Urwatul-Wusqaa - Al-Hadid : 3
هُوَ الْاَوَّلُ وَ الْاٰخِرُ وَ الظَّاهِرُ وَ الْبَاطِنُ١ۚ وَ هُوَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ
هُوَ الْاَوَّلُ : وہی اول ہے وَالْاٰخِرُ : اور وہی آخر ہے وَالظَّاهِرُ : اور ظاہر ہے وَالْبَاطِنُ ۚ : اور باطن ہے وَهُوَ بِكُلِّ شَيْءٍ : اور وہ ہر چیز کو عَلِيْمٌ : جاننے والا ہے
وہ (اللہ رب ذوالجلال والاکرام) پہلا اور آخر اور ظاہر اور پوشیدہ ہے اور وہ سب کچھ جانتا ہے
اول و آخر ، ظاہر و باطن اور ہر ایک چیز کا علم اس کے پاس ہے 3 ؎۔ اول اس لیے کہ جب کچھ نہیں تھا تو وہ موجود تھا اور جب کچھ نہیں رہے گا تو وہ پھر بھی موجود رہے گا۔ وہ ظاہر ہے ایسا کہ اس سے زیادہ کوئی چیز ظاہر نہیں ہے کیونکہ ہر ایک چیز کا وجود اس کی ذات سے قائم ہے اور اس قدر باطن ہے کہ اس کی صفات کو الگ الگ کر کے اگر اس کی ذات کو کوئی مرئی آنکھوں سے دیکھنا چاہے تو یہ بات اس دنیا میں ممکن ہی نہیں خواہ وہ کوئی ہو ، کون ہو اور کیسا ہو جو اس کی ذات کے دیکھنے کا کہے گا وہ جھوٹ بولے گا کیونکہ اس کی ذات نہ تو کسی آلہ سے دیکھی جاسکتی ہے اور نہ ہی کسی طریقہ اور تدبیر سے گویا وہ ذات کے لحاظ سے ایسا باطن ہے کہ اس سے زیادہ باطن کوئی چیز ممکن ہی نہیں اور صفات کے اعتبار سے اس قدر ظاہر ہے کہ وہ کسی کے چھپانے سے بھی نہیں چھپ کیونکہ روشنی ہو یا اندھیرا اسی کی صفت سے وہ روشنی اور اس کی صفت سے وہ اندھیرا ہے ۔ لا ریب یہ ایک ایسا گورکھ دھندا ہے کہ ہر عقل و فکر سے وراء الوراء ہے ۔ وہ ہر ایک چیز کو جانتا ہے اور اس کو اس دنیا میں کوئی چیز احاطہ نہیں کرسکتی اور جس کا احاطہ ممکن نہ ہو وہ کوئی سمجھے گا تو آخر کیا ؟ بلا شبہ وہ ہر ایک چیز پر محیط ہے یعنی اس کو احاطہ کیے ہوئے ہے اور ہر ایک کو جانتا اور پہچانتا ہے کہ سب اس کی مخلوق ہے اور جو ایجادت انسان کرتا رہا ہے ، کر رہا ہے اور کرتا رہے گا سب کا میٹریل (Material) اسی نے پیدا کیا ہے اور سب کو عقل و فکر دینے والا وہ خود ہے اور سب کو عقل و فکر دینے والا وہ خود ہے اس لیے ہر ایک چیز کا انجام اسی کی طرف لوٹتا ہے جہاں عقل کی رسائی ختم ہوجاتی ہے وہاں آگے وہی موجود ہے کیونکہ اس کی ذات ہی عقل کل ہے ، اس لیے یہ کہا گیا ہے کہ : وہی پہلا ہے کوئی اس سے پہلے نہیں ، وہی آخر ہے کوئی اس کے بعد نہیں ، وہی ظاہر ہے کوئی اس سے اوپر نہیں ، وہی مخفی ہے کوئی چیز اس سے مخفی نہیں اور جنت و دوزخ کے فیصلہ کے بعد جو ابدی زندگی ہے ، جس کے بعد موت نہیں وہ بھی اس کے حکم سے ہے خود بخود یعنی بذاتہٖ قائم نہیں اس لیے اس طرح کا شبہ پیدا کرنا جہالت کے سوا کچھ نہیں ہے اور روح اور فرشتے بھی اسی کے حکم سے قائم ہیں نہ کہ بذاتہٖ ۔
Top