Urwatul-Wusqaa - Ash-Shura : 36
فَمَاۤ اُوْتِیْتُمْ مِّنْ شَیْءٍ فَمَتَاعُ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۚ وَ مَا عِنْدَ اللّٰهِ خَیْرٌ وَّ اَبْقٰى لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَلٰى رَبِّهِمْ یَتَوَكَّلُوْنَۚ
فَمَآ اُوْتِيْتُمْ : پس جو بھی دیے گئے تم مِّنْ شَيْءٍ : کوئی چیز فَمَتَاعُ : تو سامان ہے الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا : دنیا کی زندگی کا وَمَا عِنْدَ اللّٰهِ : اور جو اللہ کے پاس ہے خَيْرٌ : بہتر ہے وَّاَبْقٰى : اور زیادہ باقی رہنے والا ہے لِلَّذِيْنَ : ان لوگوں کے لیے اٰمَنُوْا : جو ایمان لائے وَعَلٰي رَبِّهِمْ : اور اپنے رب پر يَتَوَكَّلُوْنَ : وہ توکل کرتے ہیں
اور تم کو جو دیا گیا ہے وہ دنیوی زندگی کے برتنے کے لیے ہے اور جو کچھ اللہ کے پاس ہے وہ بہتر ہے اور باقی رہنے والا ہے (یہ) ان لوگوں کے لیے (ہے) جو ایمان لائے اور اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہیں
دنیا کیا ہے ؟ چار دن کی چاندنی پھر اندھیری رات 36۔ انسان کو جو کچھ دیا گیا اور جو کچھ اس نے ایجاد کیا اس کی حقیقت ہی آخر کیا ہے ؟ یہی کہ جو چار دن کی زندگی اس کو دی گئی ہے اس نے اسی ادھیڑ بن میں خرچ کردی ادھر سے اٹھاتا اور ادھر لگاتا رہا اور اس نے بہت ہی کچھ کامیابی حاصل کی تو یہی کہ دولت و ثروت کے ڈھیر اکٹھے کر لئے۔ رہنے کے لیے کو ٹھیاں اور محل تعمیر کیے ، قلعے اور بارہ دریاں تعمیر کرلیں ، سواری کے لیے ریل گاڑیاں ، کاری ، بسیں اور ہوائی جہاز تیار کیے۔ روشنیوں کے لیے توانائی پیدا کی اور قمقمے جلا لیے لیکن آخر یہ جو کچھ ہے اس سب کی حقیقت کیا ہے ؟ یہی کہ چار دن کی زندگی کی آسانیاں پیدا کرلیں اور یہ چار دن تو ٹھاٹھ باٹھ سے گزار لیے کیا ان میں سے کوئی ایسی چیز بھی ہے جو اس کے لیے آخرت میں نفع رساں ہو سکتی ہو ؟ بلاشبہ ان ایجادات کو وہ اللہ کا فضل سمجھے جس اللہ نے اس کو پیدا کیا اور اس کے لیے اس سارے میٹریل (Material) کو بنایا ، اس کی معرفت حاصل کرنے کے لیے وہ یہ سب کچھ کرتا تو اس کی دنیا روشن ہونے کے ساتھ ساتھ اس کی آخرت بھی سنور جاتی کہ اس نے اللہ کی دی ہوئی عقل الہل کی دی ہوئی اشیاء ، اللہ کی دی ہوئی صلاحیت کے ساتھ ان کو جوڑ کر ایک چیز ایجاد کی جس سے اس کو بھی فائدہ حاصل ہوا اگرچہ وہ عارضی ہے اور اس کے ابنائے جنس کو بھی فائدہ پہنچا تو یقینا یہی ایجادات اس کے لیے بھلائی کا باعث ہو سکتی تھیں لیکن بدقسمتی سے اس نے سارا کمال اپنا ہی سمجھا اور یہی کہتا رہا کہ میں نے ایسا کیا تو ایسا ہوگیا ، میں نے یہ کیا اور میں نے وہ کیا حالانکہ جو اس نے کیا اس سارے کیے کا انحصار اسی ذات پر تھا جس نے یہ سب کچھ پیدا کیا لیکن بدبخت نے اس ذات کو بھلا دیا اور اس حیقتد کو سمجھنے کی کوشش نہ کی کہ یہ جو کچھ ہے وہ ذات الٰہی سے ہے اور مجھے جو کچھ ملا ہے وہ اور یہ بھی کہ جو کچھ میں نے ایجاد کیا ہے اس سب کی حقیقت بہرحال فنا ہے اور باقی اس کو رہنا ہے جو سب سے اول تھا جو اس ساری کائنات کے نظام کو بنانے اور چلانے والا ہے۔ اسی نظریہ کا نام ایمان تھا اور یہ دولت لازوال اس کو حاصل ہوجاتی تو جس طرح اس کی دنیا سنورتی اس کی آخرت بھی درست ہوجاتی اور وہی اس کا ملجا و مادیٰ ہوتا اور اس ذات الٰہ پر وہ توکل کرتا اور بلاشبہ صاحب ایمان اسی پر توکل اور بھروسہ کرتے ہیں۔
Top