Tafseer-e-Haqqani - Al-Waaqia : 46
اِنَّ الَّذِیْنَ یَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَیْبِ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ اَجْرٌ كَبِیْرٌ
اِنَّ الَّذِيْنَ : بیشک وہ لوگ يَخْشَوْنَ : جو ڈرتے ہیں رَبَّهُمْ : اپنے رب سے بِالْغَيْبِ : ساتھ غیب کے۔ غائبانہ طور پر لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ : ان کے لیے بخشش ہے وَّاَجْرٌ : اور اجر كَبِيْرٌ : بہت بڑا
بلاشبہ جو لوگ اپنے رب سے بن دیکھے ڈرتے ہیں ان کے لیے بخشش ہے اور بہت بڑا اجر ہے
اللہ تعالیٰ سے بن دیکھے ڈرنے والوں کے لئے بخشش خداوندی ہے 12 ؎ قرآن کریم میں اکثر جگہ جہاں دوزخیوں کا ذکر کیا جاتا ہے ساتھ ہی اہل جنت کا ذکر بھی ضرور کیا جاتا ہے اور اس طرح اگر اہل جنت کا ذکر کیا جاتا ہو تو ساتھ ساتھ اہل دوزخ کی طرف بھی ایک دو آیات کریمات بیان کردی جاتی ہیں تاکہ دونوں کا تقابل بھی ہوتا رہے۔ اگر اہل دوزخ ہیں تو ان کو افسوس ہوتا رہے کہ کاش ہم اہل جنت ہوتے اور اگر وہ اہل جنت ہیں تو اللہ تعالیٰ کا مزید احسان اور شکریہ ادا کریں کہ اللہ نے ان کو اس دھکتی ہوئی آگ سے بچا لیا۔ یہی بات اس جگہ بھی کی ہے کہ پیچھے بدنصیبوں اور محروموں کا ذکر کیا جا رہا تھا اور اب ان کے ذکر کے ساتھ ہی سعادت مندوں اور خوش نصیبوں کا ذکر بھی کیا جا رہا ہے اور اس جگہ ان کی ایک خاص صفت بیان کی گئی ہے کہ یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے پروردگار کو بغیر دیکھے مانتے تھے اور اس کے عذاب کی خبر سنتے ہی لرزہ براندام ہوجاتے تھے اور ان کو جن حالات کا بھی سامنا ہوتا تھا اور بلاشبہ یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے کان ، آنکھیں اور دل بلکہ اپنے سارے اعضاء وجوارح سے کام لیا ہے جو ان سے لینا چاہئے تھا اور کوئی بات بھی ایسی نہیں کہی جو ان کے کہنے کا حق نہ تھا اور اس طرح انہوں نے اس کائنات کے ایک ایک ذرہ پر غوروخوض کیا اور ہر ذرہ نے ان کے سامنے توحید الٰہی کے دفتر کھول کر رکھ دیئے اور یہ بات بلاشبہ حق ہے کہ جس بندے کے دل میں اس کے خالق ومالک کی خشیت پیدا کردی جائے اور اس کے شعور میں یہ چراغ روشن ہوجائے تو اس کے عمل کی دنیا میں خواہ وہ جلوت میں ہو یا خلوت میں کوئی تاریک گوشہ باقی نہیں رہتا جس میں چھپ کر وہ کوئی گناہ کرسکے اور وہ چاہے تو گناہ نہیں کرسکتا اور جو گناہ کرسکتا یا آپ یوں کہیں کہ جس سے گناہ صادر ہوتے دیر ہی نہیں لگتی اس کے دل میں اللہ کا ڈر یقینا پیدا نہیں ہوتا اور اگر وہ اس بات کا مدعی ہے تو اس کا یہ قول صحیح نہیں ہے اور اس طرح اللہ تعالیٰ کا ڈر جو اس کے دل میں بغیر دیکھے خوف پیدا کردیتا ہے وہ خوف اگر کسی کے دل میں نہ ہو تو اس کو دیکھنے سے بھی پیدا نہیں ہوتا۔ فرمایا یہی وہ لوگ ہیں اللہ تعالیٰ کی مغفرت ان کا استقبال کرتی ہے اور ان کے لئے اللہ تعالیٰ کے ہاں بہت اجر محفوظ کردیا گیا ہے اور اگر بشری کمزوری اس کے اندر کوئی وقتی طور پر باقی بھی ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ کی خاص رحمت اور بخشش ان کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے اور وہ ان سے معاف کردی جاتی ہے اور یہ بھی کہ اس پر ایسا پردہ پڑتا ہے کہ معاف کرنے والے کے سوا اس کو کوئی نہیں جانتا۔
Top