Tafseer-e-Usmani - Al-Hashr : 3
وَ لَوْ لَاۤ اَنْ كَتَبَ اللّٰهُ عَلَیْهِمُ الْجَلَآءَ لَعَذَّبَهُمْ فِی الدُّنْیَا١ؕ وَ لَهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ عَذَابُ النَّارِ
وَلَوْلَآ : اور اگر نہ اَنْ : یہ کہ كَتَبَ : لکھ رکھا ہوتا اللّٰهُ : اللہ عَلَيْهِمُ : ان پر الْجَلَآءَ : جلا وطن ہونا لَعَذَّبَهُمْ : تو وہ انہیں عذاب دیتا فِي الدُّنْيَا ۭ : دنیا میں وَلَهُمْ : اور ان کے لئے فِي الْاٰخِرَةِ : آخرت میں عَذَابُ النَّارِ : جہنم کا عذاب
اور اگر نہ ہوتی یہ بات کہ لکھ دیا تھا اللہ نے ان پر جلا وطن ہونا تو ان کو عذاب دیتادنیا میں اور آخرت میں ہے ان کے لیے آگ کا عذاب4
4 یعنی ان کی قسمت میں جلا وطنی کی سزا لکھی تھی۔ یہ بات نہ ہوتی تو کوئی دوسری سزا دنیا میں دی جاتی۔ مثلاً بنی قریظہ کی طرح مارے جاتے۔ غرض سزا سے بچ نہیں سکتے۔ یہ خدا کی حکمت ہے قتل کے بجائے محض جلا وطنی پر اکتفا کیا گیا۔ لیکن یہ تخفیف صرف دنیاوی سزا میں ہے آخرت کی ابدی سزا کسی طرح ان کافروں سے ٹل نہیں سکتی۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں کہ " جب یہ قوم ملک شام سے بھاگ کر یہاں آئی تھی تو ان کے بڑوں نے کہا تھا کہ ایک دن تم کو یہاں سے ویران ہو کر پھر شام میں جانا پڑے گا۔ چناچہ اس وقت اجڑ کر (بعض شام میں چلے گئے اور بعض) خیبر میں رہے۔ پھر حضرت عمر ؓ کے زمانہ میں وہاں سے اجڑ کر شام میں گئے۔
Top