23. Al-Muminoonالمؤمنون
The Believers · Meccan · 118 ayahs · 6 rukus · مولانا عبد الرحمٰن کیلانی
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوْنَۙ﴿1﴾
ایماندار لوگ کامیاب ہوگئے۔الَّذِیْنَ هُمْ فِیْ صَلَاتِهِمْ خٰشِعُوْنَۙ﴿2﴾
جو اپنی نماز میں عاجزی کرتے ہیںوَ الَّذِیْنَ هُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُوْنَۙ﴿3﴾
اور جو بیہودہ باتوں سے دور رہتے ہیںوَ الَّذِیْنَ هُمْ لِلزَّكٰوةِ فٰعِلُوْنَۙ﴿4﴾
اور جو زکوٰۃ ادا کرتے رہتے ہیںوَ الَّذِیْنَ هُمْ لِفُرُوْجِهِمْ حٰفِظُوْنَۙ﴿5﴾
اور جو اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرتے ہیںاِلَّا عَلٰۤى اَزْوَاجِهِمْ اَوْ مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُهُمْ فَاِنَّهُمْ غَیْرُ مَلُوْمِیْنَۚ﴿6﴾
سوائے اپنی بیویوں اور کنیزوں کے جو ان کے قبضہ میں ہوں کیونکہ ان کے معاملہ میں ان پر کوئی ملامت نہیں۔فَمَنِ ابْتَغٰى وَرَآءَ ذٰلِكَ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْعٰدُوْنَۚ﴿7﴾
البتہ ان کے سوا جو کچھ اور ذریعہ چاہے تو ایسے ہی لوگ حد سے بڑھنے والے ہیں۔وَ الَّذِیْنَ هُمْ لِاَمٰنٰتِهِمْ وَ عَهْدِهِمْ رٰعُوْنَۙ﴿8﴾
اور جو اپنی امانتوں اور عہد و پیمان کا پاس رکھتے ہیںوَ الَّذِیْنَ هُمْ عَلٰى صَلَوٰتِهِمْ یُحَافِظُوْنَۘ﴿9﴾
اور اپنی نمازوں پر محافظت کرتے ہیں۔اُولٰٓئِكَ هُمُ الْوٰرِثُوْنَۙ﴿10﴾
یہی لوگ ایسے وارث ہیںالَّذِیْنَ یَرِثُوْنَ الْفِرْدَوْسَ١ؕ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ﴿11﴾
جو فردوس کے مالک ہوں گے اور اس میں ہمشیہ رہیں گے۔وَ لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنْ سُلٰلَةٍ مِّنْ طِیْنٍۚ﴿12﴾
اور ہم نے انسان کو مٹی کے ست سے پیدا کیا۔ثُمَّ جَعَلْنٰهُ نُطْفَةً فِیْ قَرَارٍ مَّكِیْنٍ۪﴿13﴾
پھر ہم نے اسے ایک محفوظ مقام (رحم مادر) میں نطفہ بناکر رکھا۔ثُمَّ خَلَقْنَا النُّطْفَةَ عَلَقَةً فَخَلَقْنَا الْعَلَقَةَ مُضْغَةً فَخَلَقْنَا الْمُضْغَةَ عِظٰمًا فَكَسَوْنَا الْعِظٰمَ لَحْمًا١ۗ ثُمَّ اَنْشَاْنٰهُ خَلْقًا اٰخَرَ١ؕ فَتَبٰرَكَ اللّٰهُ اَحْسَنُ الْخٰلِقِیْنَؕ﴿14﴾
پھر نطفہ کو لوتھڑا بنایا پھر لوتھڑے کو بوٹی بنایا پھر بوٹی کو ہڈیاں بنایا پھر ہڈیوں پر گوشت چڑھایا، پھر ہم نے اسے ایک اور ہی مخلوق بناکر پیدا کردیا۔ بس بڑا بابرکت ہے، اللہ جو سب بنانے والوں سے بہتر بنانے والا ہے۔ثُمَّ اِنَّكُمْ بَعْدَ ذٰلِكَ لَمَیِّتُوْنَؕ﴿15﴾
پھر اس کے بعد تمہیں ضرور مرنا ہوگا۔ثُمَّ اِنَّكُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ تُبْعَثُوْنَ﴿16﴾
پھر یقینا تم قیامت کے دن دوبارہ اٹھائے جاؤ گے۔وَ لَقَدْ خَلَقْنَا فَوْقَكُمْ سَبْعَ طَرَآئِقَ١ۖۗ وَ مَا كُنَّا عَنِ الْخَلْقِ غٰفِلِیْنَ﴿17﴾
اور ہم نے تمہارے اوپر سات طبقے (آسمانوں کے) پیدا کئے ہیں اور ہم اپنی مخلوق سے غافل نہیں۔وَ اَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَآءِ مَآءًۢ بِقَدَرٍ فَاَسْكَنّٰهُ فِی الْاَرْضِ١ۖۗ وَ اِنَّا عَلٰى ذَهَابٍۭ بِهٖ لَقٰدِرُوْنَۚ﴿18﴾
نیز ہم نے آسمان سے ایک خاص مقدار میں پانی اتارا جسے ہم نے زمین میں ٹھہرا دیا اور بلاشبہ ہم اس کو لے جانے پر بھی قادر ہیں۔فَاَنْشَاْنَا لَكُمْ بِهٖ جَنّٰتٍ مِّنْ نَّخِیْلٍ وَّ اَعْنَابٍ١ۘ لَكُمْ فِیْهَا فَوَاكِهُ كَثِیْرَةٌ وَّ مِنْهَا تَاْكُلُوْنَۙ﴿19﴾
