Urwatul-Wusqaa - Al-Mulk : 11
فَاعْتَرَفُوْا بِذَنْۢبِهِمْ١ۚ فَسُحْقًا لِّاَصْحٰبِ السَّعِیْرِ
فَاعْتَرَفُوْا : تو وہ اعتراف کرلیں گے بِذَنْۢبِهِمْ : اپنے گناہوں کا فَسُحْقًا : تو لعنت ہے۔ دوری ہے لِّاَصْحٰبِ السَّعِيْرِ : دوزخ والوں کے لیے
پس وہ اپنے گناہوں کا اقرار کریں گے ، بس اب دوزخ والے دور ہو جائیں
اس طرح وہ لوگ اپنے گناہوں کا اعتراف کریں گے لیکن اس اعتراف کا ان کو کچھ فائدہ نہ ہو گا 11 ؎ جیسا کہ اوپر آپ نے دیکھا کہ وہ اپنے گناہوں کا برملا اعتراف کریں گے اور اس سے جو فائدہ ہوگا وہ ان کا نہیں بلکہ ان کو دیکھنے والوں کا ہوگا کہ ان کو اچھی طرح معلوم ہوگا تو ان لوگوں کو جو پکڑا گیا ہے اور اس طرح نہایت بےدردی کے ساتھ جو دوزخ میں گرایا جا رہا ہے تو یہ بغیر کسی مقصد کے نہیں ہے بلکہ جو کچھ ہوا ہے وہ ان کے گناہوں اور ان کے عملوں کی وجہ سے ہوا ہے اور یہ بات ان کے اس طرح کے اعتراف سے ثابت ہوجائے کہ یہ اپنے جرم کا تو اس وقت بھی اقرار کر رہے ہیں حالانکہ اس وقت ان سے جرم کیا اعتراف کرایا نہیں جا رہا بلکہ وہ خود ہی اعتراف کرتے ہوں گے۔ ان کے خیال میں یہ ہوگا کہ شاید اس وقت کا سچ ہم کو کچھ فائدہ دے لیکن اعتراف جرم سے کبھی جرم کم نہیں ہوجاتا خصوصاً جب کہ سزا سنائی جا چکی ہو ، یہ وہی مثال ہے کہ کسی کو گولی لگ گئی اور ٹانگ اڑ گئی لیکن وہ زور زور سے چلا رہا ہے کہ خدا کرے جھوٹ ہی ہو۔ مطلب یہ ہے کہ جو ہونا تھا وہ تو ہوگیا اور اب ان کے لئے اعتراف کرنا نہ کرنا برابر ہے اور یہ بھی کہ ان لوگوں کے ہاتھ میں کچھ نہیں ہے کہ یہ ذرا بھر بھی اپنی دوزخ کو ڈھیل دے سکیں۔ یہ دنیا کی جیل (Jail) نہیں ہے جہاں بڑے بڑے لوگوں کے لئے ساری عیاشیوں کے سامان موجود ہوں اور ان کو باہر کے خطرات سے بچا کر حکومت اپنی نگرانی میں A اور B کلاس میں رکھ رہی ہو کہ تم ادھر بیٹھ کر عیاشیاں کرو اور بےفکر رہو تم ہماری نگرانی میں ہو کیونکہ ہمارے عوام کی حالت بھی یہی ہے کہ ان کے اختلاف کی آگ اسی وقت بھڑکتی ہے جب وہ سمجھتے ہیں کہ ہمارا مخالف اب ہمارے دائو میں ہے اور جب ان کا وہ دائو نہ چل رہا ہو تو اس وقت کھسیانی بلی بنے رہتے ہیں اور حاشیہ برداروں میں بیٹھ کر ہاں جی ! ہاں جی ! کرتے ہیں۔ فرمایا وہ اپنے گناہوں کا اعتراف تو کریں گے لیکن دوزخ کے دربان ان کو پھٹکار دیں گے اور وہ ہٹو دور ہٹو کی آوازیں بلند کر رہے ہوں گے۔
Top