Urwatul-Wusqaa - Ash-Shura : 41
وَ لَمَنِ انْتَصَرَ بَعْدَ ظُلْمِهٖ فَاُولٰٓئِكَ مَا عَلَیْهِمْ مِّنْ سَبِیْلٍؕ
وَلَمَنِ انْتَصَرَ : اور جو کوئی بدلہ لے بَعْدَ : بعد ظُلْمِهٖ : اس کے ظلم کے فَاُولٰٓئِكَ : تو یہی لوگ مَا عَلَيْهِمْ : نہیں ہے ان پر مِّنْ سَبِيْلٍ : کوئی راستہ
اور جو کوئی اپنے اوپرظلم ہونے کے بعد بدلہ لے تو ایسے لوگوں پر کچھ الزام (گناہ) نہیں
ظلم کا بدلہ لینے والوں کو ملامت کا نشانہ نہیں بنایا جا سکتا 41 ؎ برائی کے بدلے برائی کی وضاحت در وضاحت ہوتی چلی آرہی ہے تاکہ مفہوم اچھی طرح سمجھ میں آجائے۔ پہلے یہ بتایا گیا تھا کہ بدلہ کی جائز صورت یہ ہے کہ جتنی برائی کسی کے ساتھ کی گئی ہو اتنا ہی بدلہ وہ اس سے لے لے اس سے زیادہ بدلہ نہ لیا جائے تو پھر دوسری بات یہ فرمائی گئی کہ بدلہ لینا اگرچہ جائز اور درست ہے تاہم معاف کردینا اور درگزر کر جانا زیادہ بہتر ہے بشرطیکہ اس میں اصلاح کا پہلو موجود ہو۔ اب زیرنظر آیت میں یہ ارشاد فرمایا جا رہا ہے کہ ابتداً ظلم کرنا ہی اصل ظلم ہے اگر کوئی شخص کسی کے ظلم کے بدلہ میں اس سے انتقامی کارروائی کرتا ہے تو وہ ہرگز ظلم نہیں بلکہ ابتداً ظلم کرنے والے کے اپنے عمل کا بدلہ لیتا ہے تو اس کے بدلہ میں کیے گئے معاملہ کو انتقام کہا جاسکتا ہے ، بدلہ کہہ سکتے ہیں لیکن ظلم نہیں کہہ سکتے اور پھر یہ بھی یاد رہے کہ انتقام یا بدلہ لینا ناجائز اور حرام بھی نہیں ہے جس طرح انتقام و بدلہ نہ لینا بعض جگہ اور بعض اوقات اچھا عمل ہے اسی طرح بعض جگہ اور بعض اوقات انتقام اور بدلہ لینا بھی اچھا عمل ہو سکتا ہے اور یہ بات حالات پر منحصر ہے بہرحال انتقام اور بدلہ لینے والے کو مطعون نہیں کہا جاسکتا گزشتہ آیت کی اس آیت نے وضاحت کردی ہے جیسا کہ قرآن کریم بعض کی بعض وضاحت کرتا چلا آ رہا ہے اور اس کی ابھی مزید وضاحت کی جا رہی ہے۔
Top