34. Sabaسبإ
Sheba · Meccan · 54 ayahs · 6 rukus · مولانا عبد الرحمٰن کیلانی
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ وَ لَهُ الْحَمْدُ فِی الْاٰخِرَةِ١ؕ وَ هُوَ الْحَكِیْمُ الْخَبِیْرُ﴿1﴾
ہر طرح کی تعریف اس اللہ کے لئے ہے جو آسمانوں اور زمین میں ہر چیز کا مالک ہے اور آخرت میں (بھی) تعریف اسی کے لئے ہے اور وہ حکمت والا اور باخبر ہےیَعْلَمُ مَا یَلِجُ فِی الْاَرْضِ وَ مَا یَخْرُجُ مِنْهَا وَ مَا یَنْزِلُ مِنَ السَّمَآءِ وَ مَا یَعْرُجُ فِیْهَا١ؕ وَ هُوَ الرَّحِیْمُ الْغَفُوْرُ﴿2﴾
جو کچھ زمین میں داخل ہوتا ہے یا اس سے نکلتا ہے نیز جو کچھ آسمان سے اترتا اور جو کچھ آسمان میں چڑھتا ہے، وہ ہر چیز کو جانتا ہے اور وہ رحم کرنے والا ہے اور معاف کرنے والا ہےوَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَا تَاْتِیْنَا السَّاعَةُ١ؕ قُلْ بَلٰى وَ رَبِّیْ لَتَاْتِیَنَّكُمْ١ۙ عٰلِمِ الْغَیْبِ١ۚ لَا یَعْزُبُ عَنْهُ مِثْقَالُ ذَرَّةٍ فِی السَّمٰوٰتِ وَ لَا فِی الْاَرْضِ وَ لَاۤ اَصْغَرُ مِنْ ذٰلِكَ وَ لَاۤ اَكْبَرُ اِلَّا فِیْ كِتٰبٍ مُّبِیْنٍۗۙ﴿3﴾
کافر کہتے ہیں کہ ہم پر قیامت نہیں آئے گی آپ ان سے کہئے کہ : کیوں نہیں آئے گی، میرے پروردگار کی قسم ! وہ تم پر آکے رہے گی۔ (اس پروردگار کی قسم) جو غیب کا جاننے والا ہے۔ اس سے آسمانوں اور زمین میں کوئی ذرہ بھر چیز بھی چھپی نہیں رہ سکتی۔ اور ذرہ سے چھوٹی یا بڑی کوئی چیز ایسی نہیں جو واضح کتاب میں درج نہ ہو۔لِّیَجْزِیَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ١ؕ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ رِزْقٌ كَرِیْمٌ﴿4﴾
(اور قیامت اس لئے آئے گی) تاکہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو جزا دے جو ایمان لائے اور نیک عمل کئے ایسے لوگوں کے لئے بخشش اور عزت و اکرام کی روزی ہوگی۔وَ الَّذِیْنَ سَعَوْ فِیْۤ اٰیٰتِنَا مُعٰجِزِیْنَ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ مِّنْ رِّجْزٍ اَلِیْمٌ﴿5﴾
اور جن لوگوں نے ہماری آیات کو نیچا دکھانے (تردید کرنے) پر زور لگایا ان کے لئے بدترین قسم کا دردناک عذاب ہے۔وَ یَرَى الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ الَّذِیْۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَ هُوَ الْحَقَّ١ۙ وَ یَهْدِیْۤ اِلٰى صِرَاطِ الْعَزِیْزِ الْحَمِیْدِ﴿6﴾
اور جن لوگوں کو علم دیا گیا ہے وہ خوب سمجھتے ہیں کہ جو کچھ آپ کی طرف آپ کے پروردگار سے نازل ہوا وہ حق ہے اور اس اللہ کی راہ دکھاتا ہے جو غالب اور حمدو ثنا کے لائق ہےوَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا هَلْ نَدُلُّكُمْ عَلٰى رَجُلٍ یُّنَبِّئُكُمْ اِذَا مُزِّقْتُمْ كُلَّ مُمَزَّقٍ١ۙ اِنَّكُمْ لَفِیْ خَلْقٍ جَدِیْدٍۚ﴿7﴾