پھر ہمنے اس پانی سے کھجوروں اور انگوروں کے باغ پیدا کئے ہیں جن سے تمہیں بہت سے پھل حاصل ہوتے ہیں اور انھیں تم کھاتے ہو۔وَ شَجَرَةً تَخْرُجُ مِنْ طُوْرِ سَیْنَآءَ تَنْۢبُتُ بِالدُّهْنِ وَ صِبْغٍ لِّلْاٰكِلِیْنَ﴿20﴾
اور (اسی پانی سے) طور سینا سے ایک درخت اگتا ہے جو روغن لئے اگتا ہے اور کھانے والوں کو سالن کا کام دیتا ہے۔وَ اِنَّ لَكُمْ فِی الْاَنْعَامِ لَعِبْرَةً١ؕ نُسْقِیْكُمْ مِّمَّا فِیْ بُطُوْنِهَا وَ لَكُمْ فِیْهَا مَنَافِعُ كَثِیْرَةٌ وَّ مِنْهَا تَاْكُلُوْنَۙ﴿21﴾
نیز تمہارے لئے چوپایوں میں بھی عبرت کا سامان ہے، جو کچھ ان کے بطنوں میں ہوتا ہے اس میں سے ایک چیز (دودھ) ہم تمہیں پلاتے ہیں اور ان سے تمہیں اور بھی بہت سے فوائد حاصل ہوتے ہیں اور ان میں سے بعض کو تم کھاتے بھی ہو۔وَ عَلَیْهَا وَ عَلَى الْفُلْكِ تُحْمَلُوْنَ۠ع﴿22﴾
نیز ان پر کشتیوں پر سوار بھی ہوا کرتے ہو۔وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا اِلٰى قَوْمِهٖ فَقَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ١ؕ اَفَلَا تَتَّقُوْنَ﴿23﴾
ہم نے نوح کو اس کی قوم کی طرف بھیجا تو اس نے کہا (اے میری قوم ! اللہ کی عبادت کرو جس کے بغیر تمہارا کوئی الٰہ نہیں۔ کیا تم ڈرتے نہیں ؟فَقَالَ الْمَلَؤُا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ قَوْمِهٖ مَا هٰذَاۤ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ١ۙ یُرِیْدُ اَنْ یَّتَفَضَّلَ عَلَیْكُمْ١ؕ وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَاَنْزَلَ مَلٰٓئِكَةً١ۖۚ مَّا سَمِعْنَا بِهٰذَا فِیْۤ اٰبَآئِنَا الْاَوَّلِیْنَۚ﴿24﴾
اس کی قوم کے جن سرداروں نے ماننے سے انکار کیا تھا، کہنے لگے : یہ تو تمہارے ہی جیسا انسان ہے جو چاہتا ہے کہ تم پر برتری حاصل کرے اور اگر اللہ چاہتا تو فرشتے نازل کرتا۔ یہ بات تو ہم نے اپنے آباء و اجداد کے وقتوں میں کبھی سنی ہی نہیں۔اِنْ هُوَ اِلَّا رَجُلٌۢ بِهٖ جِنَّةٌ فَتَرَبَّصُوْا بِهٖ حَتّٰى حِیْنٍ﴿25﴾
وہ تو ایک ایسا آدمی ہے جسے جنون ہوگیا ہے لہذا کچھ مدت اور انتظار کرو (شاید وہ ٹھیک ہوجائے)قَالَ رَبِّ انْصُرْنِیْ بِمَا كَذَّبُوْنِ﴿26﴾
نوح نے دعا کی : اے میرے پروردگار ! ان لوگوں نے جو مجھے جھٹلایا ہے تو اس پر تو میری مدد فرمافَاَوْحَیْنَاۤ اِلَیْهِ اَنِ اصْنَعِ الْفُلْكَ بِاَعْیُنِنَا وَ وَحْیِنَا فَاِذَا جَآءَ اَمْرُنَا وَ فَارَ التَّنُّوْرُ١ۙ فَاسْلُكْ فِیْهَا مِنْ كُلٍّ زَوْجَیْنِ اثْنَیْنِ وَ اَهْلَكَ اِلَّا مَنْ سَبَقَ عَلَیْهِ الْقَوْلُ مِنْهُمْ١ۚ وَ لَا تُخَاطِبْنِیْ فِی الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا١ۚ اِنَّهُمْ مُّغْرَقُوْنَ﴿27﴾
تب ہم نے نوح کی طرف وحی کی کہ ہماری نگرانی میں اور ہماری ہدایات کے مطابق ایک کشتی بناؤ۔ پھر جب (عذاب کے لئے) ہمارا حکم آجائے اور تنور ابلنے لگے تو ہر قسم کے جوڑے سے دو (نر اور مادہ) اس کشتی میں بٹھا لینا اور اپنے گھر والوں کو بھی سوائے ان کے جن کے خلاف پہلے فیصلہ صادر ہوچکا ہے۔ اور جن لوگوں نے ظلم کیا ہے ان کے بارے میں مجھ سے بات نہ کرنا کیونکہ وہ غرق ہو کے ہی رہینگے۔فَاِذَا اسْتَوَیْتَ اَنْتَ وَ مَنْ مَّعَكَ عَلَى الْفُلْكِ فَقُلِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ نَجّٰىنَا مِنَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ﴿28﴾
پر جب تم اور جو تمہارے ہمراہ ہوں کشتی میں جم کر بیٹھ جاؤ تو کہنا : سب تعریف اس اللہ کے لئے ہے جس نے ہمیں ظالم لوگوں سے نجات دی۔وَ قُلْ رَّبِّ اَنْزِلْنِیْ مُنْزَلًا مُّبٰرَكًا وَّ اَنْتَ خَیْرُ الْمُنْزِلِیْنَ﴿29﴾
