Urwatul-Wusqaa - Al-Mulk : 4
ثُمَّ ارْجِعِ الْبَصَرَ كَرَّتَیْنِ یَنْقَلِبْ اِلَیْكَ الْبَصَرُ خَاسِئًا وَّ هُوَ حَسِیْرٌ
ثُمَّ ارْجِعِ : پھر لوٹاؤ الْبَصَرَ : نگاہ کو كَرَّتَيْنِ : بار بار يَنْقَلِبْ : لوٹ آئے گی اِلَيْكَ الْبَصَرُ : تیری طرف نگاہ خَاسِئًا : ذلیل ہوکر۔ عاجز ہو کر وَّهُوَ حَسِيْرٌ : اور وہ تھکی ہوئی ہوگی
پھر بار بار آنکھ اٹھا کر دیکھ (ہر بار) تیری نگاہ ناکام تھک کر تیری طرف لوٹ آئے گی (لیکن کوئی فتور نظر نہیں آئے گا)
فرمایا بار بار آنکھ اٹھا کر دیکھو تمہاری نگاہ تھک جائے گی لیکن تم کسی کی نشاندہی نہیں کرسکو گے 4 ؎ دنیا کے اندر یہ ترقیاں اور یہ ایجادات جو اس وقت تک ہوچکی ہیں بلاشبہ اس وقت نہیں تھیں جب یہ اعلان کیا گیا تھا لیکن قرآن کریم کے ابدی تسلیم ہونے کے ثبوت میں یہ بات بالکل کافی ہے کہ ان حالات میں جو اس نے اعلان کیا آج تک بدستور وہ اسی حالت میں موجود ہے اور رہتی دنیا تک موجود رہے گا۔ سائنس چاہے جتنی ترقی کرلے اور آسمان و زمین کی مخلوق کا آپس میں الحاق (Colloboration) شروع ہوجائے جو ابھی تک دریافت بھی نہیں ہوسکی اور پھر یہ اوپر اور نیچے کی ساری مخلوق مل کر اس کا کوئی توڑ پیش کرنے کی کوشش کرے یقینا مخلوق خالق کے سامنے کمزور نکلے گی اور اس کا نتیجہ کچھ نہیں نکلے گا۔ جو چیلنج کیا گیا ہے اس کا توڑ ممکن ہی نہیں ہے۔ زیر نظر آیت میں کس صفائی اور کس غیر مبہم طریقہ سے کہا جا رہا ہے کہ تم اپنی نظریں اٹھائو اور پھر بار بار اٹھائو تمہاری نظریں خائب و خاسر واپس لوٹ آئیں گی اور تم تھک ہار کر بیٹھ جائو گے لیکن تمہیں کوئی عیب تلاش کرنے میں کامیابی نہیں ہوگی۔ جو ہم نے بنا دیا ہے اس سے بہتر کا تصور ہی نہیں کیا جاسکتا۔ کیا کوئی عقل و فکر اس کا اندازہ لگا سکتی ہے کہ اس دنیا میں رہنے والا انسان جو دنیا تمہارے اس سورج سے بھی کئی گنا چھوٹی ہے اور جب افلاک کے اندر یہ اتنا بڑا سورج ایسا نظر آتا ہے جیسے رات کے اندھیرے میں اڑتا اور پھرتا ہوا جگنو پھر کوئی کہے کہ ان افلاک اور ان خلائقوں کی وسعت کا کوئی اندازہ لگائے اور سمجھے کہ زمینی پیمائش کی طرح اس کو ماپا جاسکتا ہے تو یہ اس کی بھول ہے اور خصوصا جو چیز اس وقت بیان ہو رہی ہے وہ یہ ہے کہ انسان چاہے کتنی سعی و کوشش اس سلسلہ میں کرے وہ نہ اس پھیلائو کا احصار کرسکتا ہے اور نہ یہ ثابت کرسکتا ہے کہ اگر یہ چیز اس طرح کی بجائے اس طرح ہوتی تو حالات کو اس طرح رکھا جاسکتا تھا یا اس تخلیق کے اندر فلاں فلاں کمی رہ گئی ہے اور پھر یہ بھی کہ اگر کوئی سرپھرا اس طرح کی بات کہہ بھی دے تو وہ محض ضد اور ہٹ دھرمی کی بنا پر ہوگی جس کی کوئی حقیقت نہیں ہوگی اور نہ ہی اس میں کسی ردوبدل کی کوئی گنجائش پیدا ہوگی۔ خیر یہ تو بڑی بڑی چیزیں ہیں اور پھر یہ بھی کہ وہ خارج از وجود ہیں۔ انسان صرف اپنے اس ڈھانچہ پر ہی غور کر کے دیکھے جس ڈھانچے کی قد و قامت 5 سے 6 فٹ تک ہے اور جس کا وزن ایک سے دو من تک ہو سکتا ہے اور اس کو عالم صغیر کے نام سے یاد کیا جاتا ہے کہ اس عالم کبیر کے اندر جو کچھ ہے اور جو جو چیزیں اس وقت تک ایجاد ہو کر انسان کے سامنے آئی ہیں اور جو ابھی آئیں گی صرف اور صرف یہ ہے کہ اس ڈھانچے کے کاسہ سر کے اندر موجود ہے اور پھر کاسہ سر کا اگر اندازہ لگایا جائے تو اس کے اندر جو فلاپی (Floppy) موجود ہے جس میں یہ سب کچھ موجود ہے شاید اس کا وزن چند ماشوں میں نکلے یا ممکن ہے کہ یہ چند کا سابقہ بھی اس کے ساتھ نہ رہے۔ یہ اس کاریگر کی کاریگری ہے کہ اس نے اتنے چھوٹے سے ڈھانچے کے اندر صرف ایک نقطہ کی حیثیت میں سب کچھ رکھ دیا ہے اور اس کو انسان ترقی دیتے دیتے کہاں سے کہاں تک پہنچ گیا ہے اور ابھی معلوم ہی نہیں ہے کہ وہ کہاں تک پہنچے گا لیکن اس عالم صغیر کے بنانے والے نے اس کے تجربات کے لئے یہ عالم کبیر بھی پیدا فرما دیا اور پھر اس عالم کبیر کے لئے جو انتہا مقرر کی اس کا عالم یہ ہے کہ آج تک اس کے شروع اور آخر کا کوئی اندازہ نہ لگا سکا۔ سات زمینوں میں سے یہ ایک زمین جو اس نے دریافت نہیں کی بلکہ اس کو اس کے اندر پیدا کیا گیا اس کو ماپ کر وہ پھولا نہیں سماتا اور باقی پر چھ کے وجود کے متعلق بھی ابھی وہ ناواقف ہے اور پھر جس خلا کے اندر یہ سب کچھ موجود ہے اس کا اندازہ کیا وہ خاک لگائے گا اور جو کچھ وہ اس سلسلہ میں کہہ چکا ہے اور جو کچھ کہے گا سب کا سب اندھیرے میں ٹکروں کے سوا کچھ نہیں ہے اور زیر نظر آیت میں یہی بات بیان کی گئی ہے اور انسان کی کم مائیگی ، بےبسی اور کم ظرفی کا بیان ہے جو سو فیصد صحیح ہے۔
Top