Tafseer-e-Usmani - Al-Mulk : 2
اِ۟لَّذِیْ خَلَقَ الْمَوْتَ وَ الْحَیٰوةَ لِیَبْلُوَكُمْ اَیُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا١ؕ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْغَفُوْرُۙ
الَّذِيْ : جس نے خَلَقَ الْمَوْتَ : پیدا کیا موت کو وَالْحَيٰوةَ : اور زندگی کو لِيَبْلُوَكُمْ : تاکہ آزمائے تم کو اَيُّكُمْ : کون ساتم میں سے اَحْسَنُ عَمَلًا : زیادہ اچھا ہے عمل میں وَهُوَ الْعَزِيْزُ : اور وہ زبردست ہے الْغَفُوْرُ : بخشش کرنے والا ہے
جس نے بنایا مرنا اور جینا تاکہ تم کو جانچے کون تم میں اچھا کرتا ہے کام2 اور وہ زبردست ہے بخشنے والا
2  یعنی مرنے جینے کا سلسلہ اسی نے قائم کیا، ہم پہلے کچھ نہ تھے (اسے موت ہی سمجھو) پھر پیدا کیا، اس کے بعد موت بھیجی، پھر مرے پیچھے زندہ کردیا۔ کما قال (كَيْفَ تَكْفُرُوْنَ باللّٰهِ وَكُنْتُمْ اَمْوَاتًا فَاَحْيَاكُمْ ۚ ثُمَّ يُمِيْتُكُمْ ثُمَّ يُحْيِيْكُمْ ثُمَّ اِلَيْهِ تُرْجَعُوْنَ ) 2 ۔ البقرۃ :28) موت وحیات کا یہ سارا سلسلہ اس لیے ہے کہ تمہارے اعمال کی جانچ کرے کہ کون برے کام کرتا ہے کون اچھے، اور کون اچھے سے اچھے۔ پہلی زندگی میں یہ امتحان ہوا اور دوسری زندگی میں اس کا مکمل نتیجہ دکھلا دیا گیا۔ فرض کرو اگر پہلی زندگی نہ ہوتی تو عمل کون کرتا، اور موت نہ آتی تو لوگ مبداء و منتہٰی سے غافل اور بےفکر ہو کر عمل چھوڑ بیٹھتے اور دوبارہ زندہ نہ کیے جاتے تو بھلا برے کا بدلہ کہاں ملتا۔
Top