Tafseer-e-Usmani - Al-Qasas : 17
قَالَ رَبِّ بِمَاۤ اَنْعَمْتَ عَلَیَّ فَلَنْ اَكُوْنَ ظَهِیْرًا لِّلْمُجْرِمِیْنَ
قَالَ : اس نے کہا رَبِّ بِمَآ : اے میرے رب جیسا کہ اَنْعَمْتَ : تونے انعام کیا عَلَيَّ : مجھ پر فَلَنْ اَكُوْنَ : تو میں ہرگز نہ ہوں گا ظَهِيْرًا : مددگار لِّلْمُجْرِمِيْنَ : مجرموں کا
بولا اے رب جیسا تو نے فضل کردیا مجھ پر پھر میں کبھی نہ ہوں گا مددگار گنہگاروں کا6 
6  یعنی آپ نے جیسے اپنے فضل سے مجھ کو عزت، راحت، قوت عطا فرمائی اور میری تقصیرات کو معاف کیا اس کا شکر یہ ہے کہ میں آئندہ کبھی مجرموں کا مددگار نہ ہوں گا۔ شاید اس فریادی (اسرائیلی) کی بھی کچھ تقصیر معلوم ہوئی ہوگی، مجرم اسے کہا ہو۔ یا مجرمین سے کفار اور ظالم لوگ مراد ہوں۔ یعنی تیری دی ہوئی قوتوں کو آئندہ بھی کبھی ان کی حمایت و اعانت میں خرچ نہ کروں گا۔ یا مجرمین سے شیاطین مراد ہوں یعنی شیاطین کے مشن میں ان کا مددگار کبھی نہ بنوں گا کہ وہ وسوسہ اندازی کر کے مجھ سے ایسا کام کرا دیں جس پر بعد کو پچھتانا پڑے۔ یا اسرائیلی کو مجرم اس حیثیت سے کہا کہ وہ وقوع جرم کا سبب بنا۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔
Top