جو آخرت کا طالب ہے اس کو دنیا اور آخرت دونوں دی جاتی ہیں
20 ؎ ہر شخص جس چیز کی طلب کرتا ہے اسی چیز کا اس کو طالب کہا جاتا ہے اور سنت اللہ اس معاملہ میں یہ ہے کہ تلاش کرنے والا ہی حاصل کرتا ہے جیسا کہ جوئندہ یا بندہ عام محاورہ ہے۔ اسی اصول کے تحت زیر نظر آیت میں کہا گیا ہے کہ جو شخص آخرت کو طلب کرتا ہے قانون الٰہی کے مطابق اس کو یقینا آخرت ملنی چاہئے اور وہ بہرحال ملے گی اور جو کچھ اس نے آخرت کے لیے کیا ہوگا اگر وہ صحیح کیا ہے تو ہم اس کا بدلہ اس کو اس کی طلب سے بھی بڑھ کردیں گے لیکن اس کے برعکس جو شخص صرف اور صرف دنیا ہی کی طلب رکھتا ہے اس کے لیے دنیا میں وہ سب کچھ ہم نے تیار کر رکھا ہے اور وہ اپنی طلب کے مطابق اس سے حاصل کرتا ہے اور ہم اس کو دنیا میں وافر حصہ دیتے ہیں لیکن اس کے لیے آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہوگا کہ اس نے آخرت کو طلب ہی نہیں کیا گویا اس کے ذہن میں صرف دنیا ہی دنیا ہے اور آخرت کا کوئی تصور ہی نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس نے آخرت طلب نہیں کی پھر اس کو آخر وہ کیوں دیا جائے جس کی وہ طلب نہیں رکھتا اور بلاشبہ کاٹتا وہی ہے جو بوتا ہے اور یہ بھی کہ جو کچھ بوتا ہے وہی کچھ کاٹتا ہے۔ ایسا نہیں ہو سکتا کہ جو بونے والا گندم کے خرمن کھیت سے اٹھائے یا گندم بونے والا جو کے۔ یہ ایک تمثیل ہے جس کو بیان کر کے قانون خداوندی کی ایسی وضاحت کردی ہے کہ ہر شخص اپنی بساط کے مطابق اس سے سبق حاصل کرلے ایک کاشتکار ہل چلانے والے سے لے کر ایک فلاسفر تک سب کے سب حقیقت کو پا لیں۔ اس طرح اس آیت میں محض ایک اصول بتایا اور سمجھایا گیا ہے یہ نہیں کہا گیا کہ آخرت کے طالب کو دنیا بالکل طلب ہی نہیں کرنی چاہئے یا دنیا طلب کرنے والے کو آخرت کا طلب کرنا حرام ہے بحث صرف اور صرف یہ ہے کہ انسان جس چیز کی طلب کرتا ہے اس کو حاصل کرلیتا ہے کیونکہ ہر انسان کے اندر یہ صلاحیت رکھ دی گئی ہے کہ جس چیز کے لیے وہ محنت کرے گا اسی کو حاصل کرسکے گا۔ دوسری جگہ اہل اسلام کو یہ تلقین کی گئی ہے کہ تم دنیا کو بھی طلب کرو اور آخرت کو بھی تاکہ تم کو تمہاری طلب کے مطابق دونوں جگہ اس کا وافر حصہ عطا کیا جائے جیسا کہ ارشاد الٰہی ہے کہ { و منہم من یقول ربنا اتنا فی الدنیا حسنۃ و فی الاخرۃ حسنۃ و قنا عذاب النار اولئک لہم نصیبٌ مما کسبوا واللہ سریع الحساب } (البقرہ 202 , 201 , 2)
” اور ان میں سے کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو دنیا اور آخرت دونوں کی فلاح چاہتے ہیں ، وہ کہتے ہیں اے ہمارے رب ! ہمیں دنیا میں بھی بھلائی دے اور آخرت میں بھی بھلائی عطا فرما اور ہمیں عذاب دوزخ سے بچا لے ، تو یقین کرو ایسے ہی لوگ ہیں جنہیں ان کے عمل کے مطابق دنیا و آخرت کی فلاح میں حصہ ملتا ہے اور بلاشبہ اللہ تعالیٰ کا قانون اعمال کی جانچ میں سست رفتار نہیں ہے وہ ہر انسان کو اس کے عمل کے مطابق جلد ہی نتیجہ دے دینے والا ہے۔ “ دنیا اور آخرت کی طلب کرنے والوں کو ہم نے اہل اسلام کہا ہے ، کیوں ؟ اس لیے کہ آخرت پر پختہ یقین اور دنیا و آخرت دونوں میں صحیح بدلہ دینے والے اللہ ربِّ ذوالجلال والا کرام کے اعتراف ہی کا نام اسلام ہے اور اسی نظریہ کے حامل لوگوں کو اہل اسلام کہا جاتا ہے اور محولہ آیت میں اس اصل عظیم کی پوری وضاحت کردی گئی ہے کہ خدا پرستی اور دینداری کی راہ دنوای معیشت اور دنیوی فلاح و ترقی کے خلاف نہیں ہے بلکہ وہ ایک ایسی کامل زندگی پیدا کرنا چاہتا ہے جس میں دنیا و آخرت دونوں کی سعادتیں موجود ہوں۔ اس سے سمجھ لینا چاہئے کہ اس معاملہ میں یہ ایک عالمگیر گمراہی ہے کہ لوگ یا تو افراط میں پڑجاتے ہیں یا تفریط میں اور ان دونوں ہی صورتوں میں راہ اعتدال گم ہوجاتی ہے یا تو دنیا کا انہماک اس درجہ بڑھ جاتا ہے کہ انسان آخرت سے یک قلم بےپرواہ ہوجاتا ہے یا آخرت کے استغراق میں اس قدر آگے نکل جاتا ہے کہ ترک دنیا اور رہبانیت کا دم بھرنے لگتا ہے لیکن دین حق کی راہ عمل بالکل اعتدال کی راہ ہے اور صحیح اور درست زندگی اسی شخص کی ہے جو اپنے ربِّ کریم سے دنیا اور آخرت دونوں کی سعادتیں چاہتا ہے۔ اس کی وضاحت دوسری جگہ خود قرآن کریم نے کردی ہے۔
جیسا کہ ارشاد الٰہی ہے کہ :
(الاسراء 18:17 تا 20) ” جو کوئی فوری فائدہ اس دنیا میں چاہتا ہے تو جس کو ہم دینا چاہیں اور جتنا دینا چاہیں اسی دنیا میں دے دیتے ہیں پھر آخر کار اس کے لیے جہنم تیار کردی گئی ہے وہ اس میں داخل ہوگا بدحال ٹھکرایا ہوا۔ لیکن جو کوئی آخرت کا طالب ہوا اور اس کے لیے جیسی کچھ کوشش کرنی چاہئے ویسی کوشش کی نیز وہ ایمان بھی رکھتا ہے تو اس کے لیے دائمی کامیابیاں ہیں اور ایسے ہی لوگ ہیں جن کی کوشش مقبول ہوگی۔ ہم ہر ایک فریق کو اپنی پروردگاری بخشائشوں سے دنیا میں مدد دیتے ہیں ان کو بھی جو صرف دنیا ہی کے پیچھے پڑگئے اور ان کو بھی کہ جو آخرت کے طالب ہوئے اور راہ حق پر چلے اور یاد رکھیے کہ آپ کے رب کی بخشش عام کسی پر بھی بند نہیں ہے۔ “ غور کیجئے کہ بات کو کس طرح واضح کردیا گیا اور بتا دیا گ اس کہ نتائج عمل کے لحاظ سے انسانوں کے دو گروہ ہوگئے ہیں ایک گروہ وہ ہے جس کی ساری طلب دنیا کی چند روزہ زندگی ہی کے لیے ہے اور دوسرا گروہ وہ ہے جو یقین رکھتا ہے کہ اس زندگی کے بعد بھی ایک اور زندگی ہے اس لیے اس دوسری زندگی کی سعادت کا بھی وہ طالب ہے جہاں تک دنیا کی زندگی کا تعلق ہے ہمارا قانون یہ ہے کہ دونوں کے آگے یکساں طریقہ پر دنوبی نتائج کا دروازہ کھول دیا ہے اور سب کو کارخانہء ربوبیت کا فیضان مل رہا ہے انہیں بھی جو صرف اور صرف دنیا کے ہو کر رہ گئے ہیں اور انہیں بھی جو آخرت کے طالب ہوئے لیکن جہاں تک آخرت کی سعادتوں کا تعلق ہے پہلے کے لیے محرومیاں ہوں گی ، دوسرے کے لیے کامرانیاں پھر اس حقیقت سے بھی پردہ الٹا دیا کہ سعادت اخروی کی شرائط کیا ہیں ؟ فرمایا دو شرطیں ہیں اول یہ کہ سعادت اخروی کے لیے کوشش کرے لیکن کیسی کوشش ؟ ویسی کوشش جو اس کے لیے صحیح کوشش ہو سکتی ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کی وحی نے واضح کردی ہے دوسری یہ کہ اللہ پر اور اس کی صداقتوں پر ایمان ہو اس سے معلوم ہوگیا کہ آخرت کی سعادت کی کوئی سعی بغیر ان دو شرطوں کے مقبول نہیں ہو سکتی اور یہی زیر نظر آیت کا ماحصل ہے جس کی تفسیر اس جگہ کی جا رہی ہے۔ مزید وضاحت کے لیے عزوۃ الوثقی جلد اول سورة البقرہ کی آیت 202 , 201 جلد پنجم میں سورة بنی اسرائیل کی آیت 18 تا 20 کی تفسیر دیکھ لیں۔