Urwatul-Wusqaa - Ash-Shura : 4
لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ هُوَ الْعَلِیُّ الْعَظِیْمُ
لَهٗ : اس کے لیے ہی ہے مَا فِي السَّمٰوٰتِ : جو کچھ آسمانوں میں ہے وَمَا فِي الْاَرْضِ : اور جو کچھ زمین میں ہے وَهُوَ الْعَلِيُّ : اور وہ بلند ہے الْعَظِيْمُ : بہت بڑا ہے
اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے اور وہی برتر اور عظمت والا ہے
آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے سب اسی ربِّ کریم کے لیے ہے 4 ؎ آسمان کیا ہے ؟ جو کچھ بلندیوں میں ہے سب آسمان ہے۔ زمین کیا ہے ؟ جو کچھ پستیوں میں ہے سب کا سب زمین ہے اسی طرح بتایا جا رہا ہے کہ جو کچھ تمہاری نگاہیں اوپر سے اوپر تک دیکھتی ہیں سب آسمان ہے اور جو کچھ تمہاری نگاہیں نیچے سے نیچے اور پھر اس سے بھی نیچے سے نیچے دیکھتی ہیں سب کا سب اللہ ربِّ ذوالجلال والا کرام ہی کی ملکیت ہے اور پھر جب اس کی ملکیت ہے تو اس کے بغیر اور کس کو یہ حق ہے کہ وہ انسان ہو کر اپنے جیسے انسانوں کے لیے کوئی ضابطہء حیات تجویز کرے اور اس کے بغیر کون ہے جس میں اتنا علم اور ایسی قدرت ہو کہ وہ اس نہایت پیچیدہ اور از حد اہم کام کو حسن و خوبی سے انجام دے سکے۔ جن کو اس کا ہمسر بنایا جاتا ہے اور یہ بھی کہ جو بدبخت اور بدقسمت اس کا ہمسر بننے کی ناکام کوشش کرتے ہیں وہ سب کے سب اس کی مخلوق اور اس کے مملوک ہیں۔ ان کا علم بھی محدود اور ان کی قدرت بھی ناتمام ہے پھر تم خود ہی سوچ لو کہ خالق و مخلوق ، مالک و مملوک ، عالم و جاہل ، قادر اور عاجز بھی کبھی ایک جیسے ہوسکتے ہیں ؟ پھر تف ہے تم پر کہ تم خالق کو چھوڑ کر مخلوق کی طرف ، مالک کو چھوڑ کر مملوک کی طرف اور قادر کو چھوڑ کر عاجز کی طرف پھرتے ہو حالانکہ یہ بھی باور کرتے ہو کہ اللہ تعالیٰ سب سے اونچا ، سب سے اعلیٰ ، سب سے بلند اور سب سے زیادہ عظمت و سطوت والا ہے۔
Top