19. Maryamمريم
Mary · Meccan · 98 ayahs · 6 rukus · مولانا عبد الرحمٰن کیلانی
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
كٓهٰیٰعٓصٓ۫ۚ﴿1﴾
ک۔ ہ۔ ی۔ ع۔ صذِكْرُ رَحْمَتِ رَبِّكَ عَبْدَهٗ زَكَرِیَّاۖۚ﴿2﴾
یہ آپ کے پروردگار کی اس رحمت کا ذکر ہے جو اس نے اپنے بندے زکریا پر کی تھی۔اِذْ نَادٰى رَبَّهٗ نِدَآءً خَفِیًّا﴿3﴾
جب زکریا نے اپنے پروردگار کو چپکے چپکے پکاراقَالَ رَبِّ اِنِّیْ وَهَنَ الْعَظْمُ مِنِّیْ وَ اشْتَعَلَ الرَّاْسُ شَیْبًا وَّ لَمْ اَكُنْۢ بِدُعَآئِكَ رَبِّ شَقِیًّا﴿4﴾
اور کہا : میرے پروردگار ! میری ہڈیاں بوسیدہ ہوچکیں اور بڑھاپے کی وجہ سے سر کے بال سفید ہوگئے، تاہم اے میرے پروردگار ! میں تجھے پکار کر کبھی محروم نہیں رہا۔وَ اِنِّیْ خِفْتُ الْمَوَالِیَ مِنْ وَّرَآءِیْ وَ كَانَتِ امْرَاَتِیْ عَاقِرًا فَهَبْ لِیْ مِنْ لَّدُنْكَ وَلِیًّاۙ﴿5﴾
میں اپنے پیچھے اپنے بھائی بندوں (کی برائیوں سے) ڈرتا ہوں اور میری بیوی بانجھ ہے تو اپنی جناب سے مجھے ایک وارث عطا فرمایَّرِثُنِیْ وَ یَرِثُ مِنْ اٰلِ یَعْقُوْبَ١ۖۗ وَ اجْعَلْهُ رَبِّ رَضِیًّا﴿6﴾
جو میرے اور آل یعقوب کا وارث بنے اور اے میرے پروردگار ! اسے پسندیدہ انسان بنانایٰزَكَرِیَّاۤ اِنَّا نُبَشِّرُكَ بِغُلٰمِ اِ۟سْمُهٗ یَحْیٰى١ۙ لَمْ نَجْعَلْ لَّهٗ مِنْ قَبْلُ سَمِیًّا﴿7﴾
(اللہ تعالیٰ نے جواباً فرمایا :) زکریا ! ہم تمہیں ایک لڑکے کی بشارت دیتے ہیں جس کا نام یحییٰ ہوگا۔ اس سے پیشتر اس نام کا کوئی دوسرا آدمی ہم نے پیدا نہیں کیا۔قَالَ رَبِّ اَنّٰى یَكُوْنُ لِیْ غُلٰمٌ وَّ كَانَتِ امْرَاَتِیْ عَاقِرًا وَّ قَدْ بَلَغْتُ مِنَ الْكِبَرِ عِتِیًّا﴿8﴾
زکریا نے عرض کی : میرے پروردگار ! میرے ہاں لڑکا کیسے ہوگا جبکہ میری بیوی بانجھ ہے اور میں بڑھاپے کی حد کمال کو پہنچا چکا ہوںقَالَ كَذٰلِكَ١ۚ قَالَ رَبُّكَ هُوَ عَلَیَّ هَیِّنٌ وَّ قَدْ خَلَقْتُكَ مِنْ قَبْلُ وَ لَمْ تَكُ شَیْئًا﴿9﴾
اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ہاں ایسا ضرور ہوگا۔ تیرا پروردگار یہ کہہ رہا ہے کہ یہ میرے لئے آسان سی بات ہے، اس سے پہلے میں تجھے پیدا کرچکا ہوں جبکہ تو کوئی چیز بھی نہ تھاقَالَ رَبِّ اجْعَلْ لِّیْۤ اٰیَةً١ؕ قَالَ اٰیَتُكَ اَلَّا تُكَلِّمَ النَّاسَ ثَلٰثَ لَیَالٍ سَوِیًّا﴿10﴾
زکریا نے عرض کیا : پروردگار ! پھر میرے لئے کوئی نشانی مقرر کردے اللہ تعالیٰ نے فرمایا تیرے لئے نشانی یہ ہے کہ تو مسلسل تین رات تک لوگوں سے گفتگو نہ کرسکے گافَخَرَجَ عَلٰى قَوْمِهٖ مِنَ الْمِحْرَابِ فَاَوْحٰۤى اِلَیْهِمْ اَنْ سَبِّحُوْا بُكْرَةً وَّ عَشِیًّا﴿11﴾
چناچہ (جب وہ وقت آگیا) زکریا اپنے حجرہ سے نکل کر اپنی قوم کے پاس آئے تو انھیں اشارہ سے کہا کہ صبح و شام تسبیح بیان کیا کرویٰیَحْیٰى خُذِ الْكِتٰبَ بِقُوَّةٍ١ؕ وَ اٰتَیْنٰهُ الْحُكْمَ صَبِیًّاۙ﴿12﴾
(اللہ تعالیٰ نے یحییٰ کو بچپن میں ہی حکم دیا ہے کہ) اے یحییٰ ! کتاب (تورات) پر مضبوطی سے عمل پیرا ہوجاؤ اور ہم نے اسے بچپن میں ہی قوت فیصلہ عطا کردی تھی۔وَّ حَنَانًا مِّنْ لَّدُنَّا وَ زَكٰوةً١ؕ وَ كَانَ تَقِیًّاۙ﴿13﴾
