Urwatul-Wusqaa - Ash-Shura : 38
وَ الَّذِیْنَ اسْتَجَابُوْا لِرَبِّهِمْ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ١۪ وَ اَمْرُهُمْ شُوْرٰى بَیْنَهُمْ١۪ وَ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَۚ
وَالَّذِيْنَ اسْتَجَابُوْا : اور وہ لوگ جو حکم مانتے ہیں لِرَبِّهِمْ : اپنے رب کا وَاَقَامُوا الصَّلٰوةَ : اور قائم کرتے ہیں نماز وَاَمْرُهُمْ : اور ان کے معاملات شُوْرٰى بَيْنَهُمْ : آپس کے مشورے سے ہوتے ہیں وَمِمَّا رَزَقْنٰهُمْ : اور اس میں سے جو رزق دیاہم نے ان کو يُنْفِقُوْنَ : وہ خرچ کرتے ہیں
اور ( ان کے لیے) جو اپنے رب کا حکم مانتے ہیں اور نماز قائم کرتے ہیں اور ان کا ہر کام آپس کے مشورے سے ہوتا ہے اور جو ہم نے ان کو دیا ہے اس میں سے (ہماری راہ میں) خرچ کرتے ہیں (مال و دولت ہو یا علم و عرفان)
38 ؎ ایمان والے وہ لوگ ہیں جو اپنے رب کے احکام مانتے ہیں اس حکم میں الفاظ صرف دو ہیں لیکن انسان کی پوری زندگی پر یہ دونوں الفاظ مکمل طور پر محیط ہیں یعنی ایمان لانے والوں کی ایک نشانی یہ بھی ہے کہ وہ ایسے لوگ ہیں جب ان کو معلوم ہوجائے کہ اللہ نے اس کام سے منع کیا یا یہ کہ اللہ نے اس کام کے کرنے کا حکم دیا ہے تو پھر نہ تو وہ اپنی مرضی اور خواہش کی پیروی کرتے ہیں کہ اللہ کے حکم کو چھوڑ کر وہ اپنی مرضی پر تل جائیں اور نہ ہی غیر اللہ میں سے کسی کی خواہش کا وہ احترام کرتے ہیں خواہ کون ہو ، کہاں ہو اور کیسا ہو۔ قرآن کریم میں اگر آپ اس کی مثال دیکھنا چاہیں تو فرعون نے جو موسیٰ (علیہ السلام) کے مقابلہ کے لیے ساحران مصر اکٹھے کیے تھے ان کی مثال دیکھ لیں وہ حق کا مقابلہ کرنے کے لیے بلائے گئے تھے اور ان کو کامیابی حاصل کرنے کے بعد فرعون کے ہاں قبولیت حاصل ہونے کا انعام ملنا تھا لیکن جب وہ حق کے مقابلہ میں آئے تو ان پر اس وقت حق روشن ہوگیا اور اپنا باطل صاف نظر آنے لگا اور پھر صرف انہیں کو نہیں بلکہ خود فرعون کو بھی اور اس کے سارے لاؤ لشکر کو بھی حقیقت صاف نظر آگئی نتیجہ یہ نکلا کہ فرعون اور اس کا لاؤ لشکر مع اس کے اعوان و انصار سارے کے سارے باطل پر جم گئے لیکن ان کے مقابلہ میں وہ ساحر سچے دل سے ایمان لاتے ہوئے اللہ ربِّ ذوالجلال والا کرام کے سامنے سجدہ ریز ہوگئے اور موسیٰ (علیہ السلام) کے حق پر ہونے کا اعلان کردیا ، پھر کیا ہوا ؟ یہی کہ فرعون نے ان کو بڑھک مارتے ہوئے سخت عذاب کی دھمکی سنا دی اور ان اللہ کے بندوں پر اسلام کا ایسا نشہ چڑھا کہ انہوں نے فرعون کو دو ٹوک لفظوں میں جواب سنایا کہ { فاقض ما انت قاضٍ } جو تُو کرنا چاہتا ہے کرلے اب ہم اللہ تعالیٰ کے حکم سے باز نہیں آسکتے۔ اے فرعون ! تو کیا کرے گا ؟ یہی کہ ہم کو دنیا کے عذابوں میں سے کسی سخت عذاب میں مبتلا کر دے گا ، ایک بار نہیں تو سو بار اپنا شوق پورا کر ہم کو جو ایمان کا نشہ چڑھا ہے اس کو اتارنے کے لیے اس دنیا میں تیرے پاس کوئی شے نہیں ہے اب تو ہمارے ساتھ جو معاملہ بھی کرے گا وہ ہمارے نشہ کو مزید دوبالا کرے گا اور پھر دنیا نے دیکھا جو انہوں نے کہا تھا کتنا سچ تھا فرمایا اسلام کے احکام کے وہ اس طرح پابند ہوجاتے ہیں کہ ہر حکم پر جان دیتے ہیں اور اس کی ظاہری علامت کو آپ دیکھنا چاہیں تو ان کی نماز ، ان کی ظاہری حالت کو واضح کردیتی ہے کہ وہ کسی حال میں بھی نماز کو ترک نہیں کرتے یعنی عبادت الٰہی میں وہ بہت تیز گام ہیں جو احکام خداوندی کی پابندی کرنے کی پہلی علامت ہے جو سارے انسانوں کو ظاہر نظر آتی ہے۔ اس طرح اقامت صلوٰۃ کے لیے جو الفاظ قرآن کریم میں استعمال ہوئے ہیں ان میں { قمتم } ایک بار { اقام } دو بار { اقاموا } 10 بار { اقمت } ایک بار { اقمتم } ایک بار { یقیموا } تین بار { یقیمون } چھ بار { اقمن } ایک بار { اقیمو } سولہ بار استعمال ہوا ہے اور جہاں بھی یہ لفظ استعمال ہوا ہے اس سے مراد صرف نماز پڑھنا نہیں بلکہ نماز قائم کرنا ہے اس لیے ذرا غور کرنا چاہئے کہ قیام صلوٰۃ کیا ہے ؟ نماز کا قیام بلاشبہ ایمان کا ذائقہ ، روح کی غذا اور دل کی تسکین کا سامان ہے مگر اس کے ساتھ ساتھ وہ مسلمانوں کے اجتماعی ، اخلاقی ، تمدنی اور معاشرتی اصلاحات کا بھی کارگر آلہ ہے۔ نبی اعظم و آخر ﷺ کے ذریعہ سے اخلاق و تمدن اور معاشرت کی جتنی اصلاحیں وجود میں آئی ہیں ان کا بڑا حصہ نماز کی بدولت حاصل ہوا ہے۔ اس کا اثر ہے کہ اسلام نے ایک بدوی ، وحشی اور غیر متمدن ملک کو جس کو پہننے اور اوڑھنے کا سلیقہ بھی نہ تھا چند ہی سال میں ادب و تہذیب کے اعلیٰ معیار پر پہنچا دیا اور آج بھی اسلام جب افریقہ کے وحشی سے وحشی ملک میں پہنچ جاتا ہے تو وہ کسی بیرونی تعلیم کے بغیر صرف مذہب کے اثر سے مہذب و متمدن ہوجاتا ہ۔۔ متمدن قوموں میں جب وہ پہنچ جاتا ہے تو ان کے تخیل کو بلند سے بلند تر ، پاکیزہ سے پاکیزہ تر بنا دیتا ہے ، ان کو اخلاص کی وہ تعلیم دیتا ہے جس کے سبب سے ان کا وہی کام جو پہلے مٹی تھا اب اکیسر بن جاتا ہے اس لیے ہم کو معلوم کرنا چاہئے کہ نماز کے اخلاقی ، تمدنی اور معاشرتی فائدے کیا ہیں ؟ 1۔ نماز کے فائدوں میں سے ابتدائی چیز ” سترپوشی “ ہے انسان کا شرم و حیا کی نگہداشت کے لیے اپنے جسم کے بعض حصوں کو چھپانا نہایت ضروری ہے۔ عرب کے بدو اس تہذیب سے ناواقف تھے بلکہ شہروں کے باشندے بھی اس سے بےپرواہ تھے یہاں تک کہ جب غیر قریش عورتیں حج کے لیے آتی تھیں تو اپنے کپڑے اتار دیتی تھیں اور اکثر ننگی ہو کر طواف کرتی تھیں اسلام آیا تو اس نے ستر پوشی کو ضروری قرار دیا یہاں تک کہ بغیر اس ستر پوشی کے اس کے نزدیک نماز درست نہیں ہے ارشاد الٰہی ہے کہ { خذوا زینتکم عند کل مسجدٍ } (الاعراف 31:7) ہر نماز کے وقت اپنا مکمل لباس پہنو ! یہ لباس مردوں کے لیے کم از کم ناف سے گھٹنوں تک اور عورتوں کے لیے پیشانی سے لے کر پاؤں تک چھپانا ضروری ہے۔ اس تعلیم نے جاہل عربوں کو اور جہاں جہاں اسلام گیا وہاں کے برہنہ باشندوں کو ستر ڈھانپنے پر مجبور کیا اور نماز کی تاکید نے دن میں پانچ دفعہ ان کو اس فرض سے آشنا کر کے ہمیشہ کے لیے ان کو سترپوش بنادیا۔ افریقہ اور ہندوستان میں مسلمانوں اور غیر مسلمانوں کے لباس پر ایک نظر ڈالنے سے یہ معلوم ہو سکتا ہے کہ اسلام نے تمدن کے اس ابتدائی سبق میں دنیا کی کتنی بڑی مدد کی۔ دوسری طرف متمدن قومیں زیب وزینت اور حسن و آرائش اور تمدن کی بےاعتدالی سے بےحیائی پر اتر آئی ہیں۔ مرد گھٹنوں سے اونچا لباس اور عورتیں نیم برہنہ یا نہایت باریک لباس پہنتی ہیں نماز ان کی بھی اصلاح کرتی ہے اور ان متمدن قوموں کو اعتدال سے تجاوز نہیں کرنے دیتی عورتوں کو تیز خوشبو لگاکر مسجد میں جانے سے منع فرمایا گیا اور بےحیائی کے لباس پہننے سے عموماً روک دیا ہے اور واضح کردیا ہے کہ ستر عورت کے بغیر نماز درست نہیں ہے۔ 2۔ نماز کا دوسرا فائدہ طہارت اور پاکیزگی اختیار کرنا ہے تمدن کا دوسرا ابتدائی سبق طہارت اور پاکیزگی ہے جو اسلام کے اولین احکام میں سے ہے۔ { اقراِ } کے بعد دوسری وحی الٰہی میں آپ ﷺ کو حکم دیا گیا { وثیابک فطہر } (المدثر :4) اور اپنے کپڑوں کو بھی پاک رکھو۔ چناچہ اسلام نے اس طہارت اور پاکیزگی کے اصول مقرر کیے اور نبی اعظم و آخر ﷺ نے اپنی تعلیمات سے اس کے حدود متعین فرمائے اور نماز کی درستی کے لیے یہ ضروری قرار دیا کہ انسان کا بدن ، اس کے کپڑے اور اس کی نماز پڑھنے کی جگہ نجاستوں اور آلودگیوں سے پاک ہوں۔ اہل عرب کو دوسری وحشی قوموں کی طرح طہارت و نظافت کی مطلق تمیز ہی نہ تھی یہاں تک کہ ایک بدو نے مسجد نبوی میں آ کر سب کے سامنے بیٹھتے ہوئے پیشاب کردیا۔ صحابہ ؓ اس کو مارنے کے لیے دوڑے۔ آپ ﷺ نے ان کو روکا اور وہ بدو جب پیشاب سے فارغ ہوگیا تو آپ ﷺ نے اسے اپنے پاس بلا کر نہایت شفقت اور پیار سے فرمایا کہ ” یہ نماز پڑھنے کی جگہ ہے اس قسم کی نجاستوں کے لیے یہ جگہ نہیں ہے۔ “ اور صحابہ ؓ سے فرمایا کہ اس نجاست پر پانی بہا دو ۔ اسی طرح آپ ﷺ نے نجاستوں سے اپنے بدن ، کپڑے اور مکان کو صاف رکھنے کی تعلیم دی جو صحابہ ؓ طہارت کا اہتمام کرتے تھے اللہ تعالیٰ نے ان کی مدح قرآن کریم میں بیان فرمائی { فیہ رجالٌ یحبون ان یتطہروا واللہ یحب المطہرین } (التوبہ :108) ” اور کچھ لوگ اس میں ایسے بھی ہیں جو پسند کرتے ہیں کہ وہ پاک اور صاف رہیں اللہ تعالیٰ پاک و صاف رہنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔ “ اس طرح اسلام نے طہارت و پاکیزگی کو اللہ تعالیٰ کی دوستی کا ذریعہ ٹھہرایا ہے تو ظاہر ہے کہ مسلمان ہو کر اس نعمت سے محرومی کو کون پسند کرسکتا ہے۔ 3۔ نماز انسان کو اپنے جسم کو پاک رکھنے پر مجبور کرتی ہے دن میں عموماً پانچ دفعہ ہر نمازی کو منہ ، ہاتھ اور پاؤں جو اکثر کھلتے رہتے ہیں ان کو دھونے کی تاکید ہے۔ اسی طرح ناک میں پانی ڈال کر اس کو صاف کرنا ہوتا ہے ، مسواک ضروریاتِ دین میں سے ہے۔ دنیا میں اسلام کے سوا اور کوئی دین نہیں جس نے ناک میں پانی ڈالنا ضروری قرار دیا ہو جب کہ طبی حیثیت سے بھی یہ سب سے زیادہ اہم اور ضروری چیز ہے۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اسلام کے احکام کس قدر طبی اصولوں کے موافق ہیں نمازیوں کو پنج وقتہ وضو کی ہدایت اور اہمیت اس وقت اور بھی بڑھ جاتی ہے جب یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ حکم اس جگہ نازل ہوا جہاں پانی کی ضرورت شدید تھی۔ جتنا بھی آپ غور کرتے جائیں گے تو اس کی افادیت خود بخود کھلتی چلی جائے گی۔ وضو کرنے والوں کو دانتوں کی صفائی اور مسواک کرنے کی خاص ہدایت دی گئی اور جمعہ کے لیے غسل لازم قرار دیا گیا اور اس طرح ازدواجی تعلق یا اس طرح کی کوئی ضرورت پیش آنے سے بھی غسل کو فرض قرار دیا گیا اور صاف ستھرے کپڑے پہننے اور خوشبو لگانے کی ہدایت کی گئی۔ 4۔ نماز میں پابندی وقت لازم اور ضروری ٹھہرائی گئی یہ بات آج انسان نے تسلیم کی ہے کہ انسان کی کامیاب عملی زندگی کا سب سے بڑا راز یہ ہے کہ اس کے تمام کام مقررہ اوقات پر انجام پائیں۔ انسان فطرتاً آرام پسند اور راحت طلب پیدا ہوا ہے۔ اس کو پابند اوقات بنانے کے لیے ضروری ہے کہ اس کے بعض کاموں کے اوقا لازم مقرر کیے جائیں جیسا کہ کاروبار کے کاموں میں آپ کو یہ اصول نظر آتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ انسان اپنے دوسرے کاموں کے اوقات بھی ان کی خاطر مقرر کرلیتا ہے اور اس طرح اس کی زندگی باقاعدہ ہوجاتی ہے اور اس کا وقت فضول برباد نہیں ہوتا۔ نماز کے اوقات چونکہ مقرر ہیں اس لیے وہ لوگ جو نماز کے پابند ہیں خصوصاً نماز باجماعت کے ان کے اوقات خود بخود منظم ہوجاتے ہیں۔ وقت پر سونا اور وقت پر اٹھنا ان کے لیے ضروری ہوتا ہے۔ بخاری شریف میں سلمان فارسی کا ایک مقولہ درج ہے کہ ” نماز ایک پیمانہ ہے جس نے اسے پورا ناپا اس کو پورا ناپ کردیا جائے گا اور اس نے ناپنے میں کمی کی تو تمہیں کم ناپنے والوں کو سزا ملے گی۔ “ (بخاری کتاب الصلوٰۃ باب مایکرہ من السمر بعد العشاء) 5۔ رات کو جلدی سونے اور صبح جلدی اٹھنے پر نماز مجبور کرتی ہے آپ اگر طب اور حفظان صحت کے اصولوں کو دیکھیں گے تو معلوم ہوگا کہ رات کو جلدی سونا اور صبح کو طلوع آفتاب سے کچھ وقت پہلے بیدار ہوجانا جس درجہ ضروری ہے وہ آج کسی سے بھی مخفی نہیں ہے اور جو لوگ نماز باجماعت کے پابند ہیں وہ اس اصول کی خلاف ورزی کبھی نہیں کرسکتے کیونکہ جب تک رات کو جلدی سونے کی عادت نہیں بنائی جائے گی صبح کو جلدی آنکھ نہیں کھلے گی۔ پیغمبر اسلام ﷺ نے رات کو جلدی سونے اور صبح کو جلدی اٹھنے کی خاص تاکید فرمائی اور صبح کی اذان میں (الصلوٰۃ خیر من النوم) کے الفاظ کہلوائے تاکہ لوگ سنتے ہی خواب بستر کو چھوڑ دیں۔ 6۔ نماز اللہ تعالیٰ کے ڈر سے خوفزدہ کرتی ہے ایک مسلمان جو نماز پڑھتا ہے جب کسی بشری غلطی سے یا انسانی کمزوری سے اس کے قدم ڈگمگا جاتے ہیں تو فوراً رحمت الٰہی کی طرف متوجہ ہوتا ہے اور وہ یقینا اپنی طرف متوجہ ہونے والوں کو سہارا دیتا ہے اس طرح کی کتنی ہی باتیں آپ اپنے خیال میں لاسکتے ہیں اور آپ یقین کامل کرسکتے ہیں کہ نماز فی الواقع اللہ تعالیٰ کے ڈر سے انسان کو خوف دلاتی ہے اور برائیوں سے بچنے کا سبب بنتی ہے جیسا کہ ارشاد الٰہی ہے کہ { ان الصلوٰۃ تنہی عن الفحشاء المنکر } (العنکبوت 45:29) ” بلاشبہ نماز بےحیائی اور بری باتوں سے روکتی ہے۔ “ 7۔ نماز سے عقل و فکر تیز ہوتی ہے اور تدبرفی الامور کی عادت بنتی ہے نماز انسان کی عقل کو ہوشیار اور چاک و چوبند کردیتی ہے۔ بیداری اور آیات الٰہی میں تدبر اور غور کرنا تسبیح و تہلیل اور اپنے لیے دعائے مغفرت کا نام ہے اس لیے وہ تمام چیزیں جو انسان کی عقل و ہوش اور فہم و ادراک کو کم کرتی ہیں وہ نماز کی حقیقت کے منافی ہیں اس سے قبل بھی جب کہ ابھی شراب کو حرام قرار نہیں دیا گیا تھا نشہ کی حالت میں نماز سے منع کیا گیا تھا جیسا کہ عروۃ الوثقی کی جلد دوم میں سورة النساء کی آیت 43 میں ہم اس کی وضاحت کرچکے ہیں۔ اس لیے یہ تسلیم کرلینا چاہئے کہ ایک نماز کا پابند آدمی ایسی چیزوں سے جو اس کی عقل و ہوش کو گم کردیں قطعاً پرہیزکرے گا۔ 8۔ نماز کے ایک ایک رکن پر غور کرو ، اس کی اہمیت واضح ہوجائے گی نماز کیا ہے ؟ قیام ، رکوع ، قومہ ، سجدہ ، تشہد جیسی حرکات کا مجموعہ ہے۔ وقت کی پہچان قبلہ رخ ہونا اور اپنی ایک مخصوص حالت بنانا لوازماتِ نماز میں ان ارکان پر انفرادی طور پر غور کرو اور پھر ان کی اجتماعیت کی طرف دھیان لے جاؤ اور نبی اعظم و آخر ﷺ کا ارشاد بھی پڑھو جب آپ ﷺ نے فرمایا کہ ” جس نے ہمارا ذبیح کھایا اور ہمارے قبلہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھی وہ مسلمان ہے۔ “ (بخاری باب فضل استقبال القلبہ) اس طرح باطل کو شکست سے دوچار کرنا اور حق کی خاطر لڑنا انسان کا فرض ہے اس فرض کے انجام دینے کے لیے انسان کو ہر وقت تیار رہنا چاہئے۔ آپ غور کریں گے تو معلوم ہوجائے گا کہ اس تیاری کا نقشہ ہماری روزانہ کی نمازیں ہیں۔ حدیث میں ہے کہ آپ ﷺ کا لشکر جب پہاڑی پر چڑھتا تھا تو تکبیر اور جب نیچے اترتا تھا تو تسبیح کہتا تھا اور نماز اسی طریقہ پر قائم کی گئی۔ “ (ابوداؤد) ایک بار غور کرو کہ یہ صف بندی ، امام کی اطاعت ، تمام سپاہیوں کی باہم محبت و مؤدت ، ایک تکبیر کی آواز پر سب کی حرکتیں اور نشست و برخاست ، جاڑوں میں نمازوں کے لیے وضو کرنا ، گرمیوں میں ظہر کے وقت کڑکڑاتی دھوپ میں نکل آنا ، رات کو سونے سے پہلے دعا وزاری کرنا ، صبح کو خواب رحمت کی لذت کو چھوڑ کر حمد باری میں مصروف ہونا یہ سب نماز کے ارکان ہیں جو ہم کو بہت سبق سکھاتے ہیں۔ 9۔ اصلاح اخلاق اور الفت و محبت کا مجموعہ نماز ہے نماز اصلاح اخلاق کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ تمام عبادات میں صرف نماز ہی ایک ایسی چیز ہے جو نفس کو بیدار رکھ سکتی ہے کیونکہ وہ دوسری عبادت کے مقابلہ میں ایک ایسی عبادت ہے جو ایک دن میں پانچ بار ادا کرنا پڑتی ہے۔ ہر وقت وضو کرنا پڑتا ہے اور ایک جگہ جمع ہو کر ایک دوسرے سے گفتگو کا مواقع فراہم کرتا ہے اس سے باہمی الفت و محبت پیدا ہوتی ہے ایک محلہ جو معاشرت کی ایک ابتدائی یونٹ ہے اس کے لوگوں کو پانچ بار ایک مسجد میں جمع ہونا ہوتا ہے جس سے بیگانگی دور ہوتی ہے اور آپس میں محبت و الفت پیدا ہوتی ہے ایک دوسرے کی حالت کا صحیح علم ہوتا ہے۔ مالدار غریب کو پہچان لیتا ہے پھر اس کی مدد کے لیے بغیر اس کے سوال کیے تیار ہوجاتا ہے۔ قرآن کریم کو پڑھنے اور اس کے مطابق عمل کرنے کی توفیق میسر آتی ہے۔ اس طرح نماز مسلمانوں میں باہمی ہمدردی و غم خواری کا ذریعہ بھی بنتی ہے اور ایک دوسرے کے دکھ درد میں شریک ہونے کا موقع بھی فراہم ہوتا ہے۔ 10۔ اجتماعیت ایک فطری چیز ہے اور اجتماع نماز کا اہم رکن ہے اجتماعیت ایک فطری چیز ہے اس لیے تمام قوموں نے اس کے لیے مختلف اوقات اور تہوار مقرر کیے ہیں جن قوموں کو مذہبی قیود سے آزاد خیال کیا جاتا ہے ان میں بھی اس اجتماعیت کی نمائش کلبوں ، کانفرنسوں اور اسی طرح کے دوسرے جلسے جلوسوں اور مظاہروں سے کی جاتی ہے لیکن اس قسم کی ساری اجتماعیت سے جو ” فائدے “ پہنچتے ہیں ان کو مدنظر رکھا جائے تو ان کے نقصانات زیادہ ہوں گے اور فوائد بہت کم کیونکہ ان اجتماعات میں کیا ہوتا ہے ؟ رنگ رلیاں ، رقص و سرود ، شراب نوشی ، قمار بازی ، چوری ، بدنظری ، رشک و سرود ، شراب نوشی ، قمار بازی ، چوری ، بدنظری ، رشک و حسد اور سب سے بڑھ کر بدکاری اور قتل و غارت اور یہی کچھ ان میلے ٹھیلے ، عرسوں ، ہولیوں وغیرہ اور قبروں پر اجتماعات اور ان ساری بدعات میں کیا ہے ؟ پیسے ، وقت ، اخلاق کا سرا سر نقصان ہی نقصان ہے لیکن اسلامی اجتماعات میں کیا ہے ؟ پنج وقتہ نماز ہے۔ صلوٰۃ الجمعہ ہے۔ صلوٰۃ العیدین ہے لیکن ان سارے اجتماعات کا ماحصل کیا ہے اللہ اکبر اللہ اکبر لا الٰہ الا اللہ واللہ اکبر اللہ اکبر وللہ الحمد۔ سمع اللہ لمن حمدہ۔ اللہ اکبر کی صدائیں ہیں اور ایک دوسرے کے ساتھ سلام و مصافحہ اور خیریت معلوم کرنا ہے اور علاوہ ازیں ایک نظم و ضبط کا مظاہرہ ہے ، مساوات کا درس عظیم ہے۔ اطاعت و فرمانبرداری کا ایک پختہ عزم ہے۔ نماز کی امامت کے لیے جس افضیلت کا خیال پیدا ہوتا ہے وہ افضلیت کسی سے پوشیدہ نہیں ہے اور یہی وہ چیزیں تھیں جنہوں نے عرب کی روحانی کایا پلٹ دی۔ جن کی پیشانی کبھی ربِّ ذوالجلال والا کرام کے سامنے نہ جھکی تھی وہ عرب جن کا دل اللہ ربِّ کریم کی پرستش سے لذت آشنا نہ تھا۔ وہ جن کی زبان اللہ کریم کی تسبیح وتحمید کے ذائقہ سے واقف نہ تھی۔ وہ عرب جن کی آنکھوں نے کبھی شب بیداری کا اضطراب انگیز منظر نہیں دیکھا تھا محمد رسول اللہ ﷺ کی پاک تعلیم نے ان کی کایا پلٹ کر رکھ دی۔ قرآنِ کریم نے عربوں کی اس حالت کا اکثر ذکر کیا ہے (1) عربوں کی وہ حالت جو اسلام سے پہلے تھی وہ یہ تھی کہ { ولا یذکرون اللہ الا قلیلاً } (النساء :142) ” اور وہ اللہ تعالیٰ کو یاد نہیں کرتے تھے مگر تھوڑا۔ “ دعوت حق اور فیض نبوت کے اثر سے ان کی یہ شان نمایاں ہوگئی کہ دنار کی کاروباری مشغولیتیں بھی ان کو یاد الٰہی سے غافل نہ رکھ سکیں جیسا کہ ارشاد الٰہی ہے کہ : { رجالٌ لا تلہیہم تجارۃٌ ولا بیعٌ عن ذکر اللہ } (النور :37) ” ایسے لوگ ہیں جن کو کاروبار اور خریدو فروخت کا شغل اللہ تعالیٰ کی یاد سے غافل نہیں کرتا۔ “ { یذکرون اللہ قیاماً و قعوداً و علی جنوبہم } (آل عمران :191) ” وہ لوگ ہیں کہ اللہ کو اٹھتے ، بیٹھتے اور لیٹتے یاد کرتے ہیں۔ “ وہ ایسے لوگ ہوگئے کہ راتوں کو جب غافل دنیا نیند کے خمار میں ہوتی ہے وہ بستروں سے اٹھ کر اللہ ربِّ کریم کے سامنے سربسجود اور راز و نیاز میں مصروف ہوتے ہیں۔ جیسا کہ ارشاد الٰہی ہے کہ : { تتجافی جنوبہم عن المضاجع یدعون ربہم خوفاً و طمعاً } (السجدہ :16) ” جن کے پہلو راتوں کو خوابگاہوں سے علیحدہ رہتے ہیں اور وہ خوف اور امید کے ساتھ اپنے پروردگار کو پکارتے ہیں۔ “ (2) وہ عرب جن کا یہ حال تھا کہ { واذا قیل لہم ارکوا لا یرکعون } (مرسلات :48) ” اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اللہ کے سامنے جھکو تو نہیں جھکتے۔ “ اب ان کی حالت یہ ہوگئی کہ : { ترہم رکعاً سجداً یبتغون فضلاً من اللہ و رضواناً } (الفتح :29) ” تم ان کو دیکھتے ہو کہ وہ رکوع میں جھکے ہوئے اور سجدہ میں پڑے ہوئے اللہ کے فضل اور خوشنودی کو تلاش کرتے ہیں۔ “ (3) وہ عرب جن کے دلوں کا یہ حال تھا کہ { واذا ذکر اللہ وحدہ اشمازت قلوب الذین لا یومنون بالاخرۃ } (الزمر :45) ” اور جب تنہا اللہ تعالیٰ کا نام لیا جاتا ہے تو ان کے دل جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے تنگ پڑنے لگتے ہیں۔ “ آفتاب نبوت کے پَر تو نے ان کے دلوں کے آئینوں میں خشیت الٰہی کا جوہر پیدا کردیا کہ ان کی کایا پلٹ کر رکھ دی جیسا کہ ارشاد الٰہی ہے کہ : { الذین اذا ذکر اللہ وجلت قلوبہم } (الانفال :2 ، الحج :25) ” وہ لوگ ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ کا نام لیا جاتا ہے تو انکے دل دہل (ڈر ) جاتے ہیں۔ “ یہ قرآن کریم کی شہادتیں ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی اعظم وآخر ﷺ کے عمل اور تعلیم نے عرب کی روحانی کائنات میں کتنا عظیم الشان انقلاب پیدا کردیا تھا وہ تمام لوگ جو حلقہ بگوش اسلام ہوچکے تھے خواہ وہ کھیتی باڑی کرتے ہوں یا تجارت یا محنت مزدوری مگر ان میں سے کوئی چیز ان کو اللہ تعالیٰ کی یاد سے غافل نہیں کرتی تھی۔ قتادہ ؓ کہتے ہیں کہ یہ لوگ خریدو فروخت اور تجارت کرتے تھے لیکن جب ربِّ کریم کا کوئی معاملہ پیش آتا تھا تو یہ شغل و عمل ان کو یاد الٰہی سے غافل نہیں کرتا تھا بلکہ وہ اس کو پوری طرح ادا کرتے تھے (صحیح بخاری باب التجارۃ فی البز مرسلاً ) اور حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ ایک دفعہ وہ بازار میں تھے کہ نماز کی تکبیر ہوئی تو صحابہ ؓ نے فوراً دکانیں بند کردیں اور مسجد کی طرف بڑھنے لگے۔ (فتح الباری ج 4 ص 253 بحوالا عبدالرزاق) قرآنِ کریم میں جہاں کہیں { اقیموا الصلوۃ ا } کا حکم دیا گیا ہے وہاں { اتو الذکوۃ } کا حکم ساتھ آیا ہے لیکن زیر نظر آیت میں اس کے خلاف { اقاموا الصلوۃ وامرہم شوری بینہم و مما رزقنہم ینفقون } کے الفاظ آئے ہیں گویا قیام صلوٰۃ کے ساتھ اپنے معاملات مشورہ سے چلانے کا حکم دیا ہے اور اس کے لیے اللہ کے دیئے ہوئے مال سے اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنے کی ہدایت ہے۔ گویا اقامت صلوٰۃ اور اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کے درمیان اسلامی مشاورت کا حکم لایا گیا ہے جس سے غالباً اس حکم کی اہمیت کو ظاہر کرنا ہے کہ یہ معاملہ اتنا ہی اہم ہے جتنا کہ قیام صلوٰۃ اور انفاق فی سبیل اللہ میں یہ بھی کہ اس کی حدود میں اتنی ہی وسعت ہے جتنی کہ اقامت صلوٰۃ اور انفاق فی سبیل اللہ میں ہے۔ پھر یہ بھی کہ یہ سورت مکی ہے جب یہ حکم دیا گیا تھا اس وقت اگرچہ اس کا دائرہ محدود تھا لیکن جب مدنی دور آیا تو جس طرح باقی دائروں میں وسعت پیدا ہوئی اس دائرہ میں بھی وسعت پیدا ہوئی اور نظام اسلام پر اس کے بہت گہرے اثرات پڑے اور اس کی حدود متعین کی گئیں۔ اس کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا یہاں تک کہ اسلام کا سیاسی نظام مکمل طور پر شورائی مقرر کیا گیا جس کی شہادت نبی اعظم و آخر ﷺ کی مدنی زندگی ہے اور آپ ﷺ کے بعد خلفائے راشدین کا نظام مملکت بھی اسی ہدایت کے مطابق شورائی تھا لیکن اس جگہ ہم اس کی وضاحت سے قاصر ہیں کیونکہ یہ مضموناتنا وسیع ہے کہ اس کو چند صفحات میں بیان نہیں کیا جاسکتا اور اگر اس کے بعض پہلو بیان کیے جائیں تو نئی نئی بحثیں پیدا ہوں گی جن سے طرح طرح کے خدشات پیدا ہونے کا امکان ہے اس موضوع پر کسی دوسری جگہ گفتگو ہوگی۔ ان شاء اللہ العزیز۔ اس وقت اتنا بتا دینا ضرکوری ہے کہ وہ احکام جو امرو نہی کی صورت میں قرآن کریم میں وضاحتاً آ چکے ہیں ان کو بجا لانے ، ان کو نافذ کرنے اور منو عن اسی طرح رکھنے کا حکم ہے۔ ایسے احکام میں ملک کے کسی فرد یا جماعت یا حکومت کو یہحق نہیں پہنچتا کہ وہ اس معاملہ میں مشورہ کرے بلکہ ان پر مشورہ کرنا ان کو موضوع بحث بنانا اور جرح و قدح کرنا حرام بلکہ اسلام سے خارج ہونے کے مرادف ہے۔ ہاں ! احکام اومرو نواہی میں سے کوئی حکم واضح نہ ہو یا کسی فرد ، جماعت یا حکومت کو وہ مبہم نظر آتا ہو تو اس کی وضاحت کی یا کرائی جاسکتی ہے تاکہ اس امرونہی میں جو ابہام کسی کو نظر آیا ہے اس کا ازالہ ہوجائے۔ رہا مشورہ تو وہ ان ہی امور میں ہو سکتا ہے جو انسان کے درمیان بحث و مباثہ سے طے کرنا ضروری ہوں یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کو طے نہ کردیا ہو اور ایک سے زیادہ جتنے انسانوں کا ان کے ساتھ وابستہ ہونا واضح ہو وہ سب اس مشورہ میں شریک ہوں خواہ نمائندگی کے لحاظ سے خواہ بذاتہٖ اور اسی طرح غیر متعلق امور پر بحث سوائے دل لگی یا وقت گزاری کے اور کوئی حیثیت نہیں رکھتی۔ مثلاً یہ طے ہے کہ ” اللہ ایک ہے “ اب کسی معلم ، کسی فرد ، جماعت یا حکومت کو یہ حق نہیں کہ اس کو بحث کا موضوع بنا کر کسی دوسرے فرد ، جماعت یا حکومت کے ارکان آپس میں اس مشورہ کے لیے مل بیٹھیں کہ اللہ ایک ہے یا دو تین ؟ تو اس معاملہ میں کسی مسلم کو بھی مشورہ کی اجازت نہیں ایسا مشورہ کرنا حرام بلکہ اسلام سے خارج ہونے کے مرادف ہے اس طرح یہ طے ہے کہ ” محمدرسول اللہ ﷺ اللہ کے رسول اور خاتم النبیین ہیں “ اب کسی معلم ، کسی فرد ، جماعت یا حکومت کو یہ حق نہیں کہ اس کو بحث کا موضوع بنا کر کسی دوسرے فرد ، جماعت یا حکومت سے مل کر مشورہ کے لیے بیٹھیں کہ کیا محمد رسول اللہ ﷺ اللہ کے رسول اور خاتم النبین ہیں یا نہیں ؟ تو اس معاملہ میں کسی مسلم کو بھی مشورہ کی اجازت نہیں کیونکہ یہ امر طے شدہ ہے اس میں مشورہ کرنے کی کوئی بات موجود ہی نہیں ، وقس علی ہذا۔ قاتل کے لیے ضروری ہے کہ وہ مقتول کے عوض میں قتل کیا جائے یا مقتول کے ورثاء خون بہا لے کر اس کو قتل سے بچا لیں۔ اب اس بات کو بحث کا موضوع بنا کر مشورہ نہیں کیا جاسکتا کہ آیا قاتل کو مقتول کے عوض قتل کیا جاسکتا ہے یا نہیں ؟ ہاں ! قاتل کو یہ حق ہے کہ وہ مقتول کے ورثاء سے بات چیت کر کے ان کو معاف کردینے یا خون بہا لینے پر راضی کرلے جو بات مشورہ سے طے ہوجائے اس کے مطابق عمل درآمد کیا جائے یہ صحیح ہے۔ اس طرح کہنے کا مطلب یہ ہے کہ اگر ہزاروں باتیں ایسی ہیں جن کو باہم مشورہ سے طے کرنا ضروری ہوتا ہیت و سینکڑوں ایسی بھی ہوں گی جن پر مشورہ کرنا اسلام کی نگاہ میں ناجائز اور حرام ہے کیونکہ وہ باتیں اسلام میں طے شدہ ہیں اور ان کی وضاحت کردی گئی ہے اس لیے ان طے شدہ باتوں میں مشورہ کا کوئی سوال پیدا ہی نہیں ہوتا اور جن میں مشورہ ضروری ہے ان کو بغیر مشورہ کیے طے کردینا بھی ناجائز ہے اس لیے جن امور میں مشورہ ضروری ہے ان کو بغیر مشورہ طے کرنا کسی فرد ، جماعت یا حکومت کیل یے جائز نہیں ہے اگر کوئی ایسا کرے گا تو متعلقین مشورہ کو حق ہے کہ وہ اس معاملہ میں احتجاج کریں اور یک طرفہ فیصلہ کرنے والوں کو مجبور کریں کہ وہ ایسا کرنے سے باز آئیں۔ لیکن اس ملک عزیز میں جو کچھ ہم دیکھ رہے ہیں وہ بالکل اس کے الٹ ہے کیونکہ عوام اور حکومت دونوں کا مزاج اس طرح ہے کہ وہ جن باتوں میں مشورہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے کہ وہ طے شدہ ہیں ان میں مشورہ کی کوشش کرتے ہیں وہ کر پائیں یا نہ کر پائیں یہ دوسری بات ہے اور جن باتوں میں مشورہ ضروری ہے ان میں بالکل مشورہ کرنے کے لیے تیار نہیں بلکہ ان کو طے کر کی مسلط کر دنیا چاہتے ہیں بلکہ طے کر کے مسلط کردینا چاہتے ہیں بلکہ طے کر کے مسلط کردیتے ہیں اور ایسے کرنے والے دھڑلے سے مسلمان کہلاتے ہیں کیونکہ وہ آبائی اور نسلی مسلمان ہیں اب وہ چاہے جتنا بھی کفر کرتے رہیں وہ کافر نہیں ہو سکتے کیونکہ ان کے پاس نسلی طور پر اسلام کا سرٹیفکیٹ (Certificate) موجود ہے اور سارے کاغذات میں وہ مسلمان تحریر کردیئے گئے ہیں۔ اگر آپ برا نہ مانیں تو حکومت کے ایوانوں سے لے کر مسجد و مدرسہ تک ہم سب کا اسلام اس طرح کا اسلام ہے جو کاغذات میں اندراج کیا جا چکا ہے اس لیے اب ہم پورے اطمینان کے ساتھ کفر کے سارے کام کرتے ہیں اور اسلام کا ایک کام بھی کرنے کے لئے تیار نہیں تاہم پکے مسلما نہیں اور اہل سنت والجماعت ہیں اگرچہ یہ بات بھی صرف کہنے کی حد تک محدود ہے ورنہ حقیقت میں ہم اہل تشیع ، دیوبندی ، بریلوی ، چشتی ، قادری ، سہروردی ، نقشبندی اور نہ معلوم اور کیا کچھ ہیں۔ بہرحال ہم جو کچھ بھی ہوں اور جیسے کچھ بھی ہوں بات قرآن کریم کی زیرنظر آیت پر ہو رہی ہے اور ہم کو حکم دیا گیا ہے کہ یاد رکھو مسلمانوں کی خوبی یہ ہے کہ وہ ایمان لانے کے بعد اسلام کے کام کرتے ہیں جن میں نماز کا قیام ، باہم مشاورت سے امور کو طے کرنا اور اللہ کے دیئے ہوئے رزق کو اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنا ہے اور اس وقت تک ایمان کی خوبیاں جو بیان کی گئی ہیں ان کی تعداد سات ہوگئی ہے۔ 1۔ اللہ پر توکل کرتے ہیں۔ 2۔ کبائر اور فواحش سے بچتے ہیں۔ 3۔ جب غضبناک ہوتے ہیں تو جن پر غصہ آتا ہے ان سے درگزر کر جاتے ہیں۔ 4۔ اللہ تعالیٰ کی باتوں کو بغیر حیل و حجت قبول کرتے ہیں۔ 5۔ نماز قائم کرتے ہیں۔ 6۔ جو کام ان کے مشورہ طلب ہوتے ہیں ان میں مشورہ کے بغیر کوئی قدم نہیں اٹھاتے۔ 7۔ جو اللہ تعالیٰ نے ان کو دیا ہے اس کو اللہ کی رضا کے لیے خرچ کرتے ہیں۔
Top