42. Ash-Shuraالشورى
Consultation · Meccan · 53 ayahs · 5 rukus · مولانا عبد الرحمٰن کیلانی
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
حٰمٓۚ﴿1﴾
حٰمعٓسٓقٓ﴿2﴾
ع۔ س۔ قكَذٰلِكَ یُوْحِیْۤ اِلَیْكَ وَ اِلَى الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكَ١ۙ اللّٰهُ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ﴿3﴾
اللہ جو زبردست اور حکمت والا ہے، آپ کی طرف اور آپ سے پہلے (رسولوں) کی طرف اسی طرح وحی کرتا رہا ہےلَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ هُوَ الْعَلِیُّ الْعَظِیْمُ﴿4﴾
آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے سب اسی کا ہے اور وہ عالی شان اور عظمت والا ہے۔تَكَادُ السَّمٰوٰتُ یَتَفَطَّرْنَ مِنْ فَوْقِهِنَّ وَ الْمَلٰٓئِكَةُ یُسَبِّحُوْنَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَ یَسْتَغْفِرُوْنَ لِمَنْ فِی الْاَرْضِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ اللّٰهَ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ﴿5﴾
(جو کچھ یہ مشرکین کہتے ہیں) قریب ہے کہ آسمان اوپر سے پھٹ پڑیں درآنحالیکہ فرشتے اپنے پروردگار کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کرتے اور زمین میں رہنے والوں کے لئے بخشش طلب کرتے رہتے ہیں۔ سن رکھو ! ! اللہ ہی بخشنے والا اور رحم کرنے والا ہےوَ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِهٖۤ اَوْلِیَآءَ اللّٰهُ حَفِیْظٌ عَلَیْهِمْ١ۖ٘ وَ مَاۤ اَنْتَ عَلَیْهِمْ بِوَكِیْلٍ﴿6﴾
اور جن لوگوں نے اللہ کے سوا سرپرست بنا رکھے ہیں اللہ ہی ان پر نگران ہے، آپ ان کے ذمہ دار نہیں۔وَ كَذٰلِكَ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ قُرْاٰنًا عَرَبِیًّا لِّتُنْذِرَ اُمَّ الْقُرٰى وَ مَنْ حَوْلَهَا وَ تُنْذِرَ یَوْمَ الْجَمْعِ لَا رَیْبَ فِیْهِ١ؕ فَرِیْقٌ فِی الْجَنَّةِ وَ فَرِیْقٌ فِی السَّعِیْرِ﴿7﴾
اور اسی طرح ہم نے آپ کی طرف یہ قرآن عربی زبان میں نازل کیا تاکہ آپ اہل مکہ اور اس کے گردو پیش والوں کو ڈرائیں اور انہیں جمع ہونے کے دن سے بھی ڈرائیں جس (کے واقعہ ہونے) میں کوئی شک نہیں (اس دن) ایک گروہ تو جنت میں جائے گا اور دوسرا دوزخ میں۔وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَجَعَلَهُمْ اُمَّةً وَّاحِدَةً وَّ لٰكِنْ یُّدْخِلُ مَنْ یَّشَآءُ فِیْ رَحْمَتِهٖ١ؕ وَ الظّٰلِمُوْنَ مَا لَهُمْ مِّنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا نَصِیْرٍ﴿8﴾