اور کافر (ایک دوسرے سے) کہتے ہیں : کیا ہم تمہیں ایسا آدمی نہ بتائیں جو یہ خبر دیتا ہے کہ جب تم (مرنے کے بعد) بالکل ریزہ ریزہ ہوجاؤ گے تو از سر نو پیدا کئے جاؤ گےاَفْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا اَمْ بِهٖ جِنَّةٌ١ؕ بَلِ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ فِی الْعَذَابِ وَ الضَّلٰلِ الْبَعِیْدِ﴿8﴾
معلوم نہیں کہ وہ اللہ پر جھوٹ باندھتا ہے یا اسے جنون لاحق ہوگیا ہے ؟ یہ بات نہیں بلکہ جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں لاتے وہی عذاب میں مبتلا ہونے والے ہیں اور گمراہی میں دور تک چلے گئے ہیں۔اَفَلَمْ یَرَوْا اِلٰى مَا بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَ مَا خَلْفَهُمْ مِّنَ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ١ؕ اِنْ نَّشَاْ نَخْسِفْ بِهِمُ الْاَرْضَ اَوْ نُسْقِطْ عَلَیْهِمْ كِسَفًا مِّنَ السَّمَآءِ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّكُلِّ عَبْدٍ مُّنِیْبٍ۠ع﴿9﴾
کیا انہوں نے آسمان اور زمین کو نہیں دیکھا جو انھیں آگے سے اور پیچھے سے (گھیرے ہوئے ہیں) اگر ہم چاہیں تو انھیں زمین میں دھنسا دیں یا ان پر آسمان کے کچھ ٹکڑے گرا دیں۔ بلاشبہ اس بات میں ہر رجوع کرنے والے بندے کے لئے ایک نشانی ہے۔وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا دَاوٗدَ مِنَّا فَضْلًا١ؕ یٰجِبَالُ اَوِّبِیْ مَعَهٗ وَ الطَّیْرَ١ۚ وَ اَلَنَّا لَهُ الْحَدِیْدَۙ﴿10﴾
اور ہم نے داؤد کو اپنے ہاں سے بزرگی عطا کی تھی (اور پہاڑوں کو حکم دیا تھا کہ) اے پہاڑو ! داؤد کے ساتھ (تسبیح میں) ہم آہنگ ہوجاؤ اور پرندوں کو بھی (یہ حکم دیا تھا) اور ہم نے اس کے لئے لوہے کو نرم کردیا تھا۔اَنِ اعْمَلْ سٰبِغٰتٍ وَّ قَدِّرْ فِی السَّرْدِ وَ اعْمَلُوْا صَالِحًا١ؕ اِنِّیْ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ﴿11﴾
(اور اسے کہا) کہ کھلی ڈھلی زرہیں بناؤ اور اندازہ کے مطابق اس کی کڑیاں جوڑو اور (اے آل داؤد) نیک عمل کرو۔ جو کچھ تم کر رہے ہو بلا شبہ میں اسے خوب دیکھ رہا ہوں۔وَ لِسُلَیْمٰنَ الرِّیْحَ غُدُوُّهَا شَهْرٌ وَّ رَوَاحُهَا شَهْرٌ١ۚ وَ اَسَلْنَا لَهٗ عَیْنَ الْقِطْرِ١ؕ وَ مِنَ الْجِنِّ مَنْ یَّعْمَلُ بَیْنَ یَدَیْهِ بِاِذْنِ رَبِّهٖ١ؕ وَ مَنْ یَّزِغْ مِنْهُمْ عَنْ اَمْرِنَا نُذِقْهُ مِنْ عَذَابِ السَّعِیْرِ﴿12﴾
اور سلیمان کے لئے ہم نے ہوا کو مسخر کردیا تھا۔ پہلے پہر اس کا چلنا ایک ماہ کی مسافت ہوتا تھا اور پچھلے پہر چلنا بھی ایک ماہ کی مسافت ہوتا تھا۔ نیز ہم نے ان کے لئے پگھلے ہوئے تانبے کا چشمہ بہا دیا تھا۔ اور بعض جن بھی (اس کے مسخر کردیئے) جو اپنے پروردگار کے حکم سے ان کے سامنے کام کرتے تھے۔ اور ان میں سے اگر کوئی ہمارے حکم سے سرتابی کرتا تو ہم اسے بھڑکتی آگ کے عذاب کا مزا چکھاتے تھے۔یَعْمَلُوْنَ لَهٗ مَا یَشَآءُ مِنْ مَّحَارِیْبَ وَ تَمَاثِیْلَ وَ جِفَانٍ كَالْجَوَابِ وَ قُدُوْرٍ رّٰسِیٰتٍ١ؕ اِعْمَلُوْۤا اٰلَ دَاوٗدَ شُكْرًا١ؕ وَ قَلِیْلٌ مِّنْ عِبَادِیَ الشَّكُوْرُ﴿13﴾
