Urwatul-Wusqaa - Al-Waaqia : 58
قُلْ اِنَّمَا الْعِلْمُ عِنْدَ اللّٰهِ١۪ وَ اِنَّمَاۤ اَنَا نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ
قُلْ : کہہ دیجئے اِنَّمَا الْعِلْمُ : بیشک علم عِنْدَ اللّٰهِ : اللہ کے پاس ہے وَاِنَّمَآ : اور بیشک اَنَا نَذِيْرٌ : میں ڈرانے والا ہوں مُّبِيْنٌ : کھلم کھلا
(اے پیغمبر اسلام ! ) آپ کہہ دیجئے کہ (اس کا) علم تو اللہ ہی کے پاس ہے اور میں تو محض واضح طور پر ڈر سنانے والا ہوں
اے پیغمبر اسلام ! ان سے کہیے کہ اس کا علم تو اللہ تعالیٰ ہی کے پاس ہے 26 ؎ اوپر دیئے گئے حوالہ جات میں بھی منافقین و معاندین کو جواب دیا گیا ہے اور زیر نظر آیت میں بھی ان کو جواب دیا گیا ہے اور سب کو جمع کرنے کا ماحصل بھی یہی نکلے گا کہ اگر تم تاریخ ، سال اور مہینہ چاہتے ہو تو اللہ تعالیٰ سے رابطہ قائم کرو ، اگر کرسکتے ہو۔ ہم تو تم سے اس طرح کا مطالبہ کر ہی نہیں سکتے ، ہمیں تو ایمان لانا ہے ، وہ لائے ہیں اور جہاں تک ہو سکتا ہے ایمان لانے کے بعد احکام الٰہی کے مطابق عمل کرنا ہے۔ وہ جہاں تک ہم کرسکتے ہیں ، کر رہے ہیں اور آئندہ بھی کوشش کریں گے بلکہ ہمارا ایمان ہے کہ اگر اس کا علم دیا جانا انسانوں کے لئے مفید ہوتا تو وہ ضرور دیتا اور جو چیز ہمارے لئے مفید نہیں ہے اس کے پیچھے پڑنے کا آخر کوئی فائدہ۔ ایک میں محمد رسول اللہ ﷺ ہی نہیں سارے انبیاء و رسل (علیہم السلام) کو یہی کہا گیا ہے کہ اس کا علم اللہ کے سوا کسی کو نہیں ہے۔ خواہ کوئی پہلے آیا اور خواہ کوئی مجھ سے مطالبہ کرتا رہے اور میرے بعد تو کوئی آنے والا ہی نہیں ہے۔ بہرحال اس کا علم نہ کسی کے لئے مفید تھا ، نہ ہے اور نہ کبھی ہوگا تا آنکہ آنے والی آدھمکے گی جس طرح ہر انسان کے سر پر موت آدھمکتی ہے اور پھر ایک دفعہ کان کھول کر سن لو کہ میں ہوں یا مجھ سے پہلے آنے والے سب کے سب کا کام ڈرانا تھا ، اس کی خبر دینا تھا۔ وہ پہلے آنے والے بھی ڈراتے رہے اور خبر دیتے رہے ہیں ، میں بھی ڈرا رہا ہوں اور تم کو خبر دے رہا ہوں۔
Top