Tafseer-e-Usmani - Ash-Shura : 10
وَ مَا اخْتَلَفْتُمْ فِیْهِ مِنْ شَیْءٍ فَحُكْمُهٗۤ اِلَى اللّٰهِ١ؕ ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبِّیْ عَلَیْهِ تَوَكَّلْتُ١ۖۗ وَ اِلَیْهِ اُنِیْبُ
وَمَا : اور جو بھی اخْتَلَفْتُمْ : اختلاف کیا تم نے فِيْهِ : اس میں مِنْ شَيْءٍ : کسی چیز میں سے فَحُكْمُهٗٓ : تو اس کا فیصلہ کرنا اِلَى اللّٰهِ : طرف اللہ کے ہے ذٰلِكُمُ اللّٰهُ : یہ ہے اللہ رَبِّيْ : رب میرا عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ : اسی پر میں نے بھروسہ کیا وَاِلَيْهِ : اور اسی کی طرف اُنِيْبُ : میں رجوع کرتا ہوں
اور جس بات میں جھگڑا کرتے ہو تم لوگ کوئی چیز ہو اس کا فیصلہ ہے اللہ کے حوالے5 وہ اللہ ہے رب میرا اسی پر ہے مجھ کو بھروسہ اور اسی کی طرف میرا رجوع ہے6 
5  یعنی سب جھگڑوں کے فیصلے اسی کے سپرد ہونے چاہئیں۔ عقائد ہوں یا احکام، عبادات ہوں یا معاملات جس چیز میں بھی اختلاف پڑجائے اس کا بہترین فیصلہ اللہ کے حوالہ ہے وہ دلائل کونیہ کے ذریعہ سے یا اپنی کتاب میں یا اپنے رسولوں کی زبان پر صراحتہً یا اشارۃً جس مسئلہ کا جو فیصلہ فرما دے بندہ کو حق نہیں کہ اس میں چون و چرا کرے۔ توحید جو اصل اصول ہے۔ اللہ تعالیٰ جب قولاً و فعلاً برابر اس کا حکم دیتا رہا ہے پھر کیونکر جائز ہوگا کہ بندہ ایسے قطعی اور محکم فیصلہ میں جھگڑے ڈالے اور بیہودہ شبہات نکال کر اس کے فیصلہ سے سرتابی کرے۔ 6 یعنی میں اسی پر ہمیشہ سے بھروسہ رکھتا ہوں اور ہر معاملہ میں اسی کی طرف رجوع ہوتا رہتا ہوں۔
Top