Urwatul-Wusqaa - Al-Ahzaab : 57
وَ الَّذِیْنَ جَآءُوْ مِنْۢ بَعْدِهِمْ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَ لِاِخْوَانِنَا الَّذِیْنَ سَبَقُوْنَا بِالْاِیْمَانِ وَ لَا تَجْعَلْ فِیْ قُلُوْبِنَا غِلًّا لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا رَبَّنَاۤ اِنَّكَ رَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ۠   ۧ
وَالَّذِيْنَ : اور جو لوگ جَآءُوْ : وہ آئے مِنْۢ بَعْدِهِمْ : ان کے بعد يَقُوْلُوْنَ : وہ کہتے ہیں رَبَّنَا : اے ہمارے رب اغْفِرْ لَنَا : ہمیں بخشدے وَلِاِخْوَانِنَا : اور ہمارے بھائیوں کو الَّذِيْنَ : وہ جنہوں نے سَبَقُوْنَا : ہم سے سبقت کی بِالْاِيْمَانِ : ایمان میں وَلَا تَجْعَلْ : اور نہ ہونے دے فِيْ قُلُوْبِنَا : ہمارے دلوں میں غِلًّا : کوئی کینہ لِّلَّذِيْنَ : ان لوگوں کیلئے جو اٰمَنُوْا : وہ ایمان لائے رَبَّنَآ : اے ہمارے رب اِنَّكَ : بیشک تو رَءُوْفٌ : شفقت کرنیوالا رَّحِيْمٌ : رحم کرنے والا
اور (یہ مال) ان لوگوں کے لیے بھی ہے جو ان (مہاجرین) کے بعد آئے یہ ان کے لیے دعا کرتے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار ہم کو بخش دے اور ہمارے بھائیوں کو بھی جو ہم سے پہلے ایمان لائے اور ہمارے دلوں میں ایمان والوں کی طرف سے کوئی کینہ باقی نہ رہنے دے ، اے ہمارے رب بیشک تو بڑا ہی شفیق ہے بہت ہی پیار کرنے والا ہے
تابعین کرام (رح) اور قیامت تک آنے والے نیک لوگوں کے اخلاق و کردار کا ذکر 10 ؎ گزشتہ دو آیتوں میں صحابہ کرام ؓ کا ذکر خیر اور مناقب بیان کیے گئے آیت 8 میں مہاجرین کا اور آیت 9 میں انصارکا ذکر خیر تھا۔ زیر نظر آیت میں صحابہ کرام ؓ کے بعد آنے والے یعنی تابعین (رح) اور قیامت تک آنے والے نیک لوگوں کے اخلاق و کردار کو بیان کیا گیا ہے فرمایا جو ان مہاجرین و انصار صحابہ کرام ؓ کے بعد آئے اور قیامت تک آتے رہیں گے ان کی حالت یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے اپنے لیے اور اپنے سے پہلے گزرنے والے صحابہ کرام ؓ کے حق میں دعائے خیر کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرتے ہیں اور ان کا تذکار پڑھ کر ان میں سے کسی ایک کو بھی اپنی تنقید کا نشانہ نہیں بناتے بلکہ ان کے لے اپنے اپنے دلوں کی زمین کو صاف ستھرا رکھنے کے لیے بھی اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ اے اللہ ! ہمارے پروردگار ! ہم کو بخش دے اور ہمارے بھائیوں کو جو ہم سے پہلے ایمان لائے اور ہمارے دلوں میں ان کے بارے میں کسی طرح کا کوئی کینہ باقی نہ رہنے دے۔ اے ہمارے رب ! لاریب تو بڑا ہی شفیق ہے اور بہت ہی پیار کرنے والا ہے۔ زیر نظر آیت کو بار بار پڑھو اور کم از کم ایک بار پڑھ کر آگے نہ نکل جائو کیونکہ اس آیت میں ہر قاری کی اپنی حالت کا ذکر بھی پایا جاتا ہے اور یہ ایمان کے لیے ایسی کسوٹی ہے کہ اس پر اپنا ایمان پیش کرتے ہی اپنے ایمان کے کھرے یا کھوٹے ہونے کا سارا راز کھل جاتا ہے خواہ وہ کوئی ہے ، کون ہے اور کیسا ہے ؟ پھر یہ آیت کتنے واضح اور کھلے الفاظ میں کہہ رہی ہے کہ جو لوگ صحابہ کرام ؓ کے متعلق خواہ ان صحابہ کا تعلق مہاجرین سے ہو خواہ انصار سے اگر وہ اپنے دلوں میں ان کے متعلق ذرا بھر بھی کینہ اور بغض رکھتے ہیں تو ان کا ایمان بالکل کھوٹا ہے جو یقینا قابل نہیں ہے اور جن کے دلوں میں صحابہ کرام ؓ کی عزت و احترام اور ان کے اچھے انجام کا پختہ یقین ہے لیکن ادھر ادھر سے کچھ سننے کے باوجود بھی وہ ان میں سے کسی ایک سے بھی الرجک نہیں ہوتے بلکہ اللہ تعالیٰ سے اپنے ایمان کی سلامتی طلب کرتے ہیں اور سب گزشتہ نیک لوگوں کے حق میں اپنے دلوں کی زمین کو صاف رکھنے کی دعائیں کرتے ہی بلا شبہ اللہ تعالیٰ ان کا حامی و ناصر ہے اور یقینا ان سے محبت رکھتا ہے اور اس کے فضل و کرم کی اور عنایات بےپایاں کی یقین دہانی ان کو کراتا ہے جس سے ان کے دلوں کی مزید صفائی ہوجاتی ہے ۔ اللہ کے ان بندوں کی دعائوں کی قبولیت کا ذکر عروۃ الوثقیٰ ، جلد سوم سورة الاعراف کی آیت 43 میں اور جلد پنجم اور سورة الحجر کی آیت 47 میں گزر چکا ہے۔ غور کیجئے کہ اللہ تعالیٰ نے ان گزشتہ نیک لوگوں کے حق میں دعائے خیر و برکت کا جو ذکر فرمایا ہے اس کے ساتھ کسی اہتمام اور مخصوص طریقہ کی طرف بھی کوئی اشارہ فرمایا ہے ؟ اگر نہیں اور فی الواقع نہیں تو پھر ہمارے ہاں دعائوں کے لیے یہ مخصوص طریقے جن میں اہتمام خاص کیا گیا ہو اور خصوصاً کھانے پینے کی اشیاء کو اور پہننے کے ملبوسات کو سامنے رکھ کر ان پر ختم پڑھنے اور ان ساری اشیاء کو اٹھا کر ملا جی کے گھر میں پہنچانے کا جو رواج نکل آیا ہے اس کی اصل کیا ہے ؟ مزید تفصیل کے لیے عروۃ الوثقیٰ جلد ہفتم میں سورة القمان کی آیت 33 کی تفسیر دیکھیں۔ ستیا ناس اس گروہ بندی کا کہ بڑے بڑے سمجھدار اور عقل و فکر رکھنے والے لوگ اپنے مکتب فکر کی ترجمانی کے لیے اتنے اتنے رقیق اور کمزور خیالات کا اظہار کردیتے ہیں کہ ان لوگوں کی شخصیت کے پیش نظر اس خیال کی رقاقت اور کمزوری کی طرف کسی کا خیال نہیں جاتا بلکہ اس کو بطور سند بیان کیا جاتا ہے۔ زیر نظر آیت مضمون سے اس طرح کے ایک رقیق اور کمزور خیال کا ذکر پیر کرم شاہ صاحب (رح) نے اپنی تفسیر ضیاء القرآن میں کردیا ہے اور ظاہر ہے کہ ضیاء کا قاری ان کی شخصیت سے مرعوب ہو کر اس کو اپنے لیے ایک پختہ دلیل تصور کرسکتا ہے ، چناچہ پیر صاحب (رح) رقم طراز ہیں کہ ” یہ بعد میں آنے والے جنہیں اموال فے کا حقدار بنایا گیا ہے ، ان اموال کے حصول میں ان لوگوں کا کوئی عمل دخل نہ تھا یہ مہاجرین اور انصار کی قربانیوں کا پھل کھا رہے ہیں ۔ اس لیے ان کا فرض ہے کہ ان کو اپنی نیک دعائوں میں یاد رکھیں “۔ پیر صاحب نے اس آیت سے کھانے ، کھلانے کا جواب اپنے مکتب فکر کو مہیا فرما دیا ہے اور اب ان کے وارے نیارے ہیں کہ اس کی سند ان کو قرآن کریم سے مہیا ہوگئی ہے۔ لیکن غور کرو کہ کہاں ایمان بالآخرت اور کہاں کھانے کھلانے کا یہ عمل ؟ ان دونوں کا کوئی جوڑ بھی آپس میں جڑتا نظر آتا ہے گویا بعد میں آنے والے نیک لوگوں کے ایمان بالآخرت کی جو صورت قرآن کریم نے بتائی تھی اس کو نہایت ہوشیاری کے ساتھ بزرگوں کی ماری کھانے والوں کی حمایت کے لیے سند جواز بنا دیا گیا ہے۔ ہم اس طرح کے اشارات محض اس لیے کرتے ہیں کہ ایسے مقامات کسی کی ٹھوکر کا باعث نہ بن جائیں ۔ اس کو کسی بغض و کینہ پر محمول نہ کیا جائے ، ہم تو اس بغض و کینہ سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں۔
Top