جو کچھ سلیمان چاہتے تھے وہی کچھ وہ جن ان کے لئے بناتے تھے۔ مثلاً قلعے، مجسمے اور حوض جتنے بڑے لگن اور دیگیں ایک جگہ جمی رہنے والی۔ اے آل داؤد ! شکر کے طور پر عمل کرو۔ اور میرے بندوں میں سے کم ہی شکرگزار ہوتے ہیںفَلَمَّا قَضَیْنَا عَلَیْهِ الْمَوْتَ مَا دَلَّهُمْ عَلٰى مَوْتِهٖۤ اِلَّا دَآبَّةُ الْاَرْضِ تَاْكُلُ مِنْسَاَتَهٗ١ۚ فَلَمَّا خَرَّ تَبَیَّنَتِ الْجِنُّ اَنْ لَّوْ كَانُوْا یَعْلَمُوْنَ الْغَیْبَ مَا لَبِثُوْا فِی الْعَذَابِ الْمُهِیْنِؕ﴿14﴾
پھر جب ہم نے سلیمان پر موت کا فیصلہ کردیا تو جنوں کو گھن کے کیڑے کے سوا کسی چیز نے سلیمان کی موت کا پتہ نہ دیا جو ان کے عصا کو کھائے جارہا تھا۔ پھر جب وہ گرپڑا تو جنوں پر واضح ہوگیا کہ اگر وہ غیب جانتے ہوتے تو ایسے ذلت کے عذاب میں نہ پڑے رہتے۔لَقَدْ كَانَ لِسَبَاٍ فِیْ مَسْكَنِهِمْ اٰیَةٌ١ۚ جَنَّتٰنِ عَنْ یَّمِیْنٍ وَّ شِمَالٍ١ؕ۬ كُلُوْا مِنْ رِّزْقِ رَبِّكُمْ وَ اشْكُرُوْا لَهٗ١ؕ بَلْدَةٌ طَیِّبَةٌ وَّ رَبٌّ غَفُوْرٌ﴿15﴾
قوم سبا کے لئے ان کے مسکن میں ہی ایک نشانی موجود تھی۔ اس مسکن کے دائیں، بائیں دو باغ تھے۔ (ہم نے انھیں کہا تھا کہ) اپنے پروردگار کا دیا ہوا رزق کھاؤ اور اس کا شکر ادا کرو۔ پاکیزہ اور ستھرا شہر ہے اور معاف فرمانے والا پروردگارفَاَعْرَضُوْا فَاَرْسَلْنَا عَلَیْهِمْ سَیْلَ الْعَرِمِ وَ بَدَّلْنٰهُمْ بِجَنَّتَیْهِمْ جَنَّتَیْنِ ذَوَاتَیْ اُكُلٍ خَمْطٍ وَّ اَثْلٍ وَّ شَیْءٍ مِّنْ سِدْرٍ قَلِیْلٍ﴿16﴾
مگر ان لوگوں نے سرتابی کی تو ہم نے ان پر زور کا سیلاب چھوڑ دیا۔ اور ان کے دونوں باغوں کو دو ایسے باغوں میں بدل دیا جن کے میوے بدمزہ تھے اور ان میں کچھ پیلو کے درخت تھے کچھ جھاؤ کے اور تھوڑی سی بیریاں تھیں۔ذٰلِكَ جَزَیْنٰهُمْ بِمَا كَفَرُوْا١ؕ وَ هَلْ نُجٰزِیْۤ اِلَّا الْكَفُوْرَ﴿17﴾
ہم نے یہ سزا انھیں ان کی ناشکری کی وجہ سے دی تھی اور ہم ناشکروں کو ایسا ہی بدلہ دیا کرتے ہیںوَ جَعَلْنَا بَیْنَهُمْ وَ بَیْنَ الْقُرَى الَّتِیْ بٰرَكْنَا فِیْهَا قُرًى ظَاهِرَةً وَّ قَدَّرْنَا فِیْهَا السَّیْرَ١ؕ سِیْرُوْا فِیْهَا لَیَالِیَ وَ اَیَّامًا اٰمِنِیْنَ﴿18﴾
ہم نے ان کی بستی اور اس بستی کے درمیان جس میں ہم نے برکت رکھی تھی، کھلے راستہ پر کئی بستیاں آباد کردی تھیں اور ان میں چلنے کی منزلیں مقرر کردی تھیں کہ ان میں رات دن بلاخوف و خطر امن سے سفر کرو۔فَقَالُوْا رَبَّنَا بٰعِدْ بَیْنَ اَسْفَارِنَا وَ ظَلَمُوْۤا اَنْفُسَهُمْ فَجَعَلْنٰهُمْ اَحَادِیْثَ وَ مَزَّقْنٰهُمْ كُلَّ مُمَزَّقٍ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّكُلِّ صَبَّارٍ شَكُوْرٍ﴿19﴾