اور (یہ بھی) کہنا کہ : میرے پروردگار ! مجھے برکت والی جگہ اتارنا اور تو سب سے بہتر اتارنے والا ہے۔اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ وَّ اِنْ كُنَّا لَمُبْتَلِیْنَ﴿30﴾
اس واقعہ میں کئی نشانیاں ہیں اور آزمائش تو ہم کرکے ہی رہتے ہیں۔ثُمَّ اَنْشَاْنَا مِنْۢ بَعْدِهِمْ قَرْنًا اٰخَرِیْنَۚ﴿31﴾
پھر ان کے بعد ہم نے ایک اور نسل کو پیدا کیا۔فَاَرْسَلْنَا فِیْهِمْ رَسُوْلًا مِّنْهُمْ اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ١ؕ اَفَلَا تَتَّقُوْنَ۠ع﴿32﴾
تو ان کی طرف انھیں میں سے ایک رسول بھیجا، (جس نے انھیں کہا کہ) اس اللہ کی عبادت کرو جس کے سوا تمہارا کوئی الٰہ نہیں۔ کیا تم ڈرتے نہیں ؟وَ قَالَ الْمَلَاُ مِنْ قَوْمِهِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ كَذَّبُوْا بِلِقَآءِ الْاٰخِرَةِ وَ اَتْرَفْنٰهُمْ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۙ مَا هٰذَاۤ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ١ۙ یَاْكُلُ مِمَّا تَاْكُلُوْنَ مِنْهُ وَ یَشْرَبُ مِمَّا تَشْرَبُوْنَ۪ۙ﴿33﴾
اور اس کی قوم کے جن سرداروں نے (اس دعوت کو ماننے سے) انکار کیا اور آخرت کی ملاقات کو جھٹلایا اور جنہیں ہم نے دنیا کی زندگی میں عیش و آرام دے رکھا تھا، کہنے لگے : یہ تمہارے ہی جیسا ایک انسان ہے، وہی کچھ کھاتا ہے جو تم کھاتے ہو اور پیتا بھی وہی کچھ ہے جو تم پیتے ہو۔وَ لَئِنْ اَطَعْتُمْ بَشَرًا مِّثْلَكُمْ اِنَّكُمْ اِذًا لَّخٰسِرُوْنَۙ﴿34﴾
اور اگر تم نے اپنے ہی جیسے ایک آدمی کی اطاعت کرلی تو پھر تو تم خسارے میں ہی رہے۔اَیَعِدُكُمْ اَنَّكُمْ اِذَا مِتُّمْ وَ كُنْتُمْ تُرَابًا وَّ عِظَامًا اَنَّكُمْ مُّخْرَجُوْنَ۪ۙ﴿35﴾
کیا تمہیں وہ یہ کہتا ہے کہ جب تم مرجاؤ گے اور مٹی اور ہڈیاں بن جاؤ گے تو تم (دوبارہ) اٹھائے جاؤگےهَیْهَاتَ هَیْهَاتَ لِمَا تُوْعَدُوْنَ۪ۙ﴿36﴾
یہ بات تو بعد از عقل اور بعید از قیاس ہے جس کا تمہیں وعدہ دیا جارہا ہے۔اِنْ هِیَ اِلَّا حَیَاتُنَا الدُّنْیَا نَمُوْتُ وَ نَحْیَا وَ مَا نَحْنُ بِمَبْعُوْثِیْنَ۪ۙ﴿37﴾
زندگی تو بس یہی دنیا کی زندگی ہے، ہم مرتے ہیں اور جیتے (پیدا ہوتے) ہیں اور ہم ہرگز اٹھائے نہیں جائیں گے۔اِنْ هُوَ اِلَّا رَجُلُ اِ۟فْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا وَّ مَا نَحْنُ لَهٗ بِمُؤْمِنِیْنَ﴿38﴾
یہ ایک ایسا آدمی ہے جس نے اللہ پر جھوٹ باندھا ہے اور ہم کبھی اس کی بات نہیں پائیں گےقَالَ رَبِّ انْصُرْنِیْ بِمَا كَذَّبُوْنِ﴿39﴾
اس رسول نے دعا کی کہ : پروردگار ! ان لوگوں نے جو مجھے جھٹلایا ہے تو اس پر میری مدد فرماقَالَ عَمَّا قَلِیْلٍ لَّیُصْبِحُنَّ نٰدِمِیْنَۚ﴿40﴾
اللہ تعالیٰ نے فرمایا : تھوڑے ہی عرصہ بعد یہ (اپنے کئے پر) پچھتانے لگیں گے۔فَاَخَذَتْهُمُ الصَّیْحَةُ بِالْحَقِّ فَجَعَلْنٰهُمْ غُثَآءً١ۚ فَبُعْدًا لِّلْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ﴿41﴾
چناچہ ٹھیک حق کے مطابق ایک ہیبت ناک چیخ نے انھیں آلیا تو ہم نے انھیں خس و خاشاک بنا کے رکھ دیا۔ سو ظالم لوگوں کے لئے پھٹکار ہی پھٹکار ہے۔ثُمَّ اَنْشَاْنَا مِنْۢ بَعْدِهِمْ قُرُوْنًا اٰخَرِیْنَؕ﴿42﴾
پھر ان کے بعد ہم نے کئی اور قومیں پیدا کیں۔مَا تَسْبِقُ مِنْ اُمَّةٍ اَجَلَهَا وَ مَا یَسْتَاْخِرُوْنَؕ﴿43﴾
