Tafseer-e-Usmani - Al-Haaqqa : 40
اِنَّهٗ لَقَوْلُ رَسُوْلٍ كَرِیْمٍۚۙ
اِنَّهٗ : بیشک وہ لَقَوْلُ : البتہ ایک بات ہے رَسُوْلٍ كَرِيْمٍ : معزز فرشتے کی
یہ کہا ہے ایک پیغام لانے والے سردار کا6 
6 یعنی جو کچھ جنت و دوزخ وغیرہ کا بیان ہوا، یہ کوئی شاعری نہیں نہ کاہنوں کی اٹکل پچو باتیں ہیں، بلکہ یہ قرآن ہے اللہ کا کلام جس کو آسمان سے ایک بزرگ فرشتہ لے کر ایک بزرگ ترین پیغمبر پر اترا، جو آسمان سے لایا وہ، اور جس نے زمین والوں کو پہنچایا، دونوں رسول کریم ہیں ایک کا کریم ہونا تو تم آنکھوں سے دیکھتے ہو۔ اور دوسرے کی کرامت و بزرگی پہلے کریم کے بیان سے ثابت ہے۔ (تنبیہ) عالم میں دو قسم کی چیزیں ہیں۔ ایک جس کو آدمی آنکھوں سے دیکھتا ہے دوسری جو آنکھوں سے نظر نہیں آتی، عقل وغیرہ کے ذریعہ سے ان کے تسلیم کرنے پر مجبور ہے۔ مثلاً ہم کتنا ہی آنکھیں پھاڑ کر زمین کو دیکھیں، وہ چلتی ہوئی نظر نہ آئے گی لیکن حکماء کے دلائل وبراہین سے عاجز ہو کر ہم اپنی آنکھ کو غلطی پر سمجھتے ہیں اور اپنی عقل کے یا دوسرے عقلاء کی عقل کے ذریعہ سے جو اس کی ان غلطیوں کی تصحیح و اصلاح کرلیتے ہیں لیکن مشکل یہ ہے کہ ہم میں سے کسی کی عقل بھی غلطیوں اور کوتاہیوں سے محفوظ نہیں۔ آخر اس کی غلطیوں کی اصلاح اور کوتاہیوں کی تلافی کس سے ہو۔ بس تمام عالم میں ایک وحی الٰہی کی قوت ہے جو خود غلطی سے محفوظ و معصوم رہتے ہوئے تمام عقلی قوتوں کی اصلاح و تکمیل کرسکتی ہے جس طرح حواس جہاں پہنچ کر عاجز ہوتے ہیں وہاں عقل کام دیتی ہے، ایسے ہی جس میدان میں عقل مجرد کام نہیں دیتی یا ٹھوکریں کھاتی ہے اس جگہ وحی الٰہی اس کی دستگیری کر کے ان بلند حقائق سے روشناس کرتی ہے۔ شاید اسی لیے یہاں ( بِمَا تُبْصِرُوْنَ 38؀ۙ وَمَا لَا تُبْصِرُوْنَ 39) 69 ۔ الحاقہ :38) کی قسم کھائی۔ یعنی جو حقائق جنت و دوزخ وغیرہ کی پہلی آیات میں بیان ہوئی ہیں، اگر دائرہ محسوسات سے بلند تر ہونے کی وجہ سے تمہاری سمجھ میں نہ آئیں تو اشیاء میں مبصرات وغیر مبصرات یا بالفاظ دیگر محسوسات وغیرہ محسوسات کی تقسیم سے سمجھ لو کہ یہ رسول کریم کا کلام ہے جو بذریعہ وحی الٰہی دائرہ حس و عقل سے بالا تر حقائق کی خبر دیتا ہے۔ جب ہم بہت سی غیر محسوس بلکہ مخالف حس چیزوں کو اپنی عقل یا دوسروں کی تقلید سے مان لیتے ہیں تو بعض بہت اونچی چیزوں کو رسول کریم کے کہنے سے ماننے میں کیا اشکال ہے۔
Top