ہم نے اسے اپنی مہربانی سے نرم دل اور پاک سیرت بنایا اور وہ فی الواقع پرہیزگار تھے۔وَّ بَرًّۢا بِوَالِدَیْهِ وَ لَمْ یَكُنْ جَبَّارًا عَصِیًّا﴿14﴾
وہ اپنے والدین سے ہمیشہ اچھا سلوک کرتے تھے اور کسی وقت بھی جابر اور نافرمان نہ ہوئے۔وَ سَلٰمٌ عَلَیْهِ یَوْمَ وُلِدَ وَ یَوْمَ یَمُوْتُ وَ یَوْمَ یُبْعَثُ حَیًّا۠ع﴿15﴾
اس دن پر سلامتی ہو جس دن بھی وہ پیدا ہوئے اور اس دن بھی جب وہ مریں گے اور اس دن بھی جب دوبارہ زندہ اٹھایا جائے گا۔وَ اذْكُرْ فِی الْكِتٰبِ مَرْیَمَ١ۘ اِذِ انْتَبَذَتْ مِنْ اَهْلِهَا مَكَانًا شَرْقِیًّاۙ﴿16﴾
اور (اے پیغمبر !) اس کتاب میں مریم کا حال بھی ذکر کیجئے۔ جب وہ اپنے گھر والوں سے الگ ہو کر مشرقی جانب گوشہ نشین ہوگئی تھی۔فَاتَّخَذَتْ مِنْ دُوْنِهِمْ حِجَابًا١۪۫ فَاَرْسَلْنَاۤ اِلَیْهَا رُوْحَنَا فَتَمَثَّلَ لَهَا بَشَرًا سَوِیًّا﴿17﴾
اور پردہ ڈال کر ان سے چھپ گئی تھی۔ اس وقت ہم نے اس کی طرف اپنی روح (فرشتہ) کو بھیجا جو ایک تندرست انسان کی شکل میں مریم کے سامنے آگیا۔قَالَتْ اِنِّیْۤ اَعُوْذُ بِالرَّحْمٰنِ مِنْكَ اِنْ كُنْتَ تَقِیًّا﴿18﴾
وہ بولی اگر تمہیں کچھ اللہ کا خوف ہے تو میں تم سے اللہ کی پناہ مانگتی ہوں۔قَالَ اِنَّمَاۤ اَنَا رَسُوْلُ رَبِّكِ١ۖۗ لِاَهَبَ لَكِ غُلٰمًا زَكِیًّا﴿19﴾
وہ بولے : میں تو تمہارے پروردگار کا بھیجا ہوا ہوں اور اس لیے آیا ہوں کہ تمہیں ایک پاک سیرت لڑکا دوںقَالَتْ اَنّٰى یَكُوْنُ لِیْ غُلٰمٌ وَّ لَمْ یَمْسَسْنِیْ بَشَرٌ وَّ لَمْ اَكُ بَغِیًّا﴿20﴾
وہ بولیں : میرے ہاں لڑکا کیسے ہوگا جبکہ مجھے کسی انسان نے چھوا تک نہیں اور میں بدکار بھی نہیںقَالَ كَذٰلِكِ١ۚ قَالَ رَبُّكِ هُوَ عَلَیَّ هَیِّنٌ١ۚ وَ لِنَجْعَلَهٗۤ اٰیَةً لِّلنَّاسِ وَ رَحْمَةً مِّنَّا١ۚ وَ كَانَ اَمْرًا مَّقْضِیًّا﴿21﴾
وہ بولے ہاں ! ایسا ہی ہوگا تمہارے پروردگار نے فرمایا ہے کہ میرے لئے یہ آسان سی بات ہے اور اس لیے بھی (ایسا ہوگا) کہ ہم اس لڑکے کو لوگوں کے لیے ایک نشانی بنائیں اور وہ ہماری طرف سے رحمت ہوگا اور یہ کام ہو کے رہے گافَحَمَلَتْهُ فَانْتَبَذَتْ بِهٖ مَكَانًا قَصِیًّا﴿22﴾
چناچہ مریم کو اس بچے کا حمل ٹھہر گیا اور وہ اس حالت میں ایک دور کے مکان میں علیحدہ جا بیٹھیںفَاَجَآءَهَا الْمَخَاضُ اِلٰى جِذْعِ النَّخْلَةِ١ۚ قَالَتْ یٰلَیْتَنِیْ مِتُّ قَبْلَ هٰذَا وَ كُنْتُ نَسْیًا مَّنْسِیًّا﴿23﴾
پھر زچگی کی درد انھیں ایک کھجور کے تنے تک لے آئی تو کہنے لگیں، کاش میں اس سے پہلے مرچکی ہوتی اور میرا نام و نشان بھی باقی نہ رہتا۔فَنَادٰىهَا مِنْ تَحْتِهَاۤ اَلَّا تَحْزَنِیْ قَدْ جَعَلَ رَبُّكِ تَحْتَكِ سَرِیًّا﴿24﴾
اس وقت درخت کے نیچے سے (فرشتے نے) انھیں پکار کر کہا کہ : غمزدہ نہ ہو، تمہارے پروردگار نے تمہارے نیچے ایک چشمہ بہا دیا ہے۔وَ هُزِّیْۤ اِلَیْكِ بِجِذْعِ النَّخْلَةِ تُسٰقِطْ عَلَیْكِ رُطَبًا جَنِیًّا٘﴿25﴾
