Tafseer-e-Usmani - Ash-Shura : 28
وَ هُوَ الَّذِیْ یُنَزِّلُ الْغَیْثَ مِنْۢ بَعْدِ مَا قَنَطُوْا وَ یَنْشُرُ رَحْمَتَهٗ١ؕ وَ هُوَ الْوَلِیُّ الْحَمِیْدُ
وَهُوَ الَّذِيْ : اور وہ اللہ وہ ذات ہے يُنَزِّلُ : جو اتارتا ہے الْغَيْثَ : بارش کو مِنْۢ بَعْدِ مَا : اس کے بعد کہ قَنَطُوْا : وہ مایوس ہوگئے وَيَنْشُرُ رَحْمَتَهٗ : اور پھیلا دیتا ہے اپنی رحمت کو وَهُوَ : اور وہ الْوَلِيُّ الْحَمِيْدُ : کارساز ہے۔ دوست ہے، تعریف والا ہے
اور وہی ہے جو اتارتا ہے مینہ بعد اس کے کہ آس توڑ چکے اور پھیلاتا ہے اپنی رحمت اور وہی ہے کام بنانے والا سب تعریفوں کے لائق1
1  یعنی بہت مرتبہ ظاہری اسباب و حالات پر نظر کر کے جب لوگ بارش سے مایوس ہوجاتے ہیں اس وقت حق تعالیٰ باران رحمت نازل فرماتا اور اپنی مہربانی کے آثار و برکات چاروں طرف پھیلا دیتا ہے۔ تاکہ بندوں پر ثابت ہوجائے کہ رزق کی طرح اسباب رزق بھی اسی کے قبضہ قدرت میں ہیں جیسے وہ روزی ایک خاص اندازہ سے عطا کرتا ہے، بارش بھی خاص اوقات اور خاص مقدار میں مرحمت فرماتا ہے۔ بات یہ ہے کہ سب کام اسی کے اختیار میں ہیں اور جو کچھ وہ کرے عین حکمت و صواب ہے کیونکہ تمام خوبیاں اور کمالات اس کی ذات میں جمع ہیں۔ اور ہر قسم کی کارسازی اور اعانت و امداد وہیں سے ہوسکتی ہے۔ (تنبیہ) اللہ کی رحمت وقدرت کی طرف سے مایوس ہوجانا کافروں کا شیوہ ہے لیکن ایک مومن کی نظر میں اسباب کا سلسلہ یاس انگیز ہوسکتا ہے جیسے فرمایا (فَلَمَّا اسْتَيْـــَٔـسُوْا مِنْهُ خَلَصُوْا نَجِيًّا) 12 ۔ یوسف :80) اور (حَتّٰٓي اِذَا اسْتَيْــــَٔـسَ الرُّسُلُ وَظَنُّوْٓا اَنَّهُمْ قَدْ كُذِبُوْا جَاۗءَهُمْ نَصْرُنَا ۙ فَنُجِّيَ مَنْ نَّشَاۗءُ ۭ وَلَا يُرَدُّ بَاْسُـنَا عَنِ الْقَوْمِ الْمُجْرِمِيْنَ ) 12 ۔ یوسف :110)
Top