Baseerat-e-Quran - Al-Waaqia : 50
ءَاَمِنْتُمْ مَّنْ فِی السَّمَآءِ اَنْ یَّخْسِفَ بِكُمُ الْاَرْضَ فَاِذَا هِیَ تَمُوْرُۙ
ءَاَمِنْتُمْ : کیا بےخوف ہوگئے تم مَّنْ : اس سے جو فِي السَّمَآءِ : آسمان میں ہے اَنْ يَّخْسِفَ : کہ دھنسا دے بِكُمُ الْاَرْضَ : تم کو زمین میں فَاِذَا هِيَ : تو اچانک وہ تَمُوْرُ : لرزنے لگے۔ پھٹ جائے
کیا تم اس سے جو آسمانوں میں ہے بےخوف ہوگئے ہو کہ وہ تم کو کہیں زمین میں دھنسا نہ دے ؟ پس (دیکھ لو کہ) وہ چکر کھا رہی ہے (گردش میں ہے)
کیا تم اللہ رب کریم سے بےخوف ہوگئے ہو کہ وہ تم کو زمین میں دھنسا ہی نہ دے 16 ؎ (تمور) کا ہے (تمور) ترتج و تھتز زمین کے ہچکولے کھانے اور تھرتھرانے کو کہتے ہیں اور یہ صورت وہاں کے لوگوں سے پوچھو جہاں کے لوگ سخت زلزلہ سے کبھی دوچار ہوئے ہوں۔ زیر نظر آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے قمر و جلال کی اطلاع دی ہے اور اس طرح لوگوں کو ڈرایا ہے کہ تم اچھے بھلے جب اپنے کام کاج میں مصروف ہوتے ہو تم نے کبھی نہیں دیکھا کہ اچانک اندر ہی کے مادوں کی حرکت کے باعث زمین کس طرح کانپ جاتی ہے اور ایک حصہ زمین پر جو کچھ ہوتا ہے وہ سب کا سب کانپ کر رہ جاتا ہے۔ یہ تو عام زلزلہ ہی ہوتا ہے اگر یہ زلزلہ ذرا شدید ہوجائے تو پھر کیا ہو ؟ اس لئے تم کو ڈرایا جا رہا ہے کہ تم اس ذات سے بےخوف اور نڈر نہ ہو جائو جو آسمانوں میں ہے اگر وہ تم پر ایک ایسا زلزلہ بھیج دے جس سے زمین کانپ جائے اور کانپ کر شق ہوجائے اور تم اس زمین پر بسنے والے اس کے اندر دھنس کر رہ جائو تو آخر کون ہے جو اللہ تعالیٰ کو ایسا کرنے سے روک لے گا۔ مطلب یہ ہے کہ تم لوگ جو اس دیدہ دلیری سے کفر و شرک پر اڑے ہوئے ہو اور بڑی بےباکی اور بےحیائی سے فسق و فجور کا بازار تم نے گرم کر رکھا ہے کیا تم کو کبھی اس بات کا خیال تک نہیں آیا کہ آسمانوں کا خالق اگر تاہفرے کرتوتوں کے باعث ناراض ہوگیا اور اس نے تم کو زمین میں غرق کردیا تو پھر تمہارا آخر حال کیا ہوگا ؟ اور کون آئے گا ایسے آڑے وقت میں جو تم کو اس کے عذاب سے بچا لے گا ؟ یہ بات اس وقت کے مکہ کے مشرکوں سے پوچھی جا رہی تھی لیکن اگر یہ آج کے مشرکوں سے پوچھی جائے تو وہ ایک ہی سانس میں بیسیوں نام پڑھ دیں گے اور اگر ایسا نہیں تو بیسیوں لوگوں پر یہ سوال کر کے دیکھو وہ مختلف لوگوں کے بچا لینے کا یقین رکھتے نظر آئیں گے۔ قرآن کریم نے ان سے سوالیہ انداز میں بات پوچھی ہے اور بےخوف ہونے پر تعجب کیا ہے لیکن آج کے مشرکوں کو نہ تو اس میں کوئی تعجب ہے اور نہ ہی وہ صاف صاف کسی کا نام لے دینے سے چوکیں گے اور پھر ان کو منوانے کے لئے ایک دو سوال مزید بڑھانا پڑیں گے تب جا کر کہیں ان کو خاموشی ہوگی یہ اس لئے ہم نے عرض کیا ہے تاکہ معلوم ہوجائے۔ بلاشبہ آج کے مشرکوں کا شرک اس وقت کے مشرکوں سے بہت مختلف اور بہت واضح حیثیت رکھتا ہے لیکن ہمارے مذہبی پروہت ان کو شرک کہتے ہیں اور پرزور الفاظ میں کہتے ہیں اور ان کو مشرک کہنے کے لئے وہ کسی حال میں بھی تیار نہیں کیونکہ ان کے ساتھ ان کی اپنی اغراض وابستہ ہیں اور ان کی غرض اتنی صاف بات کہنے نہیں دیتی اور نہ ہی ان میں اتنی جرأت باقی رہ گئی ہے بلکہ ان میں اکثر و بیشتر ایسے ہیں جو ان مشرکوں کے وکیل ہیں اور انہوں نے ان سے بھاری فیس وصول کی ہے کہ ہم تم کو مشرک نہیں بننے دیں گے تم چاہو جتنے بھی شرک کرتے جائو۔ جائو ہماری طرف سے تم کو کھلی چھیہ ہے۔ اس طرح اگر مکہ کے مشرک اس معاملہ سے بےخوف تھے تو آج کے مشرک ایسے کاموں کو توحید کا کام سمجھتے ہیں اور وہ اللہ اور اس کے رسول پھر رسول اللہ ﷺ کے توسط سے بہت سے مزید لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی پکڑ سے چھڑانے والا کہتے ہیں اور وہ برملا کہتے ہیں کہ ؎ پکڑے خدا تو چھڑائے محمد ﷺ محمد ﷺ کے پکڑے چھڑا کوئی نہیں سکدا گویا وہ مخلوق کی پکڑ خدائی پکڑ سے زیادہ مضبوط سمجھتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ ایسا کیوں نہ ہو جب حکومت طاقت کا سرچمشہ اللہ کے بجائے عوام کو سمجھتا ہے تو پھر عوام کو بھی تو حق ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی بجائے مخلوق کو طاقتور سمجھیں۔ وہ اگر ایسا کریں گے تو دونوں کی قدریں مشترک ہوں گی اور دونوں مخلوق کو خالق کے مقابلہ میں زیادہ زور آور سمجھنے میں ہم خیال اور ہم مشرب ہوں گے۔
Top