Anwar-ul-Bayan - An-Nahl : 87
اَوْ یَاْخُذَهُمْ عَلٰى تَخَوُّفٍ١ؕ فَاِنَّ رَبَّكُمْ لَرَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ
اَوْ : یا يَاْخُذَهُمْ : انہیں پکڑ لے وہ عَلٰي : پر (بعد) تَخَوُّفٍ : ڈرانا فَاِنَّ : پس بیشک رَبَّكُمْ : تمہارا رب لَرَءُوْفٌ : انتہائی شفیق رَّحِيْمٌ : نہایت رحم کرنے والا
اور جب مشرکین اپنے ” شریکوں “ کو دیکھیں گے تو بول اٹھیں گے اے ہمارے پروردگار یہی ہیں ہمارے وہ ” شرکاء “ جنہیں ہم تجھے چھوڑ کر پکارتے رہتے تھے پھر وہ (شرکاء) ان کی طرف مخاطب ہو کر کہیں گے کہ تم (بڑے) جھوٹے ہو،136۔
136۔ (تم حقیقۃ تو پرستار صرف اپنے نفس اور اپنی ہوا وہوس کے تھے، اور اپنی پرستاری کو منسوب ہماری جانب کردیتے تھے) (آیت) ” شرکآء ھم۔ شرکآؤنا “۔ شریکوں، سے مراد ان کے وہی دیوی دیوتا، ٹھاکر وغیرہ ہیں، جنہیں یہ شریک خدائی سمجھا کرتے تھے۔
Top