Tafseer-e-Haqqani - Al-Ahzaab : 76
تَكَادُ تَمَیَّزُ مِنَ الْغَیْظِ١ؕ كُلَّمَاۤ اُلْقِیَ فِیْهَا فَوْجٌ سَاَلَهُمْ خَزَنَتُهَاۤ اَلَمْ یَاْتِكُمْ نَذِیْرٌ
تَكَادُ : قریب ہے کہ تَمَيَّزُ : پھٹ جائے مِنَ الْغَيْظِ : غضب سے۔ غصے سے كُلَّمَآ : جب کبھی اُلْقِيَ فِيْهَا : ڈالی جائے گی اس میں فَوْجٌ : کوئی فوج۔ لوگوں کا گروہ سَاَلَهُمْ : پوچھیں گے ان سے خَزَنَتُهَآ : ان کے داروغہ۔ چوکیدار اَلَمْ يَاْتِكُمْ : کیا نہیں آیا تھا تمہارے پاس نَذِيْرٌ : کوئی ڈرانے والا
گویا مارے غضب کے پھٹ پڑے گی جب بھی اس میں (منکرین کا) کوئی گروہ ڈالا جائے گا تو ان سے دوزخ کے محافظ پوچھیں گے کیا تمہارے پاس کوئی ڈرانے والا نہ آیا تھا ؟
اس میں ڈالے جانے والوں سے محافظ جو سوال کریں گے ، اس کا ذکر 8 ؎ (تمیز) وہ پھٹ جائے ، وہ پھٹ پڑے تمیز سے جس کے معنی ایک دوسرے سے جدا ہونے اور پھٹ جانے کے ہیں۔ مضارع کا صیغہ واحد مونث غائب اصل میں یہ تتمیز تھا اور اس کی ایک تاء کو حذف کردیا گیا۔ قریب ہے کہ وہ غصہ سے پھٹ پڑے۔ یہ اس کی ہیئت اور ہیبت کا ذکر کیا جا رہا ہے اور فرمایا جب کبھی اس میں کسی گروہ کو لا کر ڈالا جائے گا تو اس کے دربان ہر گروہ اور ہر جماعت سے سوال کریں گے کہ کیا تمہارے پاس کوئی ڈرانے والا نہیں گیا تھا۔ اور ظاہر ہے کہ ایسے موقع پر جو اس طرح کا سوال پوچھا جاتا ہے تو وہ کسی لاعلمی کے لئے یا کسی لاعلمی کو دور کرنے کے لئے نہیں پوچھا جاتا بلکہ اس سوال کا مقصد سوال کئے جانے والے کی سرزنش کرنا اور اس کو شرم دلانا ہوتا ہے اور عین اس موقع پر ایسا سوال اتنا بڑا کوڑا ہے کہ جس سے زیادہ بڑا کوڑا اور ممکن ہی نہیں ہے اس لئے کہتے ہیں کہ اس وقت اگر زمین شق ہوجائے تو وہ آدمی اس میں غرق ہونے کو زندگی پر ترجیح دے دے۔ یہ اتنی بڑی بات ہے لیکن اس وقت وہ بدبخت ان دربانوں کو جواب دیں گے جس کا ذکر آگے آ رہا ہے۔
Top