اور اس کھجور کے تنہ کو زور سے ہلاؤ وہ آپ پر تازہ پکی ہوئی کھجوریں گرائے گا۔فَكُلِیْ وَ اشْرَبِیْ وَ قَرِّیْ عَیْنًا١ۚ فَاِمَّا تَرَیِنَّ مِنَ الْبَشَرِ اَحَدًا١ۙ فَقُوْلِیْۤ اِنِّیْ نَذَرْتُ لِلرَّحْمٰنِ صَوْمًا فَلَنْ اُكَلِّمَ الْیَوْمَ اِنْسِیًّاۚ﴿26﴾
پس کھاؤ ، پیو اور اپنی آنکھ ٹھنڈی کرو۔ پھر اگر کوئی آدمی تمہیں دیکھ پائے تو کہہ دینا کہ : میں نے اللہ کے لئے روزہ کی نذر مانی ہے لہذا آج کسی انسان سے بات نہ کروں گیفَاَتَتْ بِهٖ قَوْمَهَا تَحْمِلُهٗ١ؕ قَالُوْا یٰمَرْیَمُ لَقَدْ جِئْتِ شَیْئًا فَرِیًّا﴿27﴾
پھر وہ اس بچے کو اٹھائے اپنی قوم میں آئیں تو وہ کہنے لگے : مریم تو تو بہتان والی چیز لائی ہے۔یٰۤاُخْتَ هٰرُوْنَ مَا كَانَ اَبُوْكِ امْرَاَ سَوْءٍ وَّ مَا كَانَتْ اُمُّكِ بَغِیًّاۖۚ﴿28﴾
اے ہارون کی بہن ! نہ تو تیرا باپ کوئی برا آدمی تھا اور نہ ہی تیری ماں بدکار تھیفَاَشَارَتْ اِلَیْهِ١ؕ قَالُوْا كَیْفَ نُكَلِّمُ مَنْ كَانَ فِی الْمَهْدِ صَبِیًّا﴿29﴾
مریم نے اس بچے کی طرف اشارہ کردیا تو وہ کہنے لگے : ہم اس سے کیسے کلام کریں جو ابھی گود کا بچہ ہے ؟قَالَ اِنِّیْ عَبْدُ اللّٰهِ١ؕ۫ اٰتٰىنِیَ الْكِتٰبَ وَ جَعَلَنِیْ نَبِیًّاۙ﴿30﴾
بچہ بول اٹھا۔ میں اللہ کا بندہ ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے کتاب دی ہے اور نبی بنایا ہے۔وَّ جَعَلَنِیْ مُبٰرَكًا اَیْنَ مَا كُنْتُ١۪ وَ اَوْصٰنِیْ بِالصَّلٰوةِ وَ الزَّكٰوةِ مَا دُمْتُ حَیًّا٢۪ۖ﴿31﴾
اور جہاں کہیں بھی میں رہوں اس نے مجھے بابرکت بنایا ہے اور جب تک میں زندہ رہوں مجھے نماز اور زکوٰۃ ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔وَّ بَرًّۢا بِوَالِدَتِیْ١٘ وَ لَمْ یَجْعَلْنِیْ جَبَّارًا شَقِیًّا﴿32﴾
اور یہ بھی کہ میں اپنی والدہ سے بہتر سلوک کرتا رہوں۔ نیز اللہ نے مجھے جابر اور بدبخت نہیں بنایا۔وَ السَّلٰمُ عَلَیَّ یَوْمَ وُلِدْتُّ وَ یَوْمَ اَمُوْتُ وَ یَوْمَ اُبْعَثُ حَیًّا﴿33﴾
مجھ پر سلامتی ہو جس دن میں پیدا ہوا اور اس دن بھی جب میں مروں گا اور اس دن بھی جب میں زندہ کرکے اٹھایا جاؤں گا۔ذٰلِكَ عِیْسَى ابْنُ مَرْیَمَ١ۚ قَوْلَ الْحَقِّ الَّذِیْ فِیْهِ یَمْتَرُوْنَ﴿34﴾
یہ ہے عیٰسی بن مریم کا قصہ۔ یہی سچی بات ہے جس میں وہ جھگڑا کر رہے ہیں۔مَا كَانَ لِلّٰهِ اَنْ یَّتَّخِذَ مِنْ وَّلَدٍ١ۙ سُبْحٰنَهٗ١ؕ اِذَا قَضٰۤى اَمْرًا فَاِنَّمَا یَقُوْلُ لَهٗ كُنْ فَیَكُوْنُؕ﴿35﴾
اللہ تعالیٰ کو یہ شایاں نہیں کہ کسی کو اپنا بیٹا بنائے وہ (ایسی باتوں سے) پاک ہے۔ جب وہ کسی کام کا فیصلہ کرتا ہے تو بس یہ کہہ دیتا ہے کہ ہوجا تو وہ ہوجاتی ہے۔وَ اِنَّ اللّٰهَ رَبِّیْ وَ رَبُّكُمْ فَاعْبُدُوْهُ١ؕ هٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِیْمٌ﴿36﴾
اور (آپ انھیں بتائیں کہ) اللہ ہی میرا اور تمہارا پروردگار ہے لہذا اسی کی عبادت کرو، یہی سیدھی راہ ہے۔فَاخْتَلَفَ الْاَحْزَابُ مِنْۢ بَیْنِهِمْ١ۚ فَوَیْلٌ لِّلَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ مَّشْهَدِ یَوْمٍ عَظِیْمٍ﴿37﴾