کوئی بھی قوم نہ اپنے وقف سے پہلے ختم ہوئی اور نہ اس وقت کے بعد ٹھہر سکی۔ثُمَّ اَرْسَلْنَا رُسُلَنَا تَتْرَا١ؕ كُلَّمَا جَآءَ اُمَّةً رَّسُوْلُهَا كَذَّبُوْهُ فَاَتْبَعْنَا بَعْضَهُمْ بَعْضًا وَّ جَعَلْنٰهُمْ اَحَادِیْثَ١ۚ فَبُعْدًا لِّقَوْمٍ لَّا یُؤْمِنُوْنَ﴿44﴾
پھر اس کے بعد ہم نے پے در پے اپنے رسول بھیجے جب بھی کسی قوم کے پاس اس کا رسول آتا تو وہ اسے جھٹلا دیتے تو ہم ایک قوم کے بعد دوسری قوم کو ہلاک کرتے رہے تاآنکہ انھیں افسانے بنادیا۔ سو ان لوگوں پر پھٹکار ہو جو ایمان نہیں لاتے۔ثُمَّ اَرْسَلْنَا مُوْسٰى وَ اَخَاهُ هٰرُوْنَ١ۙ۬ بِاٰیٰتِنَا وَ سُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍۙ﴿45﴾
پھر ہم نے موسیٰ اور اس کے بھائی ہارون کو معجزے اور روشن دلیل دے کر بھیجااِلٰى فِرْعَوْنَ وَ مَلَاۡئِهٖ فَاسْتَكْبَرُوْا وَ كَانُوْا قَوْمًا عَالِیْنَۚ﴿46﴾
فرعون اور اس کے سرداروں کی طرف تو وہ اکڑ گئے اور وہ تھے ہی سرکش لوگفَقَالُوْۤا اَنُؤْمِنُ لِبَشَرَیْنِ مِثْلِنَا وَ قَوْمُهُمَا لَنَا عٰبِدُوْنَۚ﴿47﴾
کہنے لگے : کیا ہم اپنے ہی دو آدمیوں پر ایمان لائیں جبکہ ان کی قوم ہماری غلام ہے۔فَكَذَّبُوْهُمَا فَكَانُوْا مِنَ الْمُهْلَكِیْنَ﴿48﴾
چناچہ انہوں نے ان دونوں کو جھٹلا دیا تو وہ بھی ہلاک ہونے والوں میں شامل ہوگئے۔وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ لَعَلَّهُمْ یَهْتَدُوْنَ﴿49﴾
اور ہم نے موسیٰ کو کتاب (اس لئے) دی تھی کہ وہ لوگ اس سے رہنمائی حاصل کریں۔وَ جَعَلْنَا ابْنَ مَرْیَمَ وَ اُمَّهٗۤ اٰیَةً وَّ اٰوَیْنٰهُمَاۤ اِلٰى رَبْوَةٍ ذَاتِ قَرَارٍ وَّ مَعِیْنٍ۠ع﴿50﴾
اور ہم نے (عیسیٰ) ابن مریم کو اس کی والدہ کو ایک نشانی بنایا اور ایک ایسے ٹیلے پر جگہ دی جو اطمینان بخش تھی اور وہاں چشمہ بھی موجود تھا۔یٰۤاَیُّهَا الرُّسُلُ كُلُوْا مِنَ الطَّیِّبٰتِ وَ اعْمَلُوْا صَالِحًا١ؕ اِنِّیْ بِمَا تَعْمَلُوْنَ عَلِیْمٌؕ﴿51﴾
اے پیغمبروں کی جماعت ! پاکیزہ چیزیں کھاؤ اور نیک اعمال کرو جو کچھ تم کرتے رہے ہو میں اسے خوب جانتا ہوںوَ اِنَّ هٰذِهٖۤ اُمَّتُكُمْ اُمَّةً وَّاحِدَةً وَّ اَنَا رَبُّكُمْ فَاتَّقُوْنِ﴿52﴾
اور یہ تمہاری امت ایک ہی امت ہے اور میں تمہارا پروردگار ہوں۔ لہذا مجھی سے ڈرو۔فَتَقَطَّعُوْۤا اَمْرَهُمْ بَیْنَهُمْ زُبُرًا١ؕ كُلُّ حِزْبٍۭ بِمَا لَدَیْهِمْ فَرِحُوْنَ﴿53﴾
پھر لوگوں نے اپنے (دین کے) کام کو آپس میں ٹکڑے ٹکڑے کرلیا۔ ہر گروہ کے پاس جو کچھ ہے وہ اس میں مگن ہے۔فَذَرْهُمْ فِیْ غَمْرَتِهِمْ حَتّٰى حِیْنٍ﴿54﴾
لہٰذا ان کا قصہ چھوڑو کہ وہ ایک خاص وقت تک اپنی اس مدہوشی میں پڑے رہیں۔اَیَحْسَبُوْنَ اَنَّمَا نُمِدُّهُمْ بِهٖ مِنْ مَّالٍ وَّ بَنِیْنَۙ﴿55﴾
کیا وہ یہ خیال کرتے ہیں کہ ہم جو انھیں مال اور اولاد دیئے جارہے ہیںنُسَارِعُ لَهُمْ فِی الْخَیْرٰتِ١ؕ بَلْ لَّا یَشْعُرُوْنَ﴿56﴾
تو ہم انھیں بھلائیاں دینے میں جلدی کر رہے ہیں ؟ معاملہ یوں نہیں بلکہ اصل بات کا انھیں شعور ہی نہیںاِنَّ الَّذِیْنَ هُمْ مِّنْ خَشْیَةِ رَبِّهِمْ مُّشْفِقُوْنَۙ﴿57﴾
(بھلائیاں پانے والے اور اہل وہ لوگ ہیں) جو اپنے پروردگار کے خوف سے ڈرتے رہتے ہیںوَ الَّذِیْنَ هُمْ بِاٰیٰتِ رَبِّهِمْ یُؤْمِنُوْنَۙ﴿58﴾
اور جو اپنے پروردگار کی آیتوں پر ایمان رکھتے ہیںوَ الَّذِیْنَ هُمْ بِرَبِّهِمْ لَا یُشْرِكُوْنَۙ﴿59﴾
اور وہ اپنے پروردگار کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتےوَ الَّذِیْنَ یُؤْتُوْنَ مَاۤ اٰتَوْا وَّ قُلُوْبُهُمْ وَجِلَةٌ اَنَّهُمْ اِلٰى رَبِّهِمْ رٰجِعُوْنَۙ﴿60﴾
