Urwatul-Wusqaa - Ash-Shura : 29
وَ مِنْ اٰیٰتِهٖ خَلْقُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَثَّ فِیْهِمَا مِنْ دَآبَّةٍ١ؕ وَ هُوَ عَلٰى جَمْعِهِمْ اِذَا یَشَآءُ قَدِیْرٌ۠   ۧ
وَمِنْ اٰيٰتِهٖ : اور اس کی نشانیوں میں سے ہے خَلْقُ السَّمٰوٰتِ : پیدائش آسمانوں کی وَالْاَرْضِ : اور زمین کی وَمَا : اور جو بھی بَثَّ فِيْهِمَا : اس نے پھیلا دیے ان دونوں میں مِنْ دَآبَّةٍ : جانوروں میں سے ۭ وَهُوَ : اور وہ عَلٰي : پر جَمْعِهِمْ : ان کے جمع کرنے (پر) اِذَا يَشَآءُ : جب بھی وہ چاہے ۔ چاہتا ہے قَدِيْرٌ : قدرت رکھنے والا ہے
اور اس کی نشانیوں میں سے آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنا ہے اور ان جانداروں کا جو اس نے ان میں پھیلا رکھے ہیں اور وہ جب بھی چاہے ان (سب) کو جمع کرلینے پر قادر ہے
زمین کی طرح آسمانوں میں بھی ذی روح اور چلنے پھرنے والی مخلوق موجود ہے 29 ؎ { بثَّ } کا مادہ ب ث ث ہے اور { بثَّ } کا لفظ قرآن کریم میں چار بار استعمال ہوا ہے۔ سورة البقرہ کی آیت 164 ، سورة النساء کی آیت 1 ، سورة لقمان کی آیت 10 میں اور ایک بار اس جگہ سورة الشوریٰ میں اور اس مادہ کے الفاظ قرآن کریم میں جو استعمال ہوئے ہیں { یبثُّ } (الجاثیہ :4) { المبثوث } (القارعہ :4) { مبثوثۃٌ} (الغاشیہ :16) { منبثاًّ } (القواقعہ :6) { بثی } (یوسف :86) صرف ایک ایک بار استعمال ہوئے ہیں۔ بث اس نے بکھیرا ، اس نے پھیلایا۔ بث سے ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب اور دراصل { بث } کے معنی کسی چیز کے پراگندہ کرنے اور ابھارنے کے ہیں اس لیے ہوا سے خاک اڑانے ، غم سے بےقرار ہوجانے اور راز کے افشا کرنے کے لئے { بث } کا استعمال ہوتا ہے اور اس سے بکھیرنے کا مفہوم پیدا کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی یہ بھی ہے کہ اس نے آسمانوں کام نہیں پھر یہی نہیں کہ ان سب کو پیدا کرکے چھوڑ دیا ہے نہیں بلکہ ان سب کا پورا پورا بندوبست بھی کردیا ہے کہ سردی گرمی سے بچنے کا لباس ، ضرورت اور حالات کے مطابق پنجے ، دانت اور نوکدار چونچیں عطا کردی ہیں اور پھر ان سب میں زیادہ کمزور انسان تھا جس کو عقل و فکر اور سمجھو سوچ کی فطری اور طبعی قوت عطا فرما کر سب پر فوقیت عطا کردی ہے اور یہ سب کچھ کرنے والی ذات اللہ وحدہٗ لاشریک لہ جس طرح ان ساری مخلوقات کو پھیلانے پر قادر ہے ان کو جمع کرنے پر بھی قدرت رکھتا ہے اور وہ یقینا جب چاہے گا ان کو اکٹھا کر دے گا۔ بلاشبہ اس کی ساری مخلوقات میں سے اشرف المخلوقات انسان ہے اور جو کچھ اس نے پیدا کیا ہے سب کا سب انسان ہی کے استفادہ کے لیے پیدا کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ کے سامنے اپنے کیے کا جوابدہ ہے تو وہ بھی انسان ہی ہے اور وہی اس بات کا اہل ہے کہ اس کو نیک و بد کا صلہ دیا جائے اور وہ یقینا اس کو دیا جائے گا۔ زیر نظر آیت میں ایک بات مزید قابل غور ہے وہ یہ کہ اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کا ذکرک رنے کے بعد ان دونوں کے درمیان نہیں بلکہ ان دونوں میں چلنے پھرنے والی مخلوق کا ذکر کیا ہے پھر ان دونوں میں سے ایک یعنی زمین میں جو کچھ اللہ تعالیٰ نے چلنے پھرنے والوں میں سے پیدا فرمایا ہے اس کو ہم دیکھ رہے ہیں لیکن آسمانوں میں بھی کیا چلنے پھرنے والی مخلوق یا مخلوقات موجود ہیں ؟ اس سوال کو اکثر و بیشتر مفسرین نے نہیں اٹھایا لیکن بعض نے اٹھایا بھی ہے ” اس کا جواب یہ ہے کہ لفظ سماء جس طرحآسمان کے لیے آتا ہے اس یطرح اس فضا کے لیے بھی آتا ہے جس میں پرندے پرواز کرتے ہیں۔ “ (تدبر ج 7 ص 171) لیکن مودودی (رح) نے تحریر کیا ہے کہ ” یہ کھلا اشارہ ہے اس طرف کہ زندگی صرف زمین پر ہی نہیں پائی جاتی بلکہدوسرے سیاروں میں بھی جانار مخلوق موجود ہے۔ “ (تفہیم ج 4 ص 505) لیکن اس تفسیر سے بہت پہلے مولانا محمد علی لاہوری (رح) نے 1922 ء میں اپنی تفسیر میں تحریر کیا کہ ” اس سے ثابت ہوتا ہے کہ دیگر کرہ ہائے سماوی جانداروں سے خالی نہیں۔ “ (ترجمان القرآن ج 2 ص 1224) اور عبدالماجد دریا بادی (رح) نے تحریر فرمایا کہ ستاروں میں حیوانی آبادی اگر کسی دلیل قوی سے ثابت ہوجائے تو آیت کے معنی پر مزید روشنی پڑجائے گی۔ (تفسیر ماجدی ج 2 ص 972) شبیر احمد عثمانی رقمطراز ہیں کہ ” آیت سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ زمین کی طرح آسمانوں پر بھی جانوروں کی قسم سے کوئی مخلوق پائی جاتی ہے۔ “ (تفسیر عثمانی ص 647) مفتی محمد شفیع (رح) فرماتے ہیں کہ ” اور یہ بھی ممکن ہے کہ آسمانوں میں کچھ ایسے جانور موجود ہوں جو ابھی تک انسان کے علم میں نہیں آئے۔ “ (معارف القرآن ج 7 ص 701) مسلمان سائنس دانوں کے لیے ابھی بہت گنجائش موجود ہے اس وقت تک جو ظاہر ہوا ہے بلاشبہ وہ بھی حیران کن ہے لیکن ابھی بہت ظاہر ہونے والا ہے۔ ہم دعاگو ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہمارے مسلمان سائنس دان کو بھی توفیق دے کہ وہ قرآن کریم کے ایسے ایشاروں پر خوب دھیان دیں اور جس بات کو اب علمائے اسلام بھی دبی زبان سے کہہ رہے ہیں اس کو زیادہ کھلی زبان سے کہنے پر قدرت حاصل کریں۔ اللہ تعالیٰ کی اس کائنات میں ابھی نہ معلوم کتنی مخلوق ہے جو ظاہر نہیں ہوئی اور جب وہ ظاہر ہوگئی تو کیا کیا نئے انکشافات ہوں گے عین ممکن ہے کہ انسان اس خوراک کا محتاج نہ رہے اور اس کی زندگی کا باعث کسی اور طرح کی خوراک موجود ہو اور انسان کو اس طرح کی فکر معاش نہ رہے پھر اس طرح تبدیلیاں ہوتے ہوتے وہ بالکل ہی ایک مختلف نظام کی طرف منتقل ہوجائے۔ جی چاہتا ہے کہ کچھ مزید کہہ دیا جائے لیکن شاید اس کا ابھی وقت نہیں آیا۔ آنے والے مسافروں کے لیے بھی کچھ باقی رہنا چاہئے۔ بلاشبہ قرآن کریم ابدی کتاب ہدایت ہے اور یہ بات بھی اپنی جگہ صحیح اور درست ہے کہ اب اس کے اشارات بہت تیزی سے کھلتے جا رہے ہیں اور صدیوں کی تبدیلیاں اب سالوں میں رونما ہو رہی ہیں لیکن مسلمان قوم ابھی تک بیدار نہیں ہوئی اگرچہ ہم اس سے کہہ رہے ہیں کہ ع قم قم یا حبیبی کم تنام
Top