Urwatul-Wusqaa - Ash-Shura : 30
وَ مَاۤ اَصَابَكُمْ مِّنْ مُّصِیْبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ اَیْدِیْكُمْ وَ یَعْفُوْا عَنْ كَثِیْرٍؕ
وَمَآ اَصَابَكُمْ : اور جو بھی پہنچتی ہے تم کو مِّنْ : کوئی مُّصِيْبَةٍ : مصیبت فَبِمَا كَسَبَتْ اَيْدِيْكُمْ : پس بوجہ اس کے جو کمائی کی تمہارے ہاتھوں نے وَيَعْفُوْا : اور وہ درگزر کرتا ہے عَنْ كَثِيْرٍ : بہت سی چیزوں سے
اور جو مصیبت تم پر پڑتی ہے وہ تمہارے اپنے ہاتھوں کی کمائی کا بدلہ ہے اور (اللہ تو) بہت سے گناہ معاف بھی کردیتا ہے
جو مصیبت بھی انسانوں پر آتی ہے وہ ان کے اپنے ہی ہاتھوں کی کمائی کا نتیجہ ہے 30 ؎ ” تم پر جو مصیبت بھی آتی ہے تمہارے اپنے ہاتھوں کی کمائی سے آتی ہے “۔ یہ فیصلہ اللہ تعالیٰ کے قانون مشیت کا ہے جو اس دار فانی کے لیے بنایا گیا ہے جو نیک و بد اور امیر و غریب سب کے لیے یکساں ہے اور یہ تمام انسانوں کی اجتماعی زندگی کا فیصلہ ہے جو { اصابکم } اور { کسبت ایدیکم } کے الفاظ بالکل واضح ہے اور اس میں سمجھایا گیا ہے کہ اس دار فانی کی معاشرتی زندگی میں ہر انسان دوسرے انسان کے عمل سے متاثر ہوتا ہے اور ایسا بھی ہوتا ہے کہ ” الف “ کا عمل ” ب “ سے ” ی “ تک سب کو متاثر کر دے اور ” الف “ پر اس کا کوئی اثر نہ پڑے گا جس طرح دار فانی کے لیے وہ ضروری نہیں ٹھہرایا اور نہ ہی وہ ضروری ٹھہرایا جاسکتا تھا ، کیوں ؟ اس لیے کہ اس دار فانی ہی میں یہ قانون ضروری ٹھہرایا گیا ہوتا تو آخرت کی زندگی انسان کے لیے ضروری نہ ہوتی بلکہ بالکل بےفائدہ ٹھہرتی۔ اس قانون کے تحت آخرت کی زندگی لازم ٹھہری ہے کہ ہر عامل کا عمل فقط اس کو متاثر نہیں کرتا بلکہ اس سے دوسرے متاثر ہوتے ہیں ، ہم دیکھتے ہیں کہ ایک ظالم ظلم کرتا ہے اور ساری زندگی ہی کرتا رہتا ہے ، اس کے ظلم سے بیسیوں ، سینکڑوں ، ہزاروں اور بعض اوقات لاکھوں اور کروڑوں انسان متاثر ہوتے ہیں اس طرح گویا عمل مکافات بھی اس کے سامنے بےکار ہو کر رہ جاتا ہے اس لئے ضروری تھا کہ اس کے لیے اپنے اس کیے کی سزا پانے کے لئے کوئی اور ماحول ، کوئی اور جگہ اور قانون ہوتا۔ اسلام نے ہم کو بتایا کہ اس دن کا نام قیامت کا دن ہے وہ دن جب قائم ہوگا نہ دنیا یہ دنیا ہوگی اور نہ آسمان یہ آسم انہوں گے بلکہ سارے کا سارا نظام ہی بدل دیا گیا ہو گا اور وہی دن ہے کہ اس دارالعمل کے کیے ہوئے اعمال کا بدلہ پورا پورا ہر عامل کو ملے گا یہ معاملہ اس دارالعمل میں اس لیے ضروری نہیں تھا کہ یہ دارالجزا ہی میں انسان کو مل سکتا تھا اور اس غرض کے لیے دارالجزا مقرر کیا گیا ہے اگر دارالعمل ہی میں ہر عامل کو اس کے عمل کہ بدلہ دیا جاسکتا ہوتا تو پھر دارالجزا کی ضرورت آخر کیا تھی ؟ یہی بات انبیاء کرام اور رسل عظام سمجھانے کے لیے آئے تھے وہ ساری ساری زندگی دکھوں ، مصیبتوں میں کاٹتے رہے اور اللہ کا یہ پیغام لوگوں تک پہنچاتے رہے لوگ ان پر طرح طرح کے ظلم کرتے وہ لوگوں کے ہاتھوں قتل تک ہوتے رہے لیکن انہوں نے قتل ہونا اور جان دینا گاوارا کیا اور اس پیغام سیوہ باز نہ آئے کیونکہ ان کو دارالجزا کا پختہ یقین تھا اس لیے اپنی انفرادی ذمہ داری پوری کرتے رہے چونکہ وہ انسان تھے اس لیے دوسرے انسانوں ہی کے اعمال سے متاثر ہوتے رہے اور ظالموں کے ظلم کو برداشت کرتے رہے۔ بہرحال زیر نظر آیت میں یہی بات تفہیم کرائی گئی ہے کہ اس دارالعمل میں انسان کے ہر اچھے یا برے عمل سے دوسرے انسان بھی متاثر ہوتے ہیں اور بلاشبہ اچھے اعمال کا اچھا اثر رہتا ہے اور برے کا برا اور چونکہ ہر عامل کو اسی دارالعمل میں اس کا بدلہ دیا جانا ممکن نہیں تھا اس لیے اس کے لیے ایک دارالجزا مقرر کردیا گیا ہے پھر اس کی مزید وضاحت کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ ابھی انسانوں کے بہت سے اعمال ایسے ہیں جن سے درگزر کرتا رہتا ہے کہ ان سے متاثر نہیں ہونے دیتا بلکہ اس کے اثر سے محفوظ کردیتا ہے اور بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ اس کا اثر بالکل اس کے خلاف ہوتا ہے جو عمل کرنے والے کی نیت میں ہوتا ہے اور اس کی بیشمار مثالیں ہم روزمرہ زندگی میں دیکھتے رہتے ہیں۔ ایک آدمی ٹائم بم بڑی احتیاط کے ساتھ رکھتا ہے اور اس کی نیت میں یہ بات ہوتی ہے کہ فلاں مقام پر جہاں اس نے وہ ٹائم بم رکھا ہے اتنے آدمی یا فلاں فلاں آدمی اس کی زد میں آئے گا لیکن معلوم ہوجاتا ہے اور اس ٹائم بم کو پھٹنے سے پہلے کنٹرول کرلیا جاتا یا رکھنے والے سے کوئی بےاحتیاطی ہوجاتی ہے کہ وہ وقت پر نہیں پھٹتا یا جس کو مارنے کے لیے وہ سب کچھ کرتا ہے اس کا ارادہ وہاں جانے کا بدل جاتا ہے بہرحال جو وہ چاہتا ہے وہ نہیں ہو پاتا۔ غور کرو گے تو ہزاروں باتیں اور ہزاروں اعمال آپ کو ایسے مل جائیں گے جن کے متعلق قرآن کریم نے صرف دو الفاظ بول دیئے ہیں کہ { ویعفوا عن کثیر } بہت سے قصوروں سے وہ ویسے درگزر کرجاتا ہے۔ ہمارے مفسروں نے اس آیت کا مفہوم سمجھنے میں ٹھوکر کھائی ہے اور یہ سمجھے ہیں کہ شاید اس جگہ ہر انسان کے انفرادی عمل کا جو اس پر اثر پڑتا ہے یہ اس کا بیان ہے حالانکہ زیر نظر آیت میں اس کا ذکر مطلق نہیں ہے یہ حکم عام ہے اس میں کسی کو مسیٰن قرار نہیں دیا گا اور پوری انسانیت کو مخاطب کر کے ارشاد فرمایا گیا ہے۔ یہ بات نہ سمجھنے کے باعث مفسرین کو جو پریشانیاں لاحق ہوئی ہیں اور جس طرح وہ ادھر ادھر چکر کاٹتے رہے ہیں اس کا بیان بہت لمبا ہے مثلاً ایک صاحب تحریر کرتے ہیں کہ ” یہ خطاب کفار سے ہے جن کو اس دنیا میں جو تکلیفیں بھی پہنچتی ہیں ان کے اعمال کی پاداش ہی میں پہنچتی ہیں… اس آیت کا تعلق انبیاء ، صدیقین اور صالحین سے نہیں ہے ان کو جو مصائب پیش آتے ہیں وہ ان کے اعمال کی سزا کے طور پر نہیں بلکہ ابتلاء کے طور پر پیش آتے ہیں جن سے مقصود ان کے صبر کا امتحان ہوتا ہے اور یہ امتحان ان کے مدارج کی بلندی کا ذریعہ بنتا ہے۔ “ ایک بزرگ اس طرح رقمطراز ہیں کہ : ” مزید توحیج کے لیے یہ بیان کردینا بھی ضروری ہے کہ جہاں تک مومن مخلص کا تعلق ہے اس کے لیے اللہ کا قانون اس سے مختلف ہے اس پر جو تکلیفیں اور مصیبتیں بھی آتی ہیں وہ سب اس کے گناہوں ، خطاؤں اور کوتاہیوں کا کفارہ بنتی چلی جاتی ہیں۔ “ ان کو یہ توضیح کیوں کرنی پڑی اس لیے کہ وہ آیت کا مفہوم اس طرح سمجھے جیسا کہ انہوں نے تحریر کیا کہ ” واضح رہے کہ یہاں تمام انسانی مصائب کی وجہ بیان نہیں کی جا رہی بلکہ روئے سخن ان لوگوں کی طرف ہے جو اس وقت مکہ معظمہ میں کفر و نافرمانی کا ارتکاب کر رہے تھے ان سے فرمایا جا رہا ہے کہ اگر اللہ تمہارے سارے قصوروں پر گرفت کرتا تو تمہیں جیتا ہی نہ چھوڑتا۔ “ ایک صاحب بیان کرتے ہیں کہ ” اس آیت میں ایسے لوگوں کی آنکھوں سے غفلت کا پردہ اٹھایا جا رہا ہے اور انہیں کہا جا رہا ہے کہ ذرا اپنے اعمال نامے پر ایک سرسری نظر ڈالو ، ذرا اپنے گریبان میں جھانکو یہ حقیقت خود عیاں ہوجائے گی کہ تمہیں تمہارے کرتوتوں کی سزا مل رہی ہے اللہ تعالیٰ تو بڑا کریم ہے اس نے تمہاری بیشمار غلطیوں اور سرکشیوں کو معاف کردیا ہے اگر تمہیں تمہاری بدکاریوں کی پوری سزا دی جاتی تو تمہارا نام و نشان بھی مٹ گیا ہوتا۔ “ ایک بزرگ ارشاد فرماتے ہیں کہ ” یہ خطاب عاقل بالغ لوگوں کو ہے گنہگار ہوں یا نیک مگر نبی اس میں داخل نہیں (اور نہ ہی چھوٹے بچے شامل ہیں) ان کے واسطے اور کچھ ہوگا۔ “ ایک صاحب زیر نظر آیت کے تحت فرماتے ہیں کہ ” یہ آیت ان لوگوں کے لیے مخصوص ہے جن سے گناہ سرزد ہو سکتے ہیں انبیاء (علیہ السلام) جو گناہوں سے معصوم ہیں یا نابالغ بچے اور مجنون جن سے کوئی گناہ نہیں ہوتا ان کو جو تکلیف و مصیبت پہنچتی ہے وہ اس حکم میں داخل نہیں اس کے دوسرے اسباب اور حکمتیں ہوتی ہیں۔ “ ہم نے ان حوالوں میں مفسرین کرام اور تفاسیر کا حوالہ نہیں دیا لیکن یہ وہی تفاسیر ہیں جو متداول ہیں اور پیچھے بہت سے مقامات پر ان کے حوالے دیتے ہی آ رہے ہیں جو قارئین ان کا مطالعہ کرچکے ہیں یا کریں گے ان پر تفصیل واضح ہوجائے گی ہم کو سب کا احترام ہے اگر ہم اختلاف رکھتے ہیں تو اس کا کوئی یہ مطلب یہ سمجھے کہ ہمارے دل میں ان کا احترام نہیں ہے۔ ہاں ! ہم اندھی تقلید کے قائل نہیں اور اختلاف کے وقت ناموں کے ذکر کی کوئی ضرورت نہیں ہے اور نہ ہی ہم اس کو مناسب سمجھتے ہیں صرف اپنی تفہیم بیان کردینا کفایت کرتا ہے۔ یہ قارئین کی صوابدید ہے کہ وہ اگر ہمارے مفہوم سے متفق نہیں تو چاہیں جس تفہیم سے وہ متفق ہیں اس کو درست اور ہمیں غلط کہہ دیں ہماری التجا صرف یہ ہے کہ وہ جو کچھ کہیں وہ دلیل کے ساتھ کہیں اور ہمیں بھی آگاہ کردیں۔ ہم ان شاء اللہ اس پر مزید غور کرنے کے لیے ہر وقت تیار ہیں جب تک اس دنیا میں موجود ہیں۔ اللہ کے نیک بندوں ، صالحین و متقین لوگوں یہاں تک کہ نبیوں اور رسولوں کو اس دنیا میں جن مصائب وپریشانیوں میں مبتلا ہونا پڑا بلاشبہ وہ انسانوں ہی کے اعمال کے باعث تھا اور ان نیک لوگوں کے مخالفین و معاندین سارے کے سارے انسان ہی تھے اور جنس انسانی ہی سے ان کا تعلق تھا انہوں نے ان کو محض اس لیے یہ تکالیف پہنچائیں اور یہاں تک کہ ان میں سے بعض کو قتل بھی کردیا کہ وہ ان کو برائیوں سے روکتے اور منع کرتے تھے ان کو توحید الٰہی کا درس دیتے تھے جو ان کو پسند نہیں تھا چونکہ دنیا کی طاقت ، دولت اور ثروت ان کے پاس تھی ، انہوں نے ان سہاروں کے باعث ان پر بہت مظالم ڈھائے اور اللہ کے نیک بندے اللہ کی رضا کے لیے ان کو برداشت کرتے رہے اور یہ ظلم و ستم ڈھانے والے اس دنیا میں عذاب الٰہی سے دوچار ہوئے اور آخرت بھی ان کی برباد ہوگئی کہ یقینا آخرت ہی میں ان کے برے عمل کی پوری پوری سزا دی جائیگی۔ رہی وہ تکلیفیں اور بیماریاں جو انسانوں ، حیوانوں ، بچوں ، بوڑھوں ، نیکوں اور بدوں کو طبعی طور پر آتی ہے تو ان میں بھی انسانوں کے اعمال کا دخل ہوتا ہے ہماری سمجھ میں آئے یا نہ آئے تاہم اس میں اللہ تعالیٰ کا ایک طبعی قانون ہے جو اپنا کام کر رہا ہے انسانوں کو ان چیزوں کا تدارک کرتے رہنا چاہئے جتنا کہ وہ کرسکتے ہیں۔ اعمال تو بہرحال اعمال ہیں اگر ذرا غور کیا جائے تو انسانوں کے نظریات ایک دوسرے کو متاثر کرتے ہیں جو مرئی چیز نہیں ہیں۔ ہم اس وقت جس عذاب میں مبتلا ہیں وہ محض نظریات کا لایا ہوا عذاب ہے کہ مخالفین اسلام نے نہایت گہری سازش کے تحت ہماری قوم کو ایسے نظریات دیئے ہیں جنہوں نے ہماری سیاست اور مذہب دونوں کو سخت گزند پہنچائی ہے اور ان کی پوری ہیئت بدل کر رکھ دی ہے۔
Top