اور وہ (اللہ کی راہ میں) دیتے ہیں جو بھی دیں اور ان کے دلوں کو دھڑکا لگا رہتا تھا کہ وہ اپنے پروردگار کے پاس لوٹ کر جانے والے ہیں۔اُولٰٓئِكَ یُسٰرِعُوْنَ فِی الْخَیْرٰتِ وَ هُمْ لَهَا سٰبِقُوْنَ﴿61﴾
یہی لوگ ہیں جو نیک کاموں میں جلدی کرنے اور ایک دوسرے سے آگے نکل جانے کی کوشش کرتے ہیں۔وَ لَا نُكَلِّفُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَا وَ لَدَیْنَا كِتٰبٌ یَّنْطِقُ بِالْحَقِّ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ﴿62﴾
ہم کسی کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتے اور ہمارے پاس ایسی کتاب (نامہء اعمال) ہے جو ٹھیک ٹھیک بیان کردے گا اور ان کی حق تلفی نہ ہوگی۔بَلْ قُلُوْبُهُمْ فِیْ غَمْرَةٍ مِّنْ هٰذَا وَ لَهُمْ اَعْمَالٌ مِّنْ دُوْنِ ذٰلِكَ هُمْ لَهَا عٰمِلُوْنَ﴿63﴾
بلکہ اس بات سے تو ان کے دل سخت غافل ہیں اور اس غفلت کے علاوہ ان کے اور بھی کئی (برے) اعمال ہیں جو وہ کر رہے ہیںحَتّٰۤى اِذَاۤ اَخَذْنَا مُتْرَفِیْهِمْ بِالْعَذَابِ اِذَا هُمْ یَجْئَرُوْنَؕ﴿64﴾
یہاں تک کہ جب ہم ان کے عیاش لوگوں کو عذاب میں پکڑ لیں گے تو اس وقت وہ چیخنا چلانا شروع کردیں گےلَا تَجْئَرُوا الْیَوْمَ١۫ اِنَّكُمْ مِّنَّا لَا تُنْصَرُوْنَ﴿65﴾
(ہم کہیں گے) آج چلاؤ نہیں۔ ہماری طرف سے تمہیں کوئی مدد نہیں ملے گا۔قَدْ كَانَتْ اٰیٰتِیْ تُتْلٰى عَلَیْكُمْ فَكُنْتُمْ عَلٰۤى اَعْقَابِكُمْ تَنْكِصُوْنَۙ﴿66﴾
جب میری آیات تم پر پڑھی جاتی تھیں تو تم الٹے پاؤں پھرجاتے تھے۔مُسْتَكْبِرِیْنَ١ۖۗ بِهٖ سٰمِرًا تَهْجُرُوْنَ﴿67﴾
اپنے گھمنڈ میں میری آیتوں کو افسانے سمجھتے اور بکواس کیا کرتے تھے۔اَفَلَمْ یَدَّبَّرُوا الْقَوْلَ اَمْ جَآءَهُمْ مَّا لَمْ یَاْتِ اٰبَآءَهُمُ الْاَوَّلِیْنَ٘﴿68﴾
کیا ان لوگوں نے اس کلام پر کبھی غور نہیں کیا یا ان کے پاس کوئی ایسی بات آئی ہے جو ان کے آباء و اجداد کے پاس نہیں آتی تھی ؟اَمْ لَمْ یَعْرِفُوْا رَسُوْلَهُمْ فَهُمْ لَهٗ مُنْكِرُوْنَ٘﴿69﴾
یا انہوں نے اپنے رسول کو پہچانا ہی نہیں لہذا وہ (اس کا انکار کر رہے ہیں ؟)اَمْ یَقُوْلُوْنَ بِهٖ جِنَّةٌ١ؕ بَلْ جَآءَهُمْ بِالْحَقِّ وَ اَكْثَرُهُمْ لِلْحَقِّ كٰرِهُوْنَ﴿70﴾
یا وہ یہ کہہ دیتے ہیں کہ اسے جنون ہے۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ وہ ان کے اس سچی بات لایا ہے لیکن ان میں سے اکثر لوگ حق کو پسند ہی نہیں کرتےوَ لَوِ اتَّبَعَ الْحَقُّ اَهْوَآءَهُمْ لَفَسَدَتِ السَّمٰوٰتُ وَ الْاَرْضُ وَ مَنْ فِیْهِنَّ١ؕ بَلْ اَتَیْنٰهُمْ بِذِكْرِهِمْ فَهُمْ عَنْ ذِكْرِهِمْ مُّعْرِضُوْنَؕ﴿71﴾
اور اگر حق ان کی خواہشات کی پیروی کرتا تو یہ زمین و آسمان اور ان میں جو کچھ ہے ان سب کا نظام درہم برہم ہوجاتا بلکہ ہم نے انھیں انہی کے لئے ذکر (قرآن) دیا ہے مگر وہ اپنے اس ذکر سے ہی منہ موڑ رہے ہیں۔اَمْ تَسْئَلُهُمْ خَرْجًا فَخَرَاجُ رَبِّكَ خَیْرٌ١ۖۗ وَّ هُوَ خَیْرُ الرّٰزِقِیْنَ﴿72﴾
یا آپ ان سے کچھ مال مانگتے ہیں ؟ تو آپ کے لئے آپ کے پروردگار کا دیا ہی بہتر ہے اور وہی بہترین رازق ہے۔وَ اِنَّكَ لَتَدْعُوْهُمْ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ﴿73﴾
اور بلاشبہ آپ انہیں سیدھی راہ کی طرف بلاتے ہیں۔وَ اِنَّ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ عَنِ الصِّرَاطِ لَنٰكِبُوْنَ﴿74﴾
