Urwatul-Wusqaa - Al-Hashr : 4
ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ شَآقُّوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ١ۚ وَ مَنْ یُّشَآقِّ اللّٰهَ فَاِنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ
ذٰلِكَ : یہ بِاَنَّهُمْ : اس لئے کہ وہ شَآقُّوا اللّٰهَ : انہوں نے مخالفت کی اللہ کی وَرَسُوْلَهٗ ۚ : اور اسکے رسول کی وَمَنْ : اور جو يُّشَآقِّ : مخالفت کرے اللّٰهَ : اللہ کی فَاِنَّ : تو بیشک اللّٰهَ : اللہ شَدِيْدُ : سخت الْعِقَابِ : سزا دینے والا
یہ اس لیے کہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کو مخالفت کی اور جو شخص اللہ کی مخالفت کرتا ہے تو اللہ کا عذاب بڑا ہی سخت ہے
انہوں نے اللہ کے رسول کی مخالفت کی اور مخالفت کرنے والوں کا انجام یہی ہے 4 ؎ بنو نضیر کے لوگوں کے ساتھ ایسا کیوں ہوا ؟ اس لیے کہ انہوں نے اللہ رب ذولجلال والاکرام اور نبی اعظم و آخر ﷺ کی مخالفت کی تھی اور جو بھی اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرتا ہے اس کا انجام ایسا ہی ہوتا ہے اگرچہ اس کے لیے ایک وقت مقرر ہے اور جب تک وہ وقت آ نہیں جاتا اس وقت تک مخالفت جا ری رہتی ہے لیکن اللہ اور اس کے رسول کے مخالفین کا انجام بہر حال خراب ہی ہوتا ہے کوئی مان لینے کے دعویٰ کے بعد مخالفت جاری رکھے یا کوئی کفر پر قائم رہتے ہوئے مخالفت پر ڈٹا رہے ، دونوں کے لیے یہی حکم ہے ، چونکہ اللہ رب کریم کی مخالفت ہی دراصل اللہ کے رسول ﷺ کی مخالفت ہے اس لیے تاکید کے طور پر دوبارہ ارشاد فرمایا کہ ” جو شخص اللہ کی مخالفت کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ کا عذاب بڑا ہی سخت ہے “ ۔ محاورہ ہے کہ ” اللہ کی لاٹھی میں آواز نہیں “ کیا مطلب ؟ یہی کہ جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے پکڑ آتی ہے تو کسی کو جرأت نہیں ہوتی کہ وہ ادھر ادھر ہل جل سکے ، خاموشی کے ساتھ اس کو قبول کرنے کے سوا کوئی چارہ کار نہیں ہوتا ۔ غور کرو کہ ایک شخص قتل ہوجاتا ہے تو کیا ہوتا ہے ؟ لیکن اس کے مقابلہ میں اگر کوئی طبعی طور پر یا حادثاتی طور پر مر جاتا ہے تو کیا ہوتا ہے ؟ دونوں میں زمین و آسمان کا فرق ہے حالانکہ نتیجہ تو دونوں کا ایک ہی جیسا ہے کہ مرنے والا اس دارفانی سے رخصت ہوگیا جو کبھی واپس نہیں آئے گا خواہ وہ قتل ہوگیا یا طبعی وحادثانی موت مرا۔
Top