مگر وہ کہنے لگے : اے ہمارے پروردگار ! ہمارے سفر کی مسافتیں دور دور کردے اور (یہ کہہ کر) انہوں نے اپنے آپ پر ظلم کیا۔ چناچہ ہم نے انھیں افسانے بنادیا اور تتر بتر کر ڈالا۔ اس میں یقینا ہر صابر و شاکر کے لئے کئی نشانیاں ہیں۔وَ لَقَدْ صَدَّقَ عَلَیْهِمْ اِبْلِیْسُ ظَنَّهٗ فَاتَّبَعُوْهُ اِلَّا فَرِیْقًا مِّنَ الْمُؤْمِنِیْنَ﴿20﴾
ان لوگوں کے متعلق ابلیس نے اپنا گمان درست پایا۔ چناچہ مومنوں کے گروہ کے سوا سب نے اسی کی پیروی کی۔وَ مَا كَانَ لَهٗ عَلَیْهِمْ مِّنْ سُلْطٰنٍ اِلَّا لِنَعْلَمَ مَنْ یُّؤْمِنُ بِالْاٰخِرَةِ مِمَّنْ هُوَ مِنْهَا فِیْ شَكٍّ١ؕ وَ رَبُّكَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ حَفِیْظٌ۠ع﴿21﴾
حالانکہ ابلیس کا ان پر کچھ زور نہیں تھا (اور یہ سب کچھ اس لئے ہوا) تاکہ ہم معلوم کرلیں کہ کون آخرت پر ایمان لاتا ہے اور کون اس بارے میں شک میں پڑا رہتا ہے اور آپ کا پروردگار ہر چیز پر نگران ہے۔قُلِ ادْعُوا الَّذِیْنَ زَعَمْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ۚ لَا یَمْلِكُوْنَ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ فِی السَّمٰوٰتِ وَ لَا فِی الْاَرْضِ وَ مَا لَهُمْ فِیْهِمَا مِنْ شِرْكٍ وَّ مَا لَهٗ مِنْهُمْ مِّنْ ظَهِیْرٍ﴿22﴾
(اے نبی !) آپ ان سے کہئے کہ : جن کو تم اللہ کے سوا (الٰہ) سمجھ رہے ہو انھیں پکار کر دیکھ لو۔ وہ تو آسمانوں اور زمین کے موجودات میں ذرہ بھر بھی اختیار نہیں رکھتے، نہ ہی ان موجودات میں ان کی کچھ شرکت ہے اور نہ ہی ان میں سے کوئی اللہ کا مددگار ہےوَ لَا تَنْفَعُ الشَّفَاعَةُ عِنْدَهٗۤ اِلَّا لِمَنْ اَذِنَ لَهٗ١ؕ حَتّٰۤى اِذَا فُزِّعَ عَنْ قُلُوْبِهِمْ قَالُوْا مَا ذَا١ۙ قَالَ رَبُّكُمْ١ؕ قَالُوا الْحَقَّ١ۚ وَ هُوَ الْعَلِیُّ الْكَبِیْرُ﴿23﴾
اس کے ہاں صرف اس کی سفارش فائدہ دے سکتی ہے جس کے لئے وہ خود اجازت دے۔ حتیٰ کہ جب لوگوں کے دلوں سے گھبراہٹ دور ہوگی تو وہ پوچھیں گے کہ تمہارے پروردگار نے کیا جواب دیا ؟ وہ کہیں گے کہ ٹھیک جواب ملا ہے۔ اور وہ عالی شان اور سب سے بڑا ہے۔قُلْ مَنْ یَّرْزُقُكُمْ مِّنَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ قُلِ اللّٰهُ١ۙ وَ اِنَّاۤ اَوْ اِیَّاكُمْ لَعَلٰى هُدًى اَوْ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ﴿24﴾
آپ ان سے پوچھئے کہ آسمانوں اور زمین سے تمہیں کون رزق دیتا ہے ؟ آپ کہئے کہ اللہ (ہی رزق دیتا ہے) اور ہم میں اور تم میں سے ایک فریق ہی ہدایت پر یا کھلی گمراہی میں پڑا ہوا ہے۔قُلْ لَّا تُسْئَلُوْنَ عَمَّاۤ اَجْرَمْنَا وَ لَا نُسْئَلُ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ﴿25﴾