اور جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے وہ اس سیدھی راہ سے ہٹ کر چلنا چاہتے ہیںوَ لَوْ رَحِمْنٰهُمْ وَ كَشَفْنَا مَا بِهِمْ مِّنْ ضُرٍّ لَّلَجُّوْا فِیْ طُغْیَانِهِمْ یَعْمَهُوْنَ﴿75﴾
اور اگر ہم ان پر مہربانی کریں اور ان کی تکلیف کو دور کردیں تو یہ اپنی سرکشی میں اور زیادہ بہکتے جائیں گے۔وَ لَقَدْ اَخَذْنٰهُمْ بِالْعَذَابِ فَمَا اسْتَكَانُوْا لِرَبِّهِمْ وَ مَا یَتَضَرَّعُوْنَ﴿76﴾
اور ہم نے انھیں عذاب میں مبتلا کیا تو بھی یہ نہ اپنے پروردگار کے سامنے جھکے اور نہ آہ وزاری کیحَتّٰۤى اِذَا فَتَحْنَا عَلَیْهِمْ بَابًا ذَا عَذَابٍ شَدِیْدٍ اِذَا هُمْ فِیْهِ مُبْلِسُوْنَ۠ع﴿77﴾
یہاں تک کہ ہم نے ان پر سخت عذاب کا در کھول دیا تو اس حال میں وہ (ہر بھلائی سے) مایوس ہونے لگے۔وَ هُوَ الَّذِیْۤ اَنْشَاَ لَكُمُ السَّمْعَ وَ الْاَبْصَارَ وَ الْاَفْئِدَةَ١ؕ قَلِیْلًا مَّا تَشْكُرُوْنَ﴿78﴾
وہی تو ہے جس نے تمہیں کان، آنکھیں اور دل عطا کئے (تاکہ تم سنو، دیکھو اور غور کرو) مگر تم لوگ کم ہی شکرگزار ہوتے ہو۔وَ هُوَ الَّذِیْ ذَرَاَكُمْ فِی الْاَرْضِ وَ اِلَیْهِ تُحْشَرُوْنَ﴿79﴾
اور وہی ذات ہے جس نے تمہیں زمین میں پھیلا دیا اور اسی کی طرف تم اکٹھے کئے جاؤ گے۔وَ هُوَ الَّذِیْ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُ وَ لَهُ اخْتِلَافُ الَّیْلِ وَ النَّهَارِ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ﴿80﴾
اور وہی ہے جو زندہ کرتا اور مارتا ہے اور رات اور دن کا باری باری آتے رہنا اسی کے قبضہ قدرت میں ہے۔ کیا تم کچھ بھی نہیں سمجھتے ؟بَلْ قَالُوْا مِثْلَ مَا قَالَ الْاَوَّلُوْنَ﴿81﴾
بلکہ انہوں نے بھی وہی کچھ کہہ دیا جو ان کے پیشرو کہے چکے ہیںقَالُوْۤا ءَاِذَا مِتْنَا وَ كُنَّا تُرَابًا وَّ عِظَامًا ءَاِنَّا لَمَبْعُوْثُوْنَ﴿82﴾
کہ : جب ہم مرجائیں گے اور مٹی اور ہڈیاں ہوجائیں گے تو ہمیں پھر زندہ کرکے اٹھایا جائے گا ؟لَقَدْ وُعِدْنَا نَحْنُ وَ اٰبَآؤُنَا هٰذَا مِنْ قَبْلُ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّاۤ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ﴿83﴾
یہ بات تو ہمیں اور اس سے پیشتر ہمارے آباء و اجداد کو بھی کہی گئی تھی۔ یہ تو محض پرانے افسانے ہیں۔قُلْ لِّمَنِ الْاَرْضُ وَ مَنْ فِیْهَاۤ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ﴿84﴾
آپ ان سے پوچھئے کہ : اگر تمہیں کچھ علم ہے تو بتلاو و کہ زمین اور جو کچھ اس میں ہے وہ کس کا ہے ؟سَیَقُوْلُوْنَ لِلّٰهِ١ؕ قُلْ اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ﴿85﴾
وہ فوراً کہہ دیں گے کہ اللہ کا آپ کہئے پھر تم نصیحت قبول کیوں نہیں کرتے ؟قُلْ مَنْ رَّبُّ السَّمٰوٰتِ السَّبْعِ وَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ﴿86﴾
پھر ان سے پوچھئے کہ : سات آسمانوں اور عرش عظیم کا مالک کون ہے ؟سَیَقُوْلُوْنَ لِلّٰهِ١ؕ قُلْ اَفَلَا تَتَّقُوْنَ﴿87﴾
وہ فوراً کہہ دیں گے کہ یہ (سب کچھ) اللہ ہی کا ہے۔ آپ کہئے پھر تم اللہ سے ڈرتے کیوں نہیں ؟قُلْ مَنْۢ بِیَدِهٖ مَلَكُوْتُ كُلِّ شَیْءٍ وَّ هُوَ یُجِیْرُ وَ لَا یُجَارُ عَلَیْهِ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ﴿88﴾
پھر ان سے پوچھئے کہ اگر تم جانتے ہو۔۔۔۔ حکومت کس کی ہے ؟ اور وہ کون ہے جو پناہ دیتا ہے مگر اس کے مقابلہ میں کسی کو پناہ نہیں مل سکتی ؟سَیَقُوْلُوْنَ لِلّٰهِ١ؕ قُلْ فَاَنّٰى تُسْحَرُوْنَ﴿89﴾
وہ فوراً کہیں گے اللہ ہی ہے۔ آپ کہئے پھر تم پر کہاں سے جادو چل جاتا ہے ؟بَلْ اَتَیْنٰهُمْ بِالْحَقِّ وَ اِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ﴿90﴾
