قرآن کریم کے لیے یہ لفظ بولا گیا ہے اور سورة الحدید کی آیت 25 میں تمام رسولوں کی طرف کتاب اور میزان نازل کرنے کا ذکر کیا گیا ہے اگرچہ وہ اس وقت کی ان ہی قوموں کے لیے تھی جن کی راہنمائی کے لیے اس کو نازل کیا گیا تاہم ان قوموں نے جو حال ان کتابوں اور میزانوں کا کیا وہ کسی سے پوشیدہ نہیں اور جو حال آج کل اس کتاب و میزان کا کر رہے ہیں وہ اس سے بھی سوا ہے اگر فرق ہے تو صرف اور صرف یہ کہ اس کے متن میں تحریف اب ممکن نہیں جو پہلوں نے دل کھول کر کی ہے جس کا نتیجہ آج بھی دنیا کے سامنے ہے کہ وہ اپنی اصلی زبان میں کہیں نظر ہی نہیں آتیں اب اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ آخری کتاب اس کے آخری رسول محمد رسول اللہ ﷺ کی طرف آ چکی ہے جس کے بعد نہ کوئی نیا اور پرانا رسول آئے گا اور نہ ہی کوئی اور کتاب نازل ہوگی رہا معاملہ قیامت کا جس کے ماننے اور آ دھمکنے سے اہل مکہ کو تعجب ہے اور وہ اس کے آنے پر یقین نہیں رکھتے کچھ عجیب نہیں کہ وہ بالکل قریب ہی آ لگی ہو اور پھر جب یہ بات سب کو ایک ہی جیسی معلوم ہے جس سے کسی ذی عقل کو انکار نہیں کہ جس کی موت آگئی گویا اس کے لیے قیامت آگئی کیا ان کے سامنے کوئی نہیں مرا کہ ان کو اس پر یقین کرنے سے تعجب ہو رہا ہے پھر جس طرح ایک کے لیے موت لازم و ضروری ہے کیا یہ ضروری نہیں کہ اس نظام کائنات کو بھی موت آجائے اور اسی چیز کا نام قیامت ہے اور جس طرح ہر ذی نفس کے لیے اچانک کسی وقت بھی موت کے آجانے کا اندیشہ ہے اسی طرح نظام کائنات کو اچانک کسی وقت موت آ سکنے پر تعجب آخر کیوں ؟ مزید وضاحت کے لیے عزوۃ الوثقی جلد ششم سورة الاحزاب کی آیت 63 کی تفسیر بھی دیکھ لیں۔
Top