Tafseer-e-Usmani - Al-Mulk : 3
الَّذِیْ خَلَقَ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ طِبَاقًا١ؕ مَا تَرٰى فِیْ خَلْقِ الرَّحْمٰنِ مِنْ تَفٰوُتٍ١ؕ فَارْجِعِ الْبَصَرَ١ۙ هَلْ تَرٰى مِنْ فُطُوْرٍ
الَّذِيْ : جس نے خَلَقَ : بنائے سَبْعَ سَمٰوٰتٍ : سات آسمان طِبَاقًا : اوپر تلے۔ تہ بہ تہ مَا تَرٰى : نہ تم دیکھو گے فِيْ خَلْقِ الرَّحْمٰنِ : رحمن کی تخلیق میں مِنْ تَفٰوُتٍ : کوئی نقص۔ کجی۔ خلل فَارْجِعِ الْبَصَرَ : پھر لوٹاؤ نگاہ کو هَلْ تَرٰى : کیا تم دیکھتے ہو مِنْ فُطُوْرٍ : کوئی شگاف۔ کوئی رخنہ
3 جس نے بنائے سات آسمان تہ پر تہ4 کیا دیکھتا ہے تو رحمان کے بنانے میں کچھ فرق5 پھر دوبارہ نگاہ کر کہیں نظر آتی ہے تجھ کو دڑاڑ6 
3  یعنی زبردست ہے جس کی پکڑ سے کوئی نہیں نکل سکتا اور بخشنے والا بھی بہت بڑا ہے۔ 4  حدیث میں آیا کہ ایک آسمان کے اوپر دوسرا آسمان، دوسرے پر تیسرا اسی طرح سات آسمان اوپر نیچے ہیں۔ اور ہر ایک آسمان سے دوسرے تک پانچ سو برس کی مسافت ہے۔ نصوص میں یہ تصریح نہیں کی گئی کہ اوپر جو نیلگونی چیز ہم کو نظر آتی ہے وہ ہی آسمان ہے ہوسکتا ہے کہ ساتوں آسمان اس کے اوپر ہوں اور یہ نیلگونی چیز آسمان کی چھت گیری کا کام دیتی ہو۔ 5  یعنی قدرت نے اپنے انتظام اور کاریگری میں کہیں فرق نہیں کیا ہر چیز میں انسان سے لے کر حیوانات، نباتات، عناصر، اجرام علویہ، سبع سماوات اور نیرات تک یکساں کاریگری دکھلائی ہے۔ یہ نہیں کہ بعض اشیاء کو حکمت و بصیرت سے اور بعض کو یونہی کیف ما اتفق، بےتکایا بیکار و فضول بنادیا ہو (العیاذ باللہ) اور جہاں کسی کو ایسا وہم گزرے سمجھو اس کی عقل و نظر کا قصور ہے۔ 6 یعنی ساری کائنات نیچے سے اوپر تک ایک قانون اور مضبوط نظام میں جکڑی ہوئی ہے اور کڑی سے کڑی ملی ہوئی ہے، کہیں درز یا دراڑ نہیں۔ نہ کسی صنعت میں کسی طرح کا اختلال پایا جاتا ہے۔ ہر چیز ویسی ہے جیسا اسے ہونا چاہیے۔ اور اگر یہ آیتیں صرف آسمان سے متعلق ہیں تو مطلب یہ ہوگا کہ اے مخاطب ! اوپر آسمان کی طرف نظر اٹھا کر دیکھ کہیں اونچ نیچ یا درز اور شگاف نہیں پائے گا۔ بلکہ ایک صاف ہموار، متصل، مربوط اور منظم چیز نظر آئے گی جس میں باوجود مروردہور اور تطاول ازمان کے آج تک کوئی فرق اور تفاوت نہیں آیا۔
Top