Tafseer-e-Usmani - Al-Muminoon : 22
وَ عَلَیْهَا وَ عَلَى الْفُلْكِ تُحْمَلُوْنَ۠   ۧ
وَعَلَيْهَا : اور ان پر وَعَلَي الْفُلْكِ : اور کشتی پر تُحْمَلُوْنَ : سوار کیے جاتے ہو
اور ان پر اور کشتیوں پر لدے پھرتے ہو14
14 یعنی خشکی میں جانوروں کی پیٹھ پر اور دریا میں جہازوں اور کشتیوں پر سوار ہو کر کہیں سے کہیں نکل جاتے ہو اور بڑے بڑے وزنی سامان ان پر بار کرتے ہو۔ کشتی کی مناسبت سے آگے نوح (علیہ السلام) کا قصہ ذکر فرماتے ہیں کہ کس طرح اللہ تعالیٰ نے ان سے کشتی بنوائی جو طوفان عظیم کے وقت مومنین کی نجات کا ذریعہ بنی۔ پھر نوح (علیہ السلام) کی مناسبت سے بعض دوسرے انبیاء کے واقعات بھی ذکر فرما دیئے۔ شاید یہاں ان قصص کے بیان میں یہ بھی اشارہ ہوگا کہ جس طرح اوپر کی آیات میں تمہاری جسمانی ضروریات کا انتظام مذکور تھا اسی طرح خداوند رحمان نے تمہاری روحانی حوائج و ضروریات کا سرا نجام کرنے کے لیے ابتدائے دنیا سے وحی و رسالت کا سلسلہ بھی قائم فرما دیا۔ یا یوں کہہ لو کہ اوپر قدرت کے نشانات بیان فرما کر توحید کی طرف متوجہ کرنا تھا۔ اس کی تکمیل کے لیے یہاں سے سلسلہ نبوت کا بیان شروع کردیا۔ جس کے ضمن میں انبیاء اور ان کے متبعین کی خوش انجامی اور مکذبین و معاندین کی بد انجامی بھی ذہن نشین کردی گئی۔
Top