آپ ان سے کہئے کہ ہم اگر جرم کریں تو اس کی باز پرس تم سے نہیں ہوگی اور جو کچھ تم کر رہے ہو اس کی ہم سے بازپرس نہیں ہوگیقُلْ یَجْمَعُ بَیْنَنَا رَبُّنَا ثُمَّ یَفْتَحُ بَیْنَنَا بِالْحَقِّ١ؕ وَ هُوَ الْفَتَّاحُ الْعَلِیْمُ﴿26﴾
آپ کہئے کہ اللہ ہم سب کو اکٹھا کرلے گا پھر ہمارے درمیان انصاف سے فیصلہ کر دے گا۔ اور وہی فیصلے کرنے والا اور سب کچھ جاننے والا ہےقُلْ اَرُوْنِیَ الَّذِیْنَ اَلْحَقْتُمْ بِهٖ شُرَكَآءَ كَلَّا١ؕ بَلْ هُوَ اللّٰهُ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ﴿27﴾
آپ ان سے کہئے : مجھے وہ ہستیاں دکھاؤ تو سہی جنہیں تم نے اللہ کا شریک بنا کر اس سے ملا دیا ہے۔ وہ ہرگز نہ بتاسکیں گے۔ بلکہ اللہ ہی سب پر غالب اور حکمت والا ہے۔وَ مَاۤ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا كَآفَّةً لِّلنَّاسِ بَشِیْرًا وَّ نَذِیْرًا وَّ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ﴿28﴾
اور ہم نے آپ کو تمام لوگوں کے لئے بشارت دینے والا اور ڈرانے والا ہی بنا کر بھیجا ہے مگر اکثر لوگ جانتے نہیں۔وَ یَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْوَعْدُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ﴿29﴾
اور یہ لوگ آپ سے کہتے ہیں کہ : اگر تم سچے ہو تو یہ وعدہ (قیامت) کب پورا ہوگا ؟قُلْ لَّكُمْ مِّیْعَادُ یَوْمٍ لَّا تَسْتَاْخِرُوْنَ عَنْهُ سَاعَةً وَّ لَا تَسْتَقْدِمُوْنَ۠ع﴿30﴾
آپ انھیں کہئے کہ تمہارے لئے وعدہ کا ایک دن مقرر ہے۔ تم اس سے ایک گھڑی بھی نہ پیچھے رہ سکو گے اور نہ آگے جاسکو گے۔وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَنْ نُّؤْمِنَ بِهٰذَا الْقُرْاٰنِ وَ لَا بِالَّذِیْ بَیْنَ یَدَیْهِ١ؕ وَ لَوْ تَرٰۤى اِذِ الظّٰلِمُوْنَ مَوْقُوْفُوْنَ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ۖۚ یَرْجِعُ بَعْضُهُمْ اِلٰى بَعْضِ اِ۟لْقَوْلَ١ۚ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ اسْتُضْعِفُوْا لِلَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْا لَوْ لَاۤ اَنْتُمْ لَكُنَّا مُؤْمِنِیْنَ﴿31﴾
اور کافر کہتے ہیں کہ ہم نہ تو اس قرآن پر ایمان لائیں گے اور نہ اس کتاب پر جو اس سے پہلے موجود ہے۔ کاش آپ ان ظالموں کو دیکھتے جب وہ اپنے پروردگار کے حضور کھڑے ہوں گے اور ایک دوسرے کی بات کا جواب دیں گے۔ جو لوگ (دنیا میں) کمزور سمجھے جاتے تھے وہ بڑا بننے والوں سے کہیں گے کہ اگر تم نہ ہوتے تو ہم مومن ہوتےقَالَ الَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْا لِلَّذِیْنَ اسْتُضْعِفُوْۤا اَنَحْنُ صَدَدْنٰكُمْ عَنِ الْهُدٰى بَعْدَ اِذْ جَآءَكُمْ بَلْ كُنْتُمْ مُّجْرِمِیْنَ﴿32﴾
