Urwatul-Wusqaa - Al-Mulk : 10
وَ قَالُوْا لَوْ كُنَّا نَسْمَعُ اَوْ نَعْقِلُ مَا كُنَّا فِیْۤ اَصْحٰبِ السَّعِیْرِ
وَقَالُوْا : اور وہ کہیں گے لَوْ كُنَّا : کاش ہم ہوتے نَسْمَعُ : ہم سنتے اَوْ نَعْقِلُ : یا ہم سمجھتے ہوتے مَا : نہ كُنَّا : ہوتے ہم فِيْٓ اَصْحٰبِ السَّعِيْرِ : دوزخ والوں میں سے
اور وہ کہیں گے کاش کہ ! ہم سنتے ہوتے اور عقل سے کام لیتے ہوتے تو (آج) ہم دوزخیوں میں نہ ہوتے
کاش کہ ہم نے ان باتوں کو سنا ہوتا اور آج ہم دوزخ میں نہ ہوتے 10 ؎ وہ دوزخ کے دربانوں کو گویا خیر خواہ سمجھیں گے کہ شاید آج اس طرح کے اعتراف اور سچی بات کہنے سے بھی کچھ ہم کو فائدہ مل جائے اور ان لوگوں کو ہم پر رحم آجائے۔ اس لئے وہ ان کو جواب دیں گے اور کہیں گے کہ افسوس ہم ان کی باتوں پر دھیان دیتے اور ان کی باتوں کو گوش ہوش سے سنتے اور ان کو سمجھنے کی کوشش کرتے تو آج ہم اس طرح دوزخ میں نہ گرائے جاتے۔ بہرحال وہ اعتراف کرتے ہوئے کہیں گے کہ بدبخت تو ہم ہی تھے جو جان بوجھ کر ان کی باتوں کو جھٹلاتے رہے اور ان کی طرف نازل کئے جانے والے روشن دلائل کی ہم نے ذرہ بھی پروا نہ کی۔ اگر ہمارے بخت درست ہوتے تو ان کی باتوں پر کان دھرتے اور دوزخ میں جلائے جانے والوں میں سے نہ ہوتے۔ اگر عقل انسانی تیز ہو تو وہ ایک بات کانوں کے ساتھ سننے سے پہلے ہی سمجھ لی جاتی ہے لیکن جب عقل کا جنازہ نکل جاتا ہے تو آدمی بار بار سنائی گئی بات پر کان نہیں دھرتا اور اس کو سنتا ہے تو بھی اس طرح سنتا ہے کہ گویا اس نے کچھ نہیں سنا کیونکہ وہ ہر سنی بات کو ان سنی کردیتا ہے اور اس بات کا وہ لوگ اس وقت اقرار کریں گے جب اقرار کرنے کا کچھ فائدہ نہیں ہوگا اور ایسے لوگوں کی اس دنیا میں کوئی کمی نہیں ہے بلکہ اکثریت کی یہی حالت رہی ہے ، آج بھی ہے اور رہے گی کہ سن کر بلکہ بعض اوقات سمجھ کر پھر اس کی طرف سے آنکھیں بند کرلی جاتی ہیں جیسا کہ آدمی نے کچھ بھی نہ سنا ہو۔ بہرحال اللہ تعالیٰ سے دعا کرنا چاہئے کہ اللہ کرے کسی مسلمان کی حالت ایسی نہ ہو اور اگر ہو تو وہ مسلمان نہ ہو۔ (آمین)
Top