Urwatul-Wusqaa - Ash-Shura : 33
اِنْ یَّشَاْ یُسْكِنِ الرِّیْحَ فَیَظْلَلْنَ رَوَاكِدَ عَلٰى ظَهْرِهٖ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّكُلِّ صَبَّارٍ شَكُوْرٍۙ
اِنْ يَّشَاْ : اگر وہ چاہے يُسْكِنِ الرِّيْحَ : تھما دے ہوا کو فَيَظْلَلْنَ : تو وہ ہوجائیں۔ رہ جائیں رَوَاكِدَ : تھمی ہوئی عَلٰي ظَهْرِهٖ : اس کی پشت پر اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ : یقینا اس میں لَاٰيٰتٍ : البتہ نشانیاں ہیں لِّكُلِّ : واسطے ہر صَبَّارٍ : بہت صبر کرنے والے شَكُوْرٍ : بہت شکرگزار کے لیے
اگر وہ (اللہ) چاہے تو ہوا کو ساکن کر دے پھر جہاز سمندر کی سطح پر کھڑے رہ جائیں بلاشبہ ان (باتوں) میں ہر صبر و شکر کرنے والے کے لیے (بڑی ہی) نشانیاں ہیں )
اللہ تعالیٰ صرف ہوا کو رُک جانے کا حکم دے تو انسان کا سارا نشہ ہرن ہو جائے 33 ؎ اللہ ربِّ ذوالجلال جس کے قبضہء قدرت میں ہر ایک چیز ہے کہ اگر وہ ہوا کو ساکن کر دے اور اس کے اس قدرتی دباؤ اور حرکت کو روک دے تو انسان کا سارا نشہ اتر جائے کیونکہ نہ رہے بانس نہ بجے بانسری۔ ہوا ہی کے انحصار پر انسان زندہ ہے اور یہ ہوا ہی کے کردار کے باعث سارا کھیل کھیلا جا رہا ہے۔ ہوا ساکن ہوجائے تو یہ تمہاری کشتیاں پانی کی سطح پر اس طرح رک جائیں کہ کسی قسم کی حرکت کر ہی نہ سکیں۔ اللہ کرے کہ انسان کے حالات سازگار ہی رہیں اور ناسازگار نہ ہوجائیں ورنہ انسان کا سارا کیا کرایا کھیل ختم ہو کر رہ جائے گا۔ بلاشبہ انسان آج بھی خواہ وہ کتنا ترقی پذیر ہوچکا ہے لیکن حالات کی ناسازگاری سے اس کو واسطہ پڑتا ہی رہتا ہے اگر وہ غور و فکر کرے تو کتنی ہی نشانیاں ہیں جو اس کی اصلاح کے لیے کفایت کرتی ہیں۔ غورو فکر کرنے والوں کے لیے اس مثال کو اس طرح بھی بیان کیا جاسکتا ہے
Top