بلکہ ہم تو ان کے پاس حق لے کر آئے ہیں اور یقینا یہی جھوٹے ہیں۔مَا اتَّخَذَ اللّٰهُ مِنْ وَّلَدٍ وَّ مَا كَانَ مَعَهٗ مِنْ اِلٰهٍ اِذًا لَّذَهَبَ كُلُّ اِلٰهٍۭ بِمَا خَلَقَ وَ لَعَلَا بَعْضُهُمْ عَلٰى بَعْضٍ١ؕ سُبْحٰنَ اللّٰهِ عَمَّا یَصِفُوْنَۙ﴿91﴾
اللہ تعالیٰ نے کسی کو اپنی اولاد نہیں بنایا اور نہ ہی اس کے ساتھ کوئی اور الٰہ ہے۔ اگر ایسی بات ہوتی تو ہر الٰہ اپنی مخلوق کو لے کر الگ ہوجاتا اور ان میں سے ہر ایک دوسرے پر غالب آنے کی کوشش کرتا۔ اللہ تو ان باتوں سے پاک ہے۔ جو یہ لوگ بیان کرتے ہیںعٰلِمِ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ فَتَعٰلٰى عَمَّا یُشْرِكُوْنَ۠ع﴿92﴾
وہ سب پوشیدہ اور ظاہر باتوں کا جاننے والا ہے اور جن چیزوں کو یہ لوگ شریک ٹھہراتے ہیں ان سے وہ بالاتر ہے۔قُلْ رَّبِّ اِمَّا تُرِیَنِّیْ مَا یُوْعَدُوْنَۙ﴿93﴾
(اے پیغمبر) آپ یہ دعا کیجئے کہ : پروردگار ! جس عذاب کی انھیں دھمکی دی جارہی ہے اگر وہ میری موجودگی پر آجائےرَبِّ فَلَا تَجْعَلْنِیْ فِی الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ﴿94﴾
تو اے پروردگار ! مجھے ان ظالموں میں شامل نہ کرناوَ اِنَّا عَلٰۤى اَنْ نُّرِیَكَ مَا نَعِدُهُمْ لَقٰدِرُوْنَ﴿95﴾
اور جس عذاب کی انھیں دھمکی دی جارہی ہے وہ عذاب آپ کو دکھانے پر ہم پوری قدرت رکھتے ہیں۔اِدْفَعْ بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ السَّیِّئَةَ١ؕ نَحْنُ اَعْلَمُ بِمَا یَصِفُوْنَ﴿96﴾
آپ ان کے جواب میں بھی ایسی بات کہئے جو بہت اچھی ہو جو کچھ یہ لوگ بیان کرتے ہیں ہم اسے خوب جانتے ہیں۔وَ قُلْ رَّبِّ اَعُوْذُ بِكَ مِنْ هَمَزٰتِ الشَّیٰطِیْنِۙ﴿97﴾
نیز یہ دعا کرتے رہئے کہ : پروردگار ! میں شیطان کی اکساہٹوں سے تیری پناہ مانگتا ہوںوَ اَعُوْذُ بِكَ رَبِّ اَنْ یَّحْضُرُوْنِ﴿98﴾
اور اس بات سے بھی تیری پناہ مانگتا ہوں کہ وہ میرے پاس آئیںحَتّٰۤى اِذَا جَآءَ اَحَدَهُمُ الْمَوْتُ قَالَ رَبِّ ارْجِعُوْنِۙ﴿99﴾
(یہ لوگ اپنی کارستانیوں میں لگے رہیں گے) جہاں تک کہ ان میں سے کسی کو جب موت آئے گی تو کہے گا : پروردگار ! مجھے دنیا میں واپس بھیج دےلَعَلِّیْۤ اَعْمَلُ صَالِحًا فِیْمَا تَرَكْتُ كَلَّا١ؕ اِنَّهَا كَلِمَةٌ هُوَ قَآئِلُهَا١ؕ وَ مِنْ وَّرَآئِهِمْ بَرْزَخٌ اِلٰى یَوْمِ یُبْعَثُوْنَ﴿100﴾
جسے میں چھوڑ آیا ہوں امید ہے کہ اب میں نیک عمل کروں گا (اللہ تعالیٰ فرمائیں گے) ایسا ہرگز نہیں ہوسکتا یہ بس ایک بات ہوگی جسے اس سے کہہ دیا۔ اور ان (مرنے والوں) کے درمیان دوبارہ جی اٹھنے کے دن تک ایک آڑ حائل ہوگی۔فَاِذَا نُفِخَ فِی الصُّوْرِ فَلَاۤ اَنْسَابَ بَیْنَهُمْ یَوْمَئِذٍ وَّ لَا یَتَسَآءَلُوْنَ﴿101﴾
پھر جب صور پھونکا جائے گا تو ان کے درمیان کوئی رشتہ نہ رہے گا اور نہ ہی اس دن کوئی ایک دوسرے کا حال پوچھے گا۔فَمَنْ ثَقُلَتْ مَوَازِیْنُهٗ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ﴿102﴾
اس دن حق کے پلڑے بھاری ہوں گے تو وہ کامیاب ہوں گے۔وَ مَنْ خَفَّتْ مَوَازِیْنُهٗ فَاُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ فِیْ جَهَنَّمَ خٰلِدُوْنَۚ﴿103﴾
اور جن کے ہلکے ہوں گے تو یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے آپ کو خسارے میں رکھا وہ ہمیشہ جہنم میں رہیں گے۔تَلْفَحُ وُجُوْهَهُمُ النَّارُ وَ هُمْ فِیْهَا كٰلِحُوْنَ﴿104﴾