پھر مختلف گروہوں نے آپس میں اختلاف کیا۔ پس ایسے کافروں کے لئے ہلاکت ہے جو بڑے دن کی حاضری کا انکار کر رہے ہیں۔اَسْمِعْ بِهِمْ وَ اَبْصِرْ١ۙ یَوْمَ یَاْتُوْنَنَا لٰكِنِ الظّٰلِمُوْنَ الْیَوْمَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ﴿38﴾
جس دن وہ ہمارے پاس آئیں گے اس روز وہ خوب سن رہے اور دیکھ رہے ہوں گے۔ لیکن یہ ظالم آج کھلی گمراہی میں پڑے ہیں۔وَ اَنْذِرْهُمْ یَوْمَ الْحَسْرَةِ اِذْ قُضِیَ الْاَمْرُ١ۘ وَ هُمْ فِیْ غَفْلَةٍ وَّ هُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ﴿39﴾
نیز انھیں پچھتاوے کے دن سے ڈرائیے جبکہ ہر کام کا فیصلہ کیا جائے گا۔ اور (آج تو) یہ لوگ غفلت میں پڑے ہیں اور ایمان نہیں لارہے۔اِنَّا نَحْنُ نَرِثُ الْاَرْضَ وَ مَنْ عَلَیْهَا وَ اِلَیْنَا یُرْجَعُوْنَ۠﴿40﴾
بلاشبہ ہم ہی زمین اور اس پر موجود سب چیزوں کے وارث ہوں گے اور انھیں ہمارے ہاں ہی لوٹ کر آنا ہے۔وَ اذْكُرْ فِی الْكِتٰبِ اِبْرٰهِیْمَ١ؕ۬ اِنَّهٗ كَانَ صِدِّیْقًا نَّبِیًّاع﴿41﴾
اور اس کتاب میں سیدنا ابراہیم کا قصہ بیان کیجئے بلاشبہ وہ راست باز انسان اور ایک نبی تھے۔اِذْ قَالَ لِاَبِیْهِ یٰۤاَبَتِ لِمَ تَعْبُدُ مَا لَا یَسْمَعُ وَ لَا یُبْصِرُ وَ لَا یُغْنِیْ عَنْكَ شَیْئًا﴿42﴾
جب انہوں نے اپنے باپ سے کہا : ابا جان ! آپ ایسی چیزوں کی عبادت کیوں کرتے ہیں جو نہ سنتی ہیں ، نہ دیکھتی ہیں اور نہ تمہارے کسی کام آسکتی ہیں۔یٰۤاَبَتِ اِنِّیْ قَدْ جَآءَنِیْ مِنَ الْعِلْمِ مَا لَمْ یَاْتِكَ فَاتَّبِعْنِیْۤ اَهْدِكَ صِرَاطًا سَوِیًّا﴿43﴾
ابا جان ! میرے پاس ایسا علم ہے جو آپ کے پاس نہیں آیا۔ لہذا میرے پیچھے چلئے میں آپ کو سیدھی راہ بتاؤں گا۔یٰۤاَبَتِ لَا تَعْبُدِ الشَّیْطٰنَ١ؕ اِنَّ الشَّیْطٰنَ كَانَ لِلرَّحْمٰنِ عَصِیًّا﴿44﴾
ابا جان ! شیطان کی عبادت نہ کیجئے وہ تو اللہ تعالیٰ کا نافرمان ہے۔یٰۤاَبَتِ اِنِّیْۤ اَخَافُ اَنْ یَّمَسَّكَ عَذَابٌ مِّنَ الرَّحْمٰنِ فَتَكُوْنَ لِلشَّیْطٰنِ وَلِیًّا﴿45﴾
ابا جان ! مجھے خطرہ ہے کہ اللہ تعالیٰ سے آپ کو سزا ملے گی اور آپ شیطان کے ساتھی بن جائیں گے۔قَالَ اَرَاغِبٌ اَنْتَ عَنْ اٰلِهَتِیْ یٰۤاِبْرٰهِیْمُ١ۚ لَئِنْ لَّمْ تَنْتَهِ لَاَرْجُمَنَّكَ وَ اهْجُرْنِیْ مَلِیًّا﴿46﴾
باپ نے جواب دیا : ابراہیم ! کیا تو میرے معبودوں سے برگشتہ ہوگیا ہے ؟ اگر تو (اس کام سے) باز نہ آیا تو میں تجھے سنگسار کردوں گا اور (بہتر یہ ہے کہ) تو ایک طویل مدت کے لئے (میری آنکھوں سے) دور چلا جاقَالَ سَلٰمٌ عَلَیْكَ١ۚ سَاَسْتَغْفِرُ لَكَ رَبِّیْ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ بِیْ حَفِیًّا﴿47﴾
ابراہیم نے جواب دیا : ابا جان ! آپ پر سلام ہو۔ میں اپنے پروردگار سے آپ کے لئے بخشش کی دعا کروں گا۔ بلاشبہ میرا پروردگار مجھ پر مہربان ہےوَ اَعْتَزِلُكُمْ وَ مَا تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ اَدْعُوْا رَبِّیْ١ۖ٘ عَسٰۤى اَلَّاۤ اَكُوْنَ بِدُعَآءِ رَبِّیْ شَقِیًّا﴿48﴾
