Urwatul-Wusqaa - Al-Mulk : 2
اِ۟لَّذِیْ خَلَقَ الْمَوْتَ وَ الْحَیٰوةَ لِیَبْلُوَكُمْ اَیُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا١ؕ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْغَفُوْرُۙ
الَّذِيْ : جس نے خَلَقَ الْمَوْتَ : پیدا کیا موت کو وَالْحَيٰوةَ : اور زندگی کو لِيَبْلُوَكُمْ : تاکہ آزمائے تم کو اَيُّكُمْ : کون ساتم میں سے اَحْسَنُ عَمَلًا : زیادہ اچھا ہے عمل میں وَهُوَ الْعَزِيْزُ : اور وہ زبردست ہے الْغَفُوْرُ : بخشش کرنے والا ہے
وہی ہے جس نے موت اور زندگی کو پیدا کیا تاکہ تمہاری آزمائش کرے کہ تم میں کون اچھے کام کرتا ہے اور وہ بڑے غلبہ والا بہت ہی بخشنے والا ہے
اللہ وہ ذات ہے جس نے سات آسمان بنائے جن میں کوئی خلل نہیں ہے 3 ؎ (طباقا) اوپر نیچے اور تہ بہ تہ اور تہ در تہ کو کہتے ہیں۔ یہ باب مفاعلہ کا مصدر ہے۔ فعل اس کا طابق یطابق آتا ہے ” مطابقت “ اسماء متضائفہ میں سے ہے۔ اس کے معنی ہیں ایک چیز کو دوسری چیز کے اوپر اس طرح رکھنا کہ اندازہ درست رہے اور وہ بالکل اس کے اوپر آئے۔ طباق ایک شے کو دوسری شے پر اس طرح رکھنے کو کہتے ہیں کہ اوپر کی چیز نیچے کی چیز کو ڈھانپ لے جس کا مطلب یہ ہوا کہ اوپر کی چیز نیچے کی چیز سے اتنی بڑی ہونی چاہئے کہ اس کو ڈھانپ سکے اور پھر اللہ تعالیٰ کی قدرت کا بیان تھا اور یہ اس کی قدرت کی مدلل دلیل ہے اور بیان کیا جا رہا ہے کہ اللہ ہی وہ ذات ہے جس کی قدرت کاملہ کی یہ کرشمہ سازی ہے کہ اس نے سات آسمانوں کو تہ بہ تہ اور اوپر نیچے بنا دیا ہے اور وہ ایک دوسرے سے بالکل جدا جدا ہیں اور ان کی صورت بکھری ہوئی نہیں بلکہ نہایت عمدگی کے ساتھ اوپر والے نے ان کو تخلیق کیا ہے اور ہر اوپر والے نے نیچے والے کو مکمل طور پر ڈھانپ رکھا ہے اور انسانوں کو دعوت دی گئی ہے کہ اے انسانوں اپنا سارا زور عقل و فکر اور طاقت وقدرت اور قوت خرچ کرنے کے بعد بھی کوئی تم میں سے ان کی آفرنیش میں خلل اور کمی و بیشی کو نہیں نکال سکے گا۔ ایک بار نہیں ، بارہا نگاہ اٹھا کر دیکھو تمہاری نگاہ تھک جائے گی لیکن ان میں کہیں بھی تم کوئی رخنہ تلاش نہیں کر پائو گے۔ (فطور) اسم فعل ہے جس کے معنی رخنہ ، شگاف اور عیب کے کئے جاتے ہیں۔ کس حدی اور چیلنج کے ساتھ دعوت دی گئی ہے کہ تمہارے اندر جتنا زور ہے سارا صرف کرلو لیکن تم اس میں کسی طرح کا کوئی رخنہ ، شگاف ، دراڑ اور کسی طرح کا عیب نہیں تلاش کر پائو گے لیکن اس کے باوجود تم اس کی قدرت کاملہ اور اس کی تخلیق کو تسلیم نہ کرو تو تمہاری مرضی کی بات ہے لیکن تمہاری یہ مرضی اور یہ ہٹ دھرمی آخر کب تک رہے گی ؟ اس وقت تک جب تک تم کو جو مہلت دی گئی ہے اس کو پورا نہ کرلو اور پھر جونہی وہ مہلت پوری ہوگئی تو تم کو واپس بلا لیا جائے گا اور تمہاری جگہ دوسروں کو آزمائش کے اس میدان میں اتار دیا جائے گا اور یہ سلسلہ برابر چلتا رہے گا جب تک اس کا چلتے جانا اللہ کو منظور ہے اور یہ دعوت اسی طرح سب کے لئے جاری رہے گی کہ آئے اور آزمائے ہم کو جس کا جی چاہے ، اور جو سوال ہم نے اٹھایا ہے کہ کوئی تمہارے پاس ایسا ہے جو اس میں دراڑ ، شگاف اور رخنہ یا عیب دکھا دے۔ سائنس چاہے کتنی ترقی کرتی جائے جو کچھ اس نے کیا ہے اس کو ایک سو سے مزید ضرب دی جائے تو بھی یہ ممکن نہیں ہے کہ اس کا جواب دے سکے۔
Top