جہنم کی آگ ان کے چہروں کو جھلس دے گی۔ اور ان کے جبڑے باہر نکلے ہوں گےاَلَمْ تَكُنْ اٰیٰتِیْ تُتْلٰى عَلَیْكُمْ فَكُنْتُمْ بِهَا تُكَذِّبُوْنَ﴿105﴾
(انہیں کہا جائے گا) کیا تم پر میری آیات نہیں پڑھی جاتی تھیں تو تم انھیں جھٹلا دیا کرتے تھے ؟قَالُوْا رَبَّنَا غَلَبَتْ عَلَیْنَا شِقْوَتُنَا وَ كُنَّا قَوْمًا ضَآلِّیْنَ﴿106﴾
وہ کہیں گے : ہمارے پروردگار ! ہم پر ہماری بدبختی غالب آگئی تھی اور ہم واقعی گمراہ لوگ تھے۔رَبَّنَاۤ اَخْرِجْنَا مِنْهَا فَاِنْ عُدْنَا فَاِنَّا ظٰلِمُوْنَ﴿107﴾
پروردگار ! ہمیں اس آگ سے نکال اگر ہم دوبارہ ایسا قصور کریں تو واقعی ہم ظالم ٹھہرےقَالَ اخْسَئُوْا فِیْهَا وَ لَا تُكَلِّمُوْنِ﴿108﴾
اللہ تعالیٰ فرمائے گا : مجھ سے دفع ہی رہو اور اسی آگ میں پڑے رہو اور مجھ سے بات بھی نہ کرو۔اِنَّهٗ كَانَ فَرِیْقٌ مِّنْ عِبَادِیْ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَاۤ اٰمَنَّا فَاغْفِرْ لَنَا وَ ارْحَمْنَا وَ اَنْتَ خَیْرُ الرّٰحِمِیْنَۚۖ﴿109﴾
(بات یہ ہے) کہ جب میرے کچھ بندے یہ کہتے تھے کہ : اے ہمارے پروردگار ! ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم فرما کیونکہ تو ہی سب سے بہتر رحم کرنے والا ہےفَاتَّخَذْتُمُوْهُمْ سِخْرِیًّا حَتّٰۤى اَنْسَوْكُمْ ذِكْرِیْ وَ كُنْتُمْ مِّنْهُمْ تَضْحَكُوْنَ﴿110﴾
تو تم لوگ ان کا مذاق اڑاتے تھے حتیٰ کہ ان کے ساتھ اس مشغلہ نے تمہیں میری یاد بھی بھلا دی اور تم ان پر ہنسا کرتے تھے۔اِنِّیْ جَزَیْتُهُمُ الْیَوْمَ بِمَا صَبَرُوْۤا١ۙ اَنَّهُمْ هُمُ الْفَآئِزُوْنَ﴿111﴾
آج میں نے انھیں ان کے صبر کا بدلہ دے دیا ہے۔ بلاشبہ وہی کامیاب رہے ہیںقٰلَ كَمْ لَبِثْتُمْ فِی الْاَرْضِ عَدَدَ سِنِیْنَ﴿112﴾
پھر اللہ تعالیٰ ان سے پوچھے گا : بتاؤ تم کتنے سال زمین میں رہے ؟قَالُوْا لَبِثْنَا یَوْمًا اَوْ بَعْضَ یَوْمٍ فَسْئَلِ الْعَآدِّیْنَ﴿113﴾
وہ کہیں گے : یہی کوئی ایک دن یا اس کا کچھ حصہ۔ اور یہ بات تو شمار کونے والوں سے پوچھئےقٰلَ اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا قَلِیْلًا لَّوْ اَنَّكُمْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ﴿114﴾
اللہ تعالیٰ فرمائے گا : واقعی تم تھوڑا ہی عرصہ وہاں ٹھہرے تھے۔ کاش تم یہ بات (اس وقت بھی) جانتے ہوتے۔اَفَحَسِبْتُمْ اَنَّمَا خَلَقْنٰكُمْ عَبَثًا وَّ اَنَّكُمْ اِلَیْنَا لَا تُرْجَعُوْنَ﴿115﴾
کیا تم نے یہ سمجھ رکھا تھا کہ ہم نے تمہیں بےکار ہی پیدا کردیا اور تم ہمارے ہاں لوٹ کر نہ آؤ گے ؟فَتَعٰلَى اللّٰهُ الْمَلِكُ الْحَقُّ١ۚ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ رَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِیْمِ﴿116﴾
پس اللہ تعالیٰ بہت بلند شان والا ہے۔ وہی حقیقی بادشاہ ہے، اس کے علاوہ کوئی الٰہ نہیں، وہی عرش عظیم کا مالک ہے۔وَ مَنْ یَّدْعُ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ١ۙ لَا بُرْهَانَ لَهٗ بِهٖ١ۙ فَاِنَّمَا حِسَابُهٗ عِنْدَ رَبِّهٖ١ؕ اِنَّهٗ لَا یُفْلِحُ الْكٰفِرُوْنَ﴿117﴾
اور جو شخص اللہ کے ساتھ کسی اور الٰہ کو پکارتا ہے جس کی اس کے پاس کوئی دلیل نہیں، تو اس کا حساب اس کے پروردگار کے سپرد ہے۔ ایسے کافر کبھی کامیاب نہ ہوں گے۔وَ قُلْ رَّبِّ اغْفِرْ وَ ارْحَمْ وَ اَنْتَ خَیْرُ الرّٰحِمِیْنَ۠ع﴿118﴾
اور آپ اللہ سے دعا کیجئے کہ : اے میرے پروردگار ! مجھے بخش دے اور مجھ پر رحم فرما اور تو ہی سب رحم کرنے والوں سے اچھا رحم کرنے والا ہے