میں آپ لوگوں کو بھی چھوڑے جارہا ہوں اور ان کو بھی جنہیں تم لوگ اللہ کے سوا پکارتے ہو اور میں تو اپنے پروردگار ہی کو پکاروں گا مجھے امید ہے کہ میں اپنے پروردگار کو پکار کر محروم نہ رہوں گافَلَمَّا اعْتَزَلَهُمْ وَ مَا یَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ۙ وَهَبْنَا لَهٗۤ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ١ؕ وَ كُلًّا جَعَلْنَا نَبِیًّا﴿49﴾
پھر جب سیدنا ابراہیم (ں) ان لوگوں کو کو چھوڑ کر چلے گئے اور ان چیزوں کو بھی جنہیں وہ اللہ کے سوا پوجتے تھے۔ تو ہم نے انھیں اسحاق عطا کیا اور (اس کے بعد) یعقوب بھی۔ ان سب کو ہم نے نبی بنایا تھا۔وَ وَهَبْنَا لَهُمْ مِّنْ رَّحْمَتِنَا وَ جَعَلْنَا لَهُمْ لِسَانَ صِدْقٍ عَلِیًّا۠ع﴿50﴾
ہم نے ان سب کو اپنی رحمت سے نوازا تھا اور ذکر خیر سے سربلند کیا تھا۔وَ اذْكُرْ فِی الْكِتٰبِ مُوْسٰۤى١٘ اِنَّهٗ كَانَ مُخْلَصًا وَّ كَانَ رَسُوْلًا نَّبِیًّا﴿51﴾
نیز اس کتاب میں موسیٰ کا قصہ بھی بیان کیجئے۔ بلاشبہ وہ ایک برگزیدہ انسان اور رسول نبی تھے۔وَ نَادَیْنٰهُ مِنْ جَانِبِ الطُّوْرِ الْاَیْمَنِ وَ قَرَّبْنٰهُ نَجِیًّا﴿52﴾
ہم نے انھیں کوہ طور کی داہنی جانب سے پکارا اور راز کی گفتگو کرنے کے لئے اسے قرب عطا کیا۔وَ وَهَبْنَا لَهٗ مِنْ رَّحْمَتِنَاۤ اَخَاهُ هٰرُوْنَ نَبِیًّا﴿53﴾
اور اپنی مہربانی سے ان کے بھائی ہارون کو نبی بنا کر اسے (مدد کے طور پر) دے دیا۔وَ اذْكُرْ فِی الْكِتٰبِ اِسْمٰعِیْلَ١٘ اِنَّهٗ كَانَ صَادِقَ الْوَعْدِ وَ كَانَ رَسُوْلًا نَّبِیًّاۚ﴿54﴾
نیز اس کتاب میں اسماعیل کا قصہ بیان کیجئے۔ وہ وعدے کے سچے اور رسول نبی تھے۔وَ كَانَ یَاْمُرُ اَهْلَهٗ بِالصَّلٰوةِ وَ الزَّكٰوةِ١۪ وَ كَانَ عِنْدَ رَبِّهٖ مَرْضِیًّا﴿55﴾
وہ اپنے گھر والوں کو نماز اور زکوٰۃ ادا کرنے کا حکم دیتے تھے اور اپنے پروردگار کے نزدیک ایک پسندیدہ انسان تھے۔وَ اذْكُرْ فِی الْكِتٰبِ اِدْرِیْسَ١٘ اِنَّهٗ كَانَ صِدِّیْقًا نَّبِیًّاۗۙ﴿56﴾
نیز اس کتاب میں ادریس کا بھی ذکر کیجئے : وہ ایک راست باز انسان اور نبی تھے۔وَّ رَفَعْنٰهُ مَكَانًا عَلِیًّا﴿57﴾
اور ہم نے انھیں بلند مقام پر اٹھا لیا تھا۔اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ مِّنَ النَّبِیّٖنَ مِنْ ذُرِّیَّةِ اٰدَمَ١ۗ وَ مِمَّنْ حَمَلْنَا مَعَ نُوْحٍ١٘ وَّ مِنْ ذُرِّیَّةِ اِبْرٰهِیْمَ وَ اِسْرَآءِیْلَ١٘ وَ مِمَّنْ هَدَیْنَا وَ اجْتَبَیْنَا١ؕ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِمْ اٰیٰتُ الرَّحْمٰنِ خَرُّوْا سُجَّدًا وَّ بُكِیًّا۩۩﴿58﴾
یہ وہ انبیاء ہیں جن پر اللہ نے انعام کیا تھا۔ وہ آدم کی اولاد سے اور ان لوگوں سے تھے جنہیں ہم نے نوح کے ساتھ کشتی میں سوار کیا تھا اور ابراہیم اور اسرائیل کی اولاد سے تھے اور ان لوگوں سے تھے جنہیں ہم نے ہدایت عطا کی تھی اور برگزیدہ کیا تھا۔ جب انھیں اللہ تعالیٰ کی آیات سنائی جاتیں تو وہ روتے ہوئے سجدہ میں گرجاتے تھے۔فَخَلَفَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ خَلْفٌ اَضَاعُوا الصَّلٰوةَ وَ اتَّبَعُوا الشَّهَوٰتِ فَسَوْفَ یَلْقَوْنَ غَیًّاۙ﴿59﴾
