Urwatul-Wusqaa - Ash-Shura : 21
اَمْ لَهُمْ شُرَكٰٓؤُا شَرَعُوْا لَهُمْ مِّنَ الدِّیْنِ مَا لَمْ یَاْذَنْۢ بِهِ اللّٰهُ١ؕ وَ لَوْ لَا كَلِمَةُ الْفَصْلِ لَقُضِیَ بَیْنَهُمْ١ؕ وَ اِنَّ الظّٰلِمِیْنَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ
اَمْ لَهُمْ : یا ان کے لیے شُرَكٰٓؤُا : کچھ شریک ہیں شَرَعُوْا : جنہوں نے مقرر کر رکھے ہیں لَهُمْ : ان کے لیے مِّنَ الدِّيْنِ : دین میں سے مَا لَمْ : جس کی نہیں يَاْذَنْۢ بِهِ اللّٰهُ : اجازت دی ساتھ اس کے اللہ نے وَلَوْلَا : اور اگر نہ ہوتی كَلِمَةُ : بات الْفَصْلِ : فیصلے کی لَقُضِيَ : البتہ فیصلہ کردیا جاتا بَيْنَهُمْ : ان کے درمیان وَاِنَّ الظّٰلِمِيْنَ : اور بیشک ظالم لوگ لَهُمْ : ان کے لیے عَذَابٌ اَلِيْمٌ : عذاب ہے دردناک
کیا ان (کافروں) کے کچھ شریک ہیں جنہوں نے ان کے لیے (اسلام کے خلاف کسی دوسرے) دین کی ایسی راہ ڈالی ہے جس کا حکم اللہ نے نہیں دیا اور اگر فیصلے کی بات نہ ہوتی تو ان میں (کب کا) فیصلہ ہوچکا ہوتا اور بلاشبہ ظالموں کیلئے دردناک عذاب ہے
کیا ان کے لیے ایسے شرکاء بھی ہیں جنہوں نے ان کے لیے دین بنانے کا ذمہ لیا ہے ؟ 21 ؎ { شرعوا } انہوں نے راہ ڈالی شرعٌ سے ماضی کا صیغہ جمع مذکر غائب۔ اس صورت کی آیت 13 میں گزر چکا ہے کہ { شرع لکم من الدین ما وصی بہ نوحاً والذی او حینا الیک } الخ۔ ” اس نے تمہارے لیے دین کا وحی طریقہ مقرر کیا ہے جس کا حکم اس نے نوح کو دیا تھا اور اے پیغمبر اسلام ! ہم نے آپ ﷺ کی طرف اس کو وحی کیا ہے۔ “ اس آیت میں دوسرے کئی ایک نبیوں اور رسولوں کا بھی ذکر کیا گیا ہے جس سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ شریعت انہیں باتوں کا نام ہے جو انبیاء و رسل کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کی طرف سینازل کی گئیں اور ان کے مطابق اعمال کرنے کا انسانوں کو حکم دیا گیا اور زیر نظر آیت نے اس کی مزید وضاحت کرتے ہوئے فرما دیا کہ اگر اللہ کے نبیوں اور رسولوں کے راستہ سے ہٹ کر کسی دوسرے انسان کے بنائے ہوئے راستہ پر چلا جائے تو یہ شرک ہے اور جن کے بنائے ہوئے راستہ کو اختیار کیا جائے ان کو گویا اللہ ربِّ ذوالجلال والا کرام کی صفات میں شریک کرنا ہے خواہ ان کو اپنا حاجت روا اور مشکل کشا نہ سمجھا جائے اور ان کی نذر و نیاز بھی نہ دی جائے اور ان کے نام کے وظیفے بھی نہ پڑھے جائیں۔ بات کتنی صاف اور کتنی واضح ہوجاتی ہے اگر کوئی شخص دیانتداری سے اس کو سمجھنا چاہئے تو اس کا سمجھنا کوئی مشکل نہیں ہے۔ قرآن کریم میں انسانوں کو اجتماعی زندگی گزارنے کے جو طریقے بتائے گئے ہیں ان کو چھوڑ کر غیروں کے طریقوں کے مطابق زندگی بسر کرنا اللہ تعالیٰ کے دیئے ہوئے قانون کو چھوڑ کر غیروں کے دیئے ہوئے قانون کی پابندی کرنا کھلا شرک ہے اور جن کے قانون پر عمل کیا جائے ان کو اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہرانا ہے اگر اس کی یہ وضاحت صحیح اور درس ت ہے تو ایمانداری سے یہ بتایا جائے کہ کیا اس ملک کے حکمران جو حکم چلا رہے ہیں اور جس قانون کے خود پابند ہیں اور اپنی رعایا کو اس کا پلابند کرنا چاہتے ہیں اس سے وہ کھلے مشرک نہیں ہیں جو خود شرک کرر ہے ہیں اور عوام کو اس شرک کرنے پر مجبور کر رہے ہیں اگر حکمران مشرک ہیں اور قانون شرک کا چل رہا ہے تو ملک عزیز کو اسلامی مملکت کہنا کس طرح صحیح ہو سکتا ہے ؟ اگر اس کی یہ وضاحت صحیح نہیں ہے جو اوپر ہم نے عرض کی ہے تو اس کی صحیح وضاحت کردی جائے تاکہ ہماری غلطی دور ہوجائے۔ ہم پورے وثوق سے کہتے ہیں کہ کوئی اس کی ہمت نہیں کرے گا ، کیوں ؟ اس لیے کہ وہ اس کی ہمت کر ہی نہیں سکتا کہ اسلام کو اللہ کا دین کہنے کے باوجود زیر نظر آیت کی تشریح کسی اور طریقہ سے کرسکے اور یہ ثابت کر دے کہ اللہ کے قانون کو چھوڑ کر غیر اللہ کے قانون کی پابندی کرتے رہنے سے اسلامی حکومت متاثر نہیں ہوتی اور اس کو اسلامی حکومت کہا جاسکتا ہے۔ ذرا مزید غور کرو کہ وہ قانون جو اللہ تعالیٰ نے انسانوں کے لیے بنایا اور پھر انبیاء کرام اور رسل عظام کے ذریعہ سے اس کو لوگوں تک بھی پہنچا دیا اس کے باوجود اس قانون کو اگر کسی اسمبلی میں لوگوں کے سامنے پیش کیا جائے تاکہ اس اسمبلی کے ممبر اس کی وضاحت کریں کہ آیا اس کو نافذ کیا جائے یا نہ کیا جائے اور پھر اسمبلی اس کی وضاحت اس طرح کر دے کہ یہ قانون نافذ العمل نہیں تو اس اسمبلی میں اس قانون کا اس مقصد کے لیے پیش کرنا کیا ہے ؟ اس کو نافذ العمل ہونے کے قابل نہ سمجھنے والے ممبران کی حیثیت کیا ہوتی ہے ؟ اس ملک عزیز کے علماء گرامی قدر سے اور مفتیانِ شرع متین سے ایک بار نہیں سو بار پوچھو لیکن وہ نہ تو اس کی وضاحت کر کے اس کو غلط قرار دینے کی جرأت کریں گے اور نہ ہی دلائل سے اس کو غلط ثابت کریں گے۔ ہاں ! زیادہ سے زیادہ وہ جو کچھ کہہ سکتے ہیں وہ یہ ہے کہ ایسے سوالات اٹھانے والے کو مجنون ، پاگل ، سرپھرا ، سحر زدہ اور علاوہ ازیں بہت کچھ کہہ دیں گے اور کچھ نہیں کہیں گے تو ان وقت کے فرعونوں کو کچھ نہیں کہیں گے ، کیوں ؟ اس لیے کہ وہ انہی وقت کے فرعونوں کے ہاتھ قوم کو بیچ کر خود قارون بنے بیٹھے ہیں اور قارون تب ہی قارون رہ سکتا ہے جب فرعون کی ہاں میں ہاں ملائے اور دولت کے ڈھیر جمع کرتا جائے۔ اچھا وقت کے فرعون بھی جو کچھ کرسکتے ہیں کرلیں اور قارون بھی ان کی ہاں میں ہاں ملا کر دولت کے انبار جمع کرلیں لیکن قرآن کریم کے اس حکم کو بھی کان کھول کر سن لیں کہ اللہ نے ان کو ہرگز ہرگز اس کی اجازت نہیں دی۔ یہ لوگ جن قواعد و ضوابط کی پیروی کر رہے ہیں یہ اللہ ربِّ ذوالجلال والا کرام کے بنائے ہوئے نہیں بلکہ انگریز سرکار کے بنائے ہوئے ہیں اور انگریزوں ہی سے انہوں نے حاصل کیے ہیں اور وہی ان کے نگران و محافظ ہیں کہ کہیں یہ لوگ ان کو ترک نہ کردیں اگر اللہ ربِّ کریم کی طرف سے ان کو ایک وقت تک مہلت دینے کا قانون طے نہ پایا ہوتا تو ان کو کبھی کی سزا سنا دی گئی ہوتی لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے ایک فیصلے کا دن مقرر کردیا ہوا ہے اور جب تک وہ دن آ نہیں لیتا یہ لوگ اس مہلت کے دوران جو کرنا چاہتے ہیں کرلیں اور بلاشبہ ان ظالموں کے لیے اللہ نے درد ناک عذاب تیار کر رکھا ہے۔ بہتر ہوتا کہ اور لوگ نہیں تو توحید کے دعویداروں اور شرک کی تردید کرنے والوں کے لیے ضروری تھا کہ وہ متحد ہو کر شرک کی اس بھیانک صورت کا بھی سر کوٹ دیتے لیکن افسوس کہ یہ شرک ان کو راس آگیا اور وہ اپنے شرکاء سے رشوت کھا کر خاموش ہوگئے۔ لیکن اس روز یقینا وہ بھی انہیں مشرکوں کے ساتھ اپنے زمرہ کی قیادت کر رہے ہوں گے اور اس وقت ان کی حالت دیدنی ہوگی ، آگے آنے والی آیت کو بغور پڑھو۔
Top