Tafseer-e-Usmani - Al-Mulk : 5
وَ لَقَدْ زَیَّنَّا السَّمَآءَ الدُّنْیَا بِمَصَابِیْحَ وَ جَعَلْنٰهَا رُجُوْمًا لِّلشَّیٰطِیْنِ وَ اَعْتَدْنَا لَهُمْ عَذَابَ السَّعِیْرِ
وَلَقَدْ : اور البتہ تحقیق زَيَّنَّا : زینت دی ہم نے۔ خوب صورت بنایا ہم نے السَّمَآءَ الدُّنْيَا : آسمان دنیا کو بِمَصَابِيْحَ : چراغوں کے ساتھ وَجَعَلْنٰهَا : اور بنایا ہم نے ان کو رُجُوْمًا : مارنے کی چیز لِّلشَّيٰطِيْنِ : شیطانوں کے لیے وَاَعْتَدْنَا : اور تیار کیا ہم نے لَهُمْ : ان کے لیے عَذَابَ السَّعِيْرِ : جلنے کا عذاب
اور ہم نے رونق دی سب سے ورلے آسمان کو چراغوں سے8 اور ان سے کر رکھی ہے ہم نے پھینک مار شیطانوں کے واسطے9 اور رکھا ہے ان کے واسطے عذاب دہکتی آگ کا10
8  یعنی آسمان کی طرف دیکھو ! رات کے وقت ستاروں کی جگمگاہٹ سے کیسی رونق و شان معلوم ہوتی ہے۔ یہ قدرتی چراغ ہیں جن سے دنیا کے بہت سے منافع وابستہ ہیں۔ 9  یہ مضمون سورة " حجر " وغیرہ میں کئی جگہ بہت تفصیل سے گزر چکا ہے۔ 10  یعنی دنیا میں تو شہاب پھینکے جاتے ہیں اور آخرت میں ان کے لیے دوزخ کی آگ تیار ہے۔
Top