اور جو بڑا بنتے تھے وہ کمزور لوگوں کو جواب دیں گے کہ : جب تمہارے پاس ہدایت آگئی تھی تو کیا ہم نے تمہیں اس سے روکا تھا ؟ بلکہ تم خود ہی مجرم تھے۔وَ قَالَ الَّذِیْنَ اسْتُضْعِفُوْا لِلَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْا بَلْ مَكْرُ الَّیْلِ وَ النَّهَارِ اِذْ تَاْمُرُوْنَنَاۤ اَنْ نَّكْفُرَ بِاللّٰهِ وَ نَجْعَلَ لَهٗۤ اَنْدَادًا١ؕ وَ اَسَرُّوا النَّدَامَةَ لَمَّا رَاَوُا الْعَذَابَ١ؕ وَ جَعَلْنَا الْاَغْلٰلَ فِیْۤ اَعْنَاقِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ؕ هَلْ یُجْزَوْنَ اِلَّا مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ﴿33﴾
اور جو کمزور سمجھے جاتے تھے وہ بڑا بننے والوں سے کہیں گے : بات یوں نہیں بلکہ یہ تمہاری شب و روز کی چالیں تھیں جب تم ہمیں حکم دیتے تھے کہ ہم اللہ کا انکار کریں اور اس کے شریک بنائیں پھر جب وہ عذاب دیکھیں گے تو اپنی ندامت کو چھپائیں گے اور ہم ان کافروں کی گردنوں میں طوق ڈال دیں گے۔ انھیں ایسا ہی بدلہ دیا جائے گا جیسے وہ کام کیا کرتے تھے۔وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا فِیْ قَرْیَةٍ مِّنْ نَّذِیْرٍ اِلَّا قَالَ مُتْرَفُوْهَاۤ١ۙ اِنَّا بِمَاۤ اُرْسِلْتُمْ بِهٖ كٰفِرُوْنَ﴿34﴾
اور ہم نے جس بستی میں بھی کوئی رسول بھیجا تو اس کے کھاتے پیتے لوگوں نے اسے یہی کہا کہ : جو پیغام تم لے کر آئے ہو، ہم اس کے منکر ہیںوَ قَالُوْا نَحْنُ اَكْثَرُ اَمْوَالًا وَّ اَوْلَادًا١ۙ وَّ مَا نَحْنُ بِمُعَذَّبِیْنَ﴿35﴾
اور یہ بھی کہا کہ : ہم مال اور اولاد کے لحاظ سے تم سے بڑھ کر ہیں اور ہمیں کوئی عذاب نہیں دیا جائے گا۔قُلْ اِنَّ رَبِّیْ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یَقْدِرُ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ۠ع﴿36﴾
آپ ان سے کہئے کہ : رزق تو میرا پروردگار جس کے لئے چاہتا ہے فراخ کردیتا ہے اور جس کے لئے چاہے کم بھی کردیتا ہے لیکن اکثر لوگ (یہ بات) جانتے نہیںوَ مَاۤ اَمْوَالُكُمْ وَ لَاۤ اَوْلَادُكُمْ بِالَّتِیْ تُقَرِّبُكُمْ عِنْدَنَا زُلْفٰۤى اِلَّا مَنْ اٰمَنَ وَ عَمِلَ صَالِحًا١٘ فَاُولٰٓئِكَ لَهُمْ جَزَآءُ الضِّعْفِ بِمَا عَمِلُوْا وَ هُمْ فِی الْغُرُفٰتِ اٰمِنُوْنَ﴿37﴾
تمہارے اموال اور اولاد ایسی چیزیں نہیں ہیں جن سے تم ہمارے ہاں مقرب بن سکو۔ ہاں جو شخص ایمان لائے اور نیک عمل کرے (وہ مقرب بن سکتا ہے) یہی لوگ ہیں جنہیں ان کے اعمال کا دگنا صلہ ملے گا اور وہ بالاخانوں میں امن و چین سے رہیں گےوَ الَّذِیْنَ یَسْعَوْنَ فِیْۤ اٰیٰتِنَا مُعٰجِزِیْنَ اُولٰٓئِكَ فِی الْعَذَابِ مُحْضَرُوْنَ﴿38﴾
جو لوگ ہماری آیات کو نیچا دکھانے میں زور صرف کر رہے ہیں۔ انہیں عذاب میں حاضر کیا جائے گا۔قُلْ اِنَّ رَبِّیْ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ وَ یَقْدِرُ لَهٗ١ؕ وَ مَاۤ اَنْفَقْتُمْ مِّنْ شَیْءٍ فَهُوَ یُخْلِفُهٗ١ۚ وَ هُوَ خَیْرُ الرّٰزِقِیْنَ﴿39﴾
