Tafseer-e-Usmani - Al-Muminoon : 118
وَ قُلْ رَّبِّ اغْفِرْ وَ ارْحَمْ وَ اَنْتَ خَیْرُ الرّٰحِمِیْنَ۠   ۧ
وَقُلْ : اور آپ کہیں رَّبِّ : اے میرے رب اغْفِرْ : بخش دے وَارْحَمْ : اور رحم فرما وَاَنْتَ : اور تو خَيْرُ الرّٰحِمِيْنَ : بہترین رحم کرنے والا ہے
اور تو کہہ اے رب معاف کر اور رحم کر اور تو ہے بہتر سب رحم والوں سے8
8 یعنی ہماری تقصیرات سے درگزر فرما اور اپنی رحمت سے دنیا و آخرت میں سرفراز کر۔ تیری رحمت بےنہایت کے سامنے کوئی چیز مشکل نہیں۔9 " افحسبتم " سے ختم سورت تک کی یہ آیتیں بہت بڑی فضیلت اور تاثیر رکھتی ہیں، جس کا ثبوت بعض احادیث سے ہوا ہے اور مشائخ نے تجربہ کیا ہے۔ چاہیے کہ ان آیات کا ورد رکھا جائے، خاتمہ پر وہ دعاء تبرکاً " و تفاؤلاً نقل کرتا ہوں جو رسول کریم ﷺ نے حضرت ابوبکر صدیق کو تلقین فرمائی کیونکہ اس کے الفاظ ان آیات کے مناسب ہیں۔ " اَللّٰہُمَّ اِنِّی ظَلَمْتُ نَفْسِیْ ظُلْمًا کَثِیْراً وَاِنَّہ، لَایَغْفِرُ الذُّنُوبِ اِلَّا اَنْتَ فَاغْفِرْلِی مَغْفِرَۃً مِّنْ عِنْدِکَ وَارْحَمْنِی اِنَّکَ اَنْتَ الْغَفُور الرَّحِیْم۔ " تم سورة المومنون بفضلہ ومنہ وحسن توفیقہ ونرجومنہ اکمال بقیۃ الفوائد۔
Top