پھر ان کے بعد ان کی نالائق اولاد ان کی جانشین بنی جنہوں نے نماز کو ضائع کیا اور اپنی خواہشات کے پیچھے لگ گئے۔ وہ عنقریب گمراہی کے انجام۔ سے دوچار ہوں گے۔اِلَّا مَنْ تَابَ وَ اٰمَنَ وَ عَمِلَ صَالِحًا فَاُولٰٓئِكَ یَدْخُلُوْنَ الْجَنَّةَ وَ لَا یُظْلَمُوْنَ شَیْئًاۙ﴿60﴾
البتہ ان میں سے جس نے توبہ کرلی، ایمان لایا اور اچھے عمل کئے تو ایسے لوگ جنت میں داخل ہوں گے اور ان کی ذرہ بھر بھی حق تلفی نہ ہوگی۔جَنّٰتِ عَدْنِ اِ۟لَّتِیْ وَعَدَ الرَّحْمٰنُ عِبَادَهٗ بِالْغَیْبِ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ وَعْدُهٗ مَاْتِیًّا﴿61﴾
وہ جنت ایسے ہمیشہ رہنے والے باغات ہیں جن کا اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں سے وعدہ کر رکھا ہے اور انھیں کسی نے دیکھا نہیں۔ بلاشبہ اس کا وعدہ پیش آکے رہے گا۔لَا یَسْمَعُوْنَ فِیْهَا لَغْوًا اِلَّا سَلٰمًا١ؕ وَ لَهُمْ رِزْقُهُمْ فِیْهَا بُكْرَةً وَّ عَشِیًّا﴿62﴾
اس جنت میں وہ امن اور سلامتی کی باتوں کے علاوہ کوئی بیہودہ بات نہ سنیں گے اور وہاں انھیں صبح و شام ان کا رزق ملتا رہے گا۔تِلْكَ الْجَنَّةُ الَّتِیْ نُوْرِثُ مِنْ عِبَادِنَا مَنْ كَانَ تَقِیًّا﴿63﴾
یہ ہے وہ جنت جس کا وارث ہم اپنے بندوں میں سے اس کو بنائیں گے جو پرہیزگار رہا ہو۔وَ مَا نَتَنَزَّلُ اِلَّا بِاَمْرِ رَبِّكَ١ۚ لَهٗ مَا بَیْنَ اَیْدِیْنَا وَ مَا خَلْفَنَا وَ مَا بَیْنَ ذٰلِكَ١ۚ وَ مَا كَانَ رَبُّكَ نَسِیًّاۚ﴿64﴾
اور (اے نبی !) ہم (فرشتے) آپ کے پروردگار کے حکم کے بغیر نازل نہیں ہوا کرتے۔ جو کچھ ہمارے سامنے ہے اور جو ہمارے پیچھے ہے اور جو ان کے درمیان ہے سب اسی کا ہے اور آپ کا پروردگار بھولنے والا نہیں ہے۔رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا فَاعْبُدْهُ وَ اصْطَبِرْ لِعِبَادَتِهٖ١ؕ هَلْ تَعْلَمُ لَهٗ سَمِیًّا۠ع﴿65﴾
وہ آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے سب چیزوں کا مالک ہے لہذا اسی کی بندگی کیجئے اور اسی کی بندگی پر ڈٹ جائے کیا آپ (کوئی اور بھی) اس کا ہم نام جانتے ہیں۔وَ یَقُوْلُ الْاِنْسَانُ ءَاِذَا مَا مِتُّ لَسَوْفَ اُخْرَجُ حَیًّا﴿66﴾
انسان یہ کہتا ہے کہ جب میں مرجاؤں گا تو کیا پھر سے زندہ کرکے (قبر سے) نکال لایاجاؤں گا ؟اَوَ لَا یَذْكُرُ الْاِنْسَانُ اَنَّا خَلَقْنٰهُ مِنْ قَبْلُ وَ لَمْ یَكُ شَیْئًا﴿67﴾
کیا انسان کو یہ یاد نہیں رہا کہ اس سے پہلے ہم نے اسے پیدا کیا جبکہ وہ کچھ بھی نہ تھا۔فَوَرَبِّكَ لَنَحْشُرَنَّهُمْ وَ الشَّیٰطِیْنَ ثُمَّ لَنُحْضِرَنَّهُمْ حَوْلَ جَهَنَّمَ جِثِیًّاۚ﴿68﴾
آپ کے پروردگار کی قسم ! ہم انھیں اور ان کے ساتھ شیطانوں کو ضرور جمع کر لائیں گے۔ پھر ان سب کو گھٹنوں کے بل جہنم کے ارد گرد حاضر کردیں گے۔ثُمَّ لَنَنْزِعَنَّ مِنْ كُلِّ شِیْعَةٍ اَیُّهُمْ اَشَدُّ عَلَى الرَّحْمٰنِ عِتِیًّاۚ﴿69﴾
پھر ہر گروہ میں سے ایسے لوگوں کو کھینچ نکالیں گے جو اللہ تعالیٰ کے مقابلہ پر سخت سرکش بنے ہوئے تھے۔ثُمَّ لَنَحْنُ اَعْلَمُ بِالَّذِیْنَ هُمْ اَوْلٰى بِهَا صِلِیًّا﴿70﴾
پھر ہم ان لوگوں کو بھی خوب جانتے ہیں جو جہنم میں پہلے داخل ہونے کے زیادہ مستحق ہیں۔وَ اِنْ مِّنْكُمْ اِلَّا وَارِدُهَا١ۚ كَانَ عَلٰى رَبِّكَ حَتْمًا مَّقْضِیًّاۚ﴿71﴾
