Urwatul-Wusqaa - Al-Hashr : 3
وَ لَوْ لَاۤ اَنْ كَتَبَ اللّٰهُ عَلَیْهِمُ الْجَلَآءَ لَعَذَّبَهُمْ فِی الدُّنْیَا١ؕ وَ لَهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ عَذَابُ النَّارِ
وَلَوْلَآ : اور اگر نہ اَنْ : یہ کہ كَتَبَ : لکھ رکھا ہوتا اللّٰهُ : اللہ عَلَيْهِمُ : ان پر الْجَلَآءَ : جلا وطن ہونا لَعَذَّبَهُمْ : تو وہ انہیں عذاب دیتا فِي الدُّنْيَا ۭ : دنیا میں وَلَهُمْ : اور ان کے لئے فِي الْاٰخِرَةِ : آخرت میں عَذَابُ النَّارِ : جہنم کا عذاب
اور اگر اللہ نے ان (یہود) کے حق میں جلا وطنی نہ لکھ دی ہوتی تو دنیا میں ان کو (سخت) سزا دیتا اور آخرت میں تو ان کے لیے آگ کا عذاب (تیار ہی) ہے (جس سے وہ نہیں بچ سکیں گے)
اگر یہ لوگ جلا وطن نہ ہوتے تو بھی عذاب ِ الٰہی میں مبتلا ہو جاتے 3 ؎ (الجلاء) کا اصل مادہ ج ل ا ہے اور جلاء مصدر ہے جس کے معنی جلاوطن ہونے اور اجڑنے کے ہیں ۔ یہ لفظ ایک بار اس جگہ استعمال ہوا ہے اور اس مادہ کے الفاظ جو قرآن کریم میں استعمال ہوئے ہیں وہ ( جلاھا) الشمس 19 : 3) ( یجلیھا) ( الاعراف : 178) اور (تجلی) (الاعراف : 142) اور ( اللیل 92 : 2) میں ۔ فرمایا اگر یہ لوگ جلا وطن ہونا قبول نہ کرتے تو بھی جو حرکت انہوں نے کی تھی اس کے باعث وہ یقینا عذاب میں مبتلا کیے جاتے یعنی اگر وہ جنگ پر آمادہ ہوجاتے تو اس سے بھی زیادہ تکلیف اٹھاتے اور ان کا نجام بڑا ہی ہولناک ہوتا اور مسلمان ان کو یقینا تہ تیغ کردیتے اور ان میں سے کوئی بھی جان بچا کر نہ جاسکتا ، لہٰذا اس لیے ان کا جلا وطنی قبول کرنا ان کے حق میں اچھا ہوا۔ مطلب یہ ہے کہ ان لوگوں نے حرکتیں ہی اس طرح کی کیں کہ وہ سزا کے مستحق ہوچکے تھے اگر یہ سزا نہ پاتے تو دوسری سزا اس سے بھی سخت ہوتی کہ جانیں بھی جاتیں اور نقد مال و دولت وہ جو اپنے جو وہ اپنے ساتھ لے کر نکل گئے اس سے بھی ان کو ہاتھ دھونے پڑتے اور آخرت میں تو ان کے لیے جو عذاب تیار کیا گیا ہے وہ اس سے پہلے سوا ہے کیونکہ انہوں نے نبی اعظم و آخر ﷺ کی بعثت کا انکار کر کے گویا اپنے انبیاء کرام (علیہ السلام) اور اپنی ہی کتاب تورات کی تکذیب کردی تھی کیونکہ تورات میں نبی کریم ﷺ کے وہ نشانات موجود تھے جن سے وہ پہچان چکے تھے کہ یہ وہی آخر الزمان نبی ہیں جن کا ہم ایک مدت سے انتظار کرتے چلے آ رہے ہیں اور اس کی وضاحت پیچھے بہت سے مقامات پر گزر چکی ہے۔
Top