Urwatul-Wusqaa - Al-Haaqqa : 15
فَیَوْمَئِذٍ وَّقَعَتِ الْوَاقِعَةُۙ
فَيَوْمَئِذٍ : تو اس دن وَّقَعَتِ الْوَاقِعَةُ : واقع ہوجائے گی واقع ہونے والی
پس اس وقت جس کا ہونا یقینی ہے واقع ہوجائے گی
پس اس وقت جس کا ہونا یقینی ہے واقع ہوجائے گی 15 ؎ یہی وہ دن ہے یعنی جس دن کو زمین اور آسمان دونوں کو اٹھا لیا جائے گا کہ وہ جس کو واقع ہونا ہے وہ واقع ہوجائے گی۔ مکہ والوں کو اس کے ہونے اور جس طرح اس کو ہونا ہے اس کی وضاحت بتائی جا رہی ہے اور اس سے سارے انسانوں کی اپنی ذمہ داری ہے کہ وہ حقیقت کو سمجھ لیں اور اپنی انفرادی زندگی سے اس کی حقیقت کا سراغ پا لیں کہ وہ ہر انسان کی اپنی موت ہی کے ساتھ وابستہ کردی گئی ہے اس لئے کہ جب کوئی شخص اس دنیا سے اٹھا لیا جاتا ہے تو اس کو دوبارہ واپس اس دنیا میں نہیں بھیجا جاسکتا اور جب وہ واپس نہیں آئے گا تو ظاہر ہے کہ وہ اسی روز اٹھے گا جو روز اس کے اٹھنے کے لئے مقرر کیا گیا ہے اور وہ وہی حشر کا روز ہے اور اس واقع ہونے والی کے واقع ہونے کی وضاحت ہم نے سورة الواقعہ کے شروع میں کردی ہے وہاں سے ملاحظہ کریں اور سورة الواقعہ غزوۃ الوثقی کی جلد ہشتم میں آئی ہے۔
Top