Urwatul-Wusqaa - Ash-Shura : 28
وَ هُوَ الَّذِیْ یُنَزِّلُ الْغَیْثَ مِنْۢ بَعْدِ مَا قَنَطُوْا وَ یَنْشُرُ رَحْمَتَهٗ١ؕ وَ هُوَ الْوَلِیُّ الْحَمِیْدُ
وَهُوَ الَّذِيْ : اور وہ اللہ وہ ذات ہے يُنَزِّلُ : جو اتارتا ہے الْغَيْثَ : بارش کو مِنْۢ بَعْدِ مَا : اس کے بعد کہ قَنَطُوْا : وہ مایوس ہوگئے وَيَنْشُرُ رَحْمَتَهٗ : اور پھیلا دیتا ہے اپنی رحمت کو وَهُوَ : اور وہ الْوَلِيُّ الْحَمِيْدُ : کارساز ہے۔ دوست ہے، تعریف والا ہے
اور وہی ہے جو لوگوں کے مایوس ہونے کے بعد آسمان سے پانی برساتا ہے اور اپنی رحمت (کا دامن) کشادہ کردیتا ہے اور وہ بڑا کارساز ، بڑی (ہی اچھی) تعریفوں کے لائق ہے
لوگوں کی احتیاج کو پورا کرنے کے لیے بارش کو برساتا ہے تو اللہ تعالیٰ ہی برساتا ہے 28 ؎ انسان جوں جوں ترقی کرتا ہے اس کی ساری ترقیاں اس بات کی دلیل ہیں کہ انسان کہاں سے کہاں پہنچ جائے لیکن اس کی محتاجی کبھی ختم نہیں ہو سیتا۔ وہ جتنے وسائل بروئے کار لاسکتا ہے لاتا جائے اور جتنی ترقیاں کرسکتا ہے کرتا جائے پھر بھی وہ محتاج کام حتاج ہے پھر تعجب ہے کہ جوں جوں ترقی کرتا جائے اس کی احتیاج اسی قدر بڑھتی چلی جائے۔ اس نے اس دنیا کا نظام بھی کچھ اس طرح بنایا ہے کہ انسان کی طلب کبھی ختم نہیں ہو سکتی اِلاّ یہ کہ اس زمین کی مٹی اس کے منہ کو بند کر دے اور وہ کبھی بول ہی نہ سکے۔ غور کرو کہ اس نے دریا بہائے ، نہریں کھودیں ، ٹیوب ویل چلائے لیکن اگر اللہ تعالیٰ بارش کے عمل کو روک دے تو اس کو یہ ساری چیزیں کفایت کرسکتی ہیں ؟ یہ تو ایک مثال ہے اس پر غور کرتے جائیں اور ایک ایک چیز کو سامنے رکھ کر غور کریں یقینا آپ اس نتیجہ پر پہنچیں گے کہ انسان کی احتیاج کبھی پوری نہیں ہو سکتی بلکہ وہ دن بدن بڑھ رہی ہے اور یقینا بڑھتی ہی جائے گی۔ کسی ایک ادنیٰ سے ادنیٰ چیز کو آپ لے لیں اور غور کریں کہ اس ادنیٰ سے اعلیٰ کی طرف اس نے ترقی کی اور ترقی کرتے کرتے فضاؤں کی حدود کو چیرنے لگا لیکن اس ادنیٰ سے ادنیٰ چیز کی احتیاج ابھی تک اس کی ختم نہیں ہوئی مثلاً ایک وقت تھا کہ انسان اونٹ ، گھوڑے ، گدھ ، خچر اور بغلہ کو سواری کے جانور سمجھتا تھا پھر اس نے تانگہ ، بگھی ، سائیکل ، ٹم ٹم ، ریل گاڑی ، موٹر سائیکل ، کاریں ، بسیں وینگیں ، کو چیں ، ہوائی جہاز ، جمبو جیٹ اور بیسیوں نام کی چیزیں ایجاد کیں اور ابھی کرتا ہی چلا جا رہا ہے لیکن کیا اب وہ اونٹ ، گھوڑے ، گدھے ، خچر اور بغلہ سے بےنیاز ہوگیا اور کیا ان کی اس کو کوئی ضرورت نہیں رہی آپ یقین جانیں گے یا نہیں لیکن انسان کو ان ساری چیزوں میں ہر ایک کی احتیاج پہلے سے بھی زیادہ ہے۔ کبھی وہ وقت تھا کہ پوری دنیا کی پیداوار کا انحصار محض بارش پر تھا لیکن انسان نے ترقی کی تو اس نے کنوئیں اور نہریں کھودیں ، نل اور ٹیوب ویل چلائے اور پھر بہت بڑے بڑے ڈیم تیار کیے لیکن کیا اب اس کو بارش کی احتیاج نہ رہی یا وہ پہلے سے بھی زیادہ بڑھ گئی جب کہ اس کی ان ساری ایجادات کا انحصار اس بارش پر ہے۔ اس طرح آپ ایک ایک چیز کو سامنے رکھ کر غور کرتے جائیں اور دیکھتے جائیں تو نتیجہ سب کا یکساں رہے گا۔ اس لیے تم تسلیم کرو نہ کرو لکین یہ مشاہدہ اس بات کی کھلی دلیل ہے کہ کارساز حقیقی صرف اللہ تعالیٰ ہی کی ذات ہے اور وہی انسان کی حمد و شکر کا مستحق ہے جو انسان کی ان ساری احتیاجوں کو پورا کر رہا ہے اور جن چیزوں کے بل بوتے انسان یہ ساری ایجادات کر رہا ہے ان سب کا میٹریل (Material) بھی اسی ربِّ ذوالجلال والا کرام کا تخلیق کردہ ہے اور پھر جس ذہن و دماغ سے انسان نے ان ساری ایجادات کو ایجاد کیا ہے وہ بھی اسی ربِّ کریم کا عطا کردہ ہے اور سب سے بڑھ کر کمال اس ذات بےنیاز کا یہ ہے کہ کوئی اس کی ربوبیت و خالقیت کو تسلیم کرے یا نہ کرے وہ برابر اپنی ان صفات کا مظاہرہ کرتے چلا جا رہا ہے اور کسی کو بھی ان سے محروم نہیں کرتا پھر کیوں نہ کہا جائے کہ سبحان اللہ وبحمدہ سبحان اللہ العظیم۔
Top