تم میں سے کوئی بھی ایسا نہیں جس کا جہنم پر گزر نہ ہو۔ یہ ایک قطعی طے شدہ بات ہے جسے پورا کرنا آپ کے پروردگار کے ذمہ ہے۔ثُمَّ نُنَجِّی الَّذِیْنَ اتَّقَوْا وَّ نَذَرُ الظّٰلِمِیْنَ فِیْهَا جِثِیًّا﴿72﴾
پھر ہم پرہیزگاروں کو تو (جہنم سے) نجات دیں گے مگر ظالموں کو اس میں گھٹنوں کے بل گرے ہوئے چھوڑ دیں گے۔وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِمْ اٰیٰتُنَا بَیِّنٰتٍ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا١ۙ اَیُّ الْفَرِیْقَیْنِ خَیْرٌ مَّقَامًا وَّ اَحْسَنُ نَدِیًّا﴿73﴾
اور جب ان پر ہماری واضح آیات پڑھی جاتی ہیں تو کافر ایمان والوں سے کہتے ہیں کہ : بتاؤ ہم دونوں گروہوں میں سے کس کی حالت بہتر ہے اور کس کی مجلس اچھی ہے۔وَ كَمْ اَهْلَكْنَا قَبْلَهُمْ مِّنْ قَرْنٍ هُمْ اَحْسَنُ اَثَاثًا وَّ رِءْیًا﴿74﴾
حالانکہ ہم ان سے پہلے کئی ایسی قومیں ہلاک کرچکے ہیں جو سازوسامان اور ظاہری شان و شوکت کے لحاظ سے ان سے بہتر تھیں۔قُلْ مَنْ كَانَ فِی الضَّلٰلَةِ فَلْیَمْدُدْ لَهُ الرَّحْمٰنُ مَدًّا١ۚ۬ حَتّٰۤى اِذَا رَاَوْا مَا یُوْعَدُوْنَ اِمَّا الْعَذَابَ وَ اِمَّا السَّاعَةَ١ؕ فَسَیَعْلَمُوْنَ مَنْ هُوَ شَرٌّ مَّكَانًا وَّ اَضْعَفُ جُنْدًا﴿75﴾
آپ ان سے کہئے کہ : جو شخص گمراہی میں پڑا ہو تو اللہ تعالیٰ اسے ایک مدت تک ڈھیل دیتے جاتے ہیں تاآنکہ یہ لوگ وہ کچھ دیکھ لیتے ہیں جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے، خواہ یہ عذاب الٰہی ہو یا قیامت ہو، اس وقت انھیں معلوم ہوجائے گا کہ کس کا حال برا ہے اور کس کا جتھا کمزور ہے۔وَ یَزِیْدُ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اهْتَدَوْا هُدًى١ؕ وَ الْبٰقِیٰتُ الصّٰلِحٰتُ خَیْرٌ عِنْدَ رَبِّكَ ثَوَابًا وَّ خَیْرٌ مَّرَدًّا﴿76﴾
اور جو لوگ راہ راست پر چلتے ہیں اللہ انھیں مزید ہدایت عطا کرتے ہیں اور باقی رہنے والی نیکیاں ہی آپ کے پروردگار کے نزدیک ثواب اور انجام کے لحاظ سے بہتر ہیں۔اَفَرَءَیْتَ الَّذِیْ كَفَرَ بِاٰیٰتِنَا وَ قَالَ لَاُوْتَیَنَّ مَالًا وَّ وَلَدًاؕ﴿77﴾
بھلا آپ نے اس شخص کی حالت پر بھی غور کیا جو ہماری آیات کا انکار کرتا ہے اور کہتا ہے کہ مجھے مال اور اولاد ضرور دیا جائے گا ؟اَطَّلَعَ الْغَیْبَ اَمِ اتَّخَذَ عِنْدَ الرَّحْمٰنِ عَهْدًاۙ﴿78﴾
کیا اسے غیب کا پتہ چل گیا ہے یا اس نے اللہ تعالیٰ سے کوئی عہد لے رکھا ہے ؟كَلَّا١ؕ سَنَكْتُبُ مَا یَقُوْلُ وَ نَمُدُّ لَهٗ مِنَ الْعَذَابِ مَدًّاۙ﴿79﴾
ایسا ہرگز نہیں ہوگا جو کچھ یہ کہہ رہا ہے ہم اسے لکھ لیں گے اور اس کے عذاب میں مزید اضافہ کریں گے۔وَّ نَرِثُهٗ مَا یَقُوْلُ وَ یَاْتِیْنَا فَرْدًا﴿80﴾
اور جن باتوں کے متعلق یہ کہہ رہا ہے (مال اور اولاد) ان کے وارث تو ہم ہوں گے اور یہ اکیلا ہی ہمارے پاس آئے گا۔وَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اٰلِهَةً لِّیَكُوْنُوْا لَهُمْ عِزًّاۙ﴿81﴾
نیز ان لوگوں نے اللہ کے سوا دوسرے معبود بنا رکھے ہیں تاکہ وہ ان کے مددگار بنیں۔كَلَّا١ؕ سَیَكْفُرُوْنَ بِعِبَادَتِهِمْ وَ یَكُوْنُوْنَ عَلَیْهِمْ ضِدًّا۠ع﴿82﴾