آپ ان سے کہئے کہ : میرا پروردگار اپنے بندوں میں جس کے لئے چاہے رزق فراخ کردیتا ہے اور جس کے لئے چاہے کم کردیتا ہے اور جو کچھ تم خرچ کرتے ہو تو وہی اس کی جگہ تمہیں اور دے دیتا ہے اور وہی سب سے بہتر رازق ہےوَ یَوْمَ یَحْشُرُهُمْ جَمِیْعًا ثُمَّ یَقُوْلُ لِلْمَلٰٓئِكَةِ اَهٰۤؤُلَآءِ اِیَّاكُمْ كَانُوْا یَعْبُدُوْنَ﴿40﴾
اور جس دن اللہ تمام انسانوں کو جمع کرے گا پھر فرشتوں سے پوچھے گا : کیا یہ لوگ تمہاری ہی عبادت کیا کرتے تھے ؟قَالُوْا سُبْحٰنَكَ اَنْتَ وَلِیُّنَا مِنْ دُوْنِهِمْ١ۚ بَلْ كَانُوْا یَعْبُدُوْنَ الْجِنَّ١ۚ اَكْثَرُهُمْ بِهِمْ مُّؤْمِنُوْنَ﴿41﴾
وہ کہیں گے : تو پاک ہے ہمارا سرپرست تو ہے نہ کہ یہ (مشرک) بلکہ یہ لوگ تو جنوں کو پوجتے تھے اور ان میں اکثر انہی پر ایمان رکھتے تھے۔فَالْیَوْمَ لَا یَمْلِكُ بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ نَّفْعًا وَّ لَا ضَرًّا١ؕ وَ نَقُوْلُ لِلَّذِیْنَ ظَلَمُوْا ذُوْقُوْا عَذَابَ النَّارِ الَّتِیْ كُنْتُمْ بِهَا تُكَذِّبُوْنَ﴿42﴾
(اس وقت ہم کہیں گے کہ) آج تم میں سے کوئی بھی دوسرے کے نفع و نقصان کا کچھ اختیار نہیں رکھتا اور ظالموں سے ہم کہیں گے کہ اس آگ کا مزا چکھو جسے تم جھٹلایا کرتے تھے۔وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِمْ اٰیٰتُنَا بَیِّنٰتٍ قَالُوْا مَا هٰذَاۤ اِلَّا رَجُلٌ یُّرِیْدُ اَنْ یَّصُدَّكُمْ عَمَّا كَانَ یَعْبُدُ اٰبَآؤُكُمْ١ۚ وَ قَالُوْا مَا هٰذَاۤ اِلَّاۤ اِفْكٌ مُّفْتَرًى١ؕ وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لِلْحَقِّ لَمَّا جَآءَهُمْ١ۙ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا سِحْرٌ مُّبِیْنٌ﴿43﴾
اور جب ان پر ہماری واضح آیات پڑھی جاتی ہیں تو کہتے ہیں : یہ آدمی تو ایسا ہے جو یہ چاہتا ہے کہ تمہیں تمہارے ان (معبودوں) سے روک دے جنہیں تمہارے آباء و اجداد پوجا کرتے تھے۔ نیز وہ کہتے ہیں کہ یہ قرآن تو جھوٹ ہی گھڑا ہوا ہے۔ اور ان کافروں کے پاس جب حق آگیا تو کہنے لگے کہ : یہ تو صریح جادو ہےوَ مَاۤ اٰتَیْنٰهُمْ مِّنْ كُتُبٍ یَّدْرُسُوْنَهَا وَ مَاۤ اَرْسَلْنَاۤ اِلَیْهِمْ قَبْلَكَ مِنْ نَّذِیْرٍؕ﴿44﴾
حالانکہ ہم نے ان (کفار مکہ) کو نہ تو کوئی کتاب دی تھی جسے وہ پڑھتے ہوں اور نہ ہی آپ سے پہلے کوئی ڈرانے والا ان کے پاس بھیجا تھا۔وَ كَذَّبَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ۙ وَ مَا بَلَغُوْا مِعْشَارَ مَاۤ اٰتَیْنٰهُمْ فَكَذَّبُوْا رُسُلِیْ١۫ فَكَیْفَ كَانَ نَكِیْرِ۠ع﴿45﴾
جو لوگ ان سے پہلے گزر چکے ہیں انہوں نے (بھی حق کو) جھٹلایا تھا اور جو کچھ ہم نے انہیں دے رکھا تھا یہ لوگ تو اس کے عشر عشیر کو بھی نہیں پہنچے۔ انہوں نے میرے رسولوں کو جھٹلایا تو دیکھ لو میری سزا کیسی (سخت) تھی۔قُلْ اِنَّمَاۤ اَعِظُكُمْ بِوَاحِدَةٍ١ۚ اَنْ تَقُوْمُوْا لِلّٰهِ مَثْنٰى وَ فُرَادٰى ثُمَّ تَتَفَكَّرُوْا١۫ مَا بِصَاحِبِكُمْ مِّنْ جِنَّةٍ١ؕ اِنْ هُوَ اِلَّا نَذِیْرٌ لَّكُمْ بَیْنَ یَدَیْ عَذَابٍ شَدِیْدٍ﴿46﴾
آپ ان سے کہئے کہ : میں تمہیں ایک بات کی نصیحت کرتا ہوں کہ اللہ کے واسطے تم دو دو مل کر اور اکیلے اکیلے رہ کر خوب سوچو کہ آیا تمہارے صاحب (رسول اللہ ﷺ میں کوئی جنون کی بات ہے ؟ وہ تو محض ایک سخت عذاب سے پہلے تمہیں ڈرانے والا ہے۔قُلْ مَا سَاَلْتُكُمْ مِّنْ اَجْرٍ فَهُوَ لَكُمْ١ؕ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلَى اللّٰهِ١ۚ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ شَهِیْدٌ﴿47﴾
آپ ان سے کہئے کہ : اگر میں نے تم سے کچھ اجرت مانگی تو وہ تم ہی رکھو۔ میرا اجر تو اللہ کے ذمہ ہے اور وہ ہر چیز پر حاضر و ناظر ہے۔قُلْ اِنَّ رَبِّیْ یَقْذِفُ بِالْحَقِّ١ۚ عَلَّامُ الْغُیُوْبِ﴿48﴾
آپ انہیں کہہ دیجئے کہ : میرا پروردگار حق کے ساتھ (باطل پر) ضرب لگاتا ہے اور وہ سب چھپی باتوں کو جاننے والا ہے۔قُلْ جَآءَ الْحَقُّ وَ مَا یُبْدِئُ الْبَاطِلُ وَ مَا یُعِیْدُ﴿49﴾
آپ کہئے کہ حق آگیا اور باطل نے تو نہ پہلی بار کچھ پیدا کیا تھا نہ دوبارہ کچھ کرسکے گا۔قُلْ اِنْ ضَلَلْتُ فَاِنَّمَاۤ اَضِلُّ عَلٰى نَفْسِیْ١ۚ وَ اِنِ اهْتَدَیْتُ فَبِمَا یُوْحِیْۤ اِلَیَّ رَبِّیْ١ؕ اِنَّهٗ سَمِیْعٌ قَرِیْبٌ﴿50﴾
آپ ان سے کہئے کہ اگر میں راہ بھولا ہوا ہوں تو اس بھول کا وبال مجھ پر ہوگا اور اگر میں سیدھی راہ پر گامزن ہوں تو اس کی وجہ یہ ہے کہ میرا پروردگار میری طرف وحی کرتا ہے وہ یقینا سب کچھ سننے والا ہے اور قریب ہے۔وَ لَوْ تَرٰۤى اِذْ فَزِعُوْا فَلَا فَوْتَ وَ اُخِذُوْا مِنْ مَّكَانٍ قَرِیْبٍۙ﴿51﴾
کاش آپ دیکھیں جب وہ وہ گھبرائے ہوئے ہوں گے تو بچ نہ سکیں گے بلکہ قریب ہی سے پکڑ لئے جائیں گے۔وَّ قَالُوْۤا اٰمَنَّا بِهٖ١ۚ وَ اَنّٰى لَهُمُ التَّنَاوُشُ مِنْ مَّكَانٍۭ بَعِیْدٍۚۖ﴿52﴾
اور کہیں گے کہ (اب) ہم اس پر ایمان لے آئے اور اتنے دور مقام سے اب انہیں (ایمان) حاصل کرنا کہاں سے میسر ہوگا۔وَّ قَدْ كَفَرُوْا بِهٖ مِنْ قَبْلُ١ۚ وَ یَقْذِفُوْنَ بِالْغَیْبِ مِنْ مَّكَانٍۭ بَعِیْدٍ﴿53﴾
حالانکہ اس سے پہلے وہ (دنیا میں) انکار کرچکے تھے اور بن دیکھے (اندھیرے میں) انہیں بہت دور کی سوجھتی تھی۔وَ حِیْلَ بَیْنَهُمْ وَ بَیْنَ مَا یَشْتَهُوْنَ كَمَا فُعِلَ بِاَشْیَاعِهِمْ مِّنْ قَبْلُ١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا فِیْ شَكٍّ مُّرِیْبٍ۠ع﴿54﴾
اس وقت ان کے اور ان کی خواہش کی چیزوں کے درمیان پردہ حائل کردیا جائے گا۔ جیسا کہ اس سے پہلے ان کے ہم جنسوں سے یہی سلوک کیا گیا تھا۔ وہ بھی ایسے شک میں پڑے ہوئے تھے جو انہیں بےچین کئے ہوئے تھا۔