ایسا ہرگز نہ ہوگا وہ معبود تو ان کی عبادت سے ہی انکار کردیں گے بلکہ الٹا ان کے مخالف بن جائیں گے۔اَلَمْ تَرَ اَنَّاۤ اَرْسَلْنَا الشَّیٰطِیْنَ عَلَى الْكٰفِرِیْنَ تَؤُزُّهُمْ اَزًّاۙ﴿83﴾
آپ دیکھتے نہیں کہ ہم نے کافروں پر شیطان چھوڑ رکھے ہیں جو انھیں ہر وقت (مخالفت حق پر) اکساتے رہتے ہیں۔فَلَا تَعْجَلْ عَلَیْهِمْ١ؕ اِنَّمَا نَعُدُّ لَهُمْ عَدًّاۚ﴿84﴾
سو آپ ان پر (نزول عذاب کے لئے) جلدی نہ کیجئے۔ ہم ان کی گنتی (کے دن) شمار کر رہے ہیں۔یَوْمَ نَحْشُرُ الْمُتَّقِیْنَ اِلَى الرَّحْمٰنِ وَفْدًاۙ﴿85﴾
جس دن ہم پرہیزگاروں کو اکٹھا کریں گے کہ وہ رحمن کے مہمان بنیں۔وَّ نَسُوْقُ الْمُجْرِمِیْنَ اِلٰى جَهَنَّمَ وِرْدًاۘ﴿86﴾
اور مجرموں کو پیاسے (جانوروں کی طرح) جہنم کی طرف ہانک لے جائیں گے۔لَا یَمْلِكُوْنَ الشَّفَاعَةَ اِلَّا مَنِ اتَّخَذَ عِنْدَ الرَّحْمٰنِ عَهْدًاۘ﴿87﴾
اس دن کوئی بھی کسی کی سفارش نہ کرسکے گا، مگر جس نے اللہ تعالیٰ سے عہد لیا ہو۔وَ قَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمٰنُ وَلَدًاؕ﴿88﴾
اور بعض لوگ کہتے ہیں کہ رحمن کی اولاد ہے۔لَقَدْ جِئْتُمْ شَیْئًا اِدًّاۙ﴿89﴾
یہ تو اتنی بری بات تم گھڑ لائے ہو۔تَكَادُ السَّمٰوٰتُ یَتَفَطَّرْنَ مِنْهُ وَ تَنْشَقُّ الْاَرْضُ وَ تَخِرُّ الْجِبَالُ هَدًّاۙ﴿90﴾
جس سے ابھی آسمان پھٹ پڑیں اور زمین شق ہوجائے اور پہاڑ دھڑام سے گرپڑیں۔اَنْ دَعَوْا لِلرَّحْمٰنِ وَلَدًاۚ﴿91﴾
اس بات پر انہوں نے رحمن کے لئے اولاد کا دعویٰ کیاوَ مَا یَنْۢبَغِیْ لِلرَّحْمٰنِ اَنْ یَّتَّخِذَ وَلَدًاؕ﴿92﴾
حالانکہ رحمن کے شایان شان نہیں کہ وہ کسی کو اولاد بنائے۔اِنْ كُلُّ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ اِلَّاۤ اٰتِی الرَّحْمٰنِ عَبْدًاؕ﴿93﴾
آسمان اور زمین میں جو کچھ بھی ہے وہ سب رحمن کے حضور غلام بن کر آئیں گے۔لَقَدْ اَحْصٰىهُمْ وَ عَدَّهُمْ عَدًّاؕ﴿94﴾
رحمن نے ان سب چیزوں کا ریکارڈ رکھا ہے اور ان کی پوری گنتی کر رکھی ہے۔وَ كُلُّهُمْ اٰتِیْهِ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ فَرْدًا﴿95﴾
یہ سب قیامت کے دن اس کے حضور تن تنہا حاضر ہوں گے۔اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ سَیَجْعَلُ لَهُمُ الرَّحْمٰنُ وُدًّا﴿96﴾
یقینا جو لوگ ایمان لائے ہیں اور اچھے کام کر رہے ہیں، عنقریب اللہ تعالیٰ ان کے لئے (لوگوں کے دلوں میں) محبت پیدا کردیں گے۔فَاِنَّمَا یَسَّرْنٰهُ بِلِسَانِكَ لِتُبَشِّرَ بِهِ الْمُتَّقِیْنَ وَ تُنْذِرَ بِهٖ قَوْمًا لُّدًّا﴿97﴾
پس (اے نبی) ہم نے اس قرآن کو آپ کی زبان میں آسان بنادیا ہے تاکہ آپ اس سے پرہیزگاروں کو بشارت دیں اور کج بحثی کرنے والوں کو ڈرائیں۔وَ كَمْ اَهْلَكْنَا قَبْلَهُمْ مِّنْ قَرْنٍ١ؕ هَلْ تُحِسُّ مِنْهُمْ مِّنْ اَحَدٍ اَوْ تَسْمَعُ لَهُمْ رِكْزًا۠ع﴿98﴾
ہم ان سے پہلے کئی قومیں ہلاک کرچکے ہیں۔ کیا آپ ان میں سے کسی کا نشان پاتے ہیں یا ان میں سے کسی کی بھنک بھی آپ کو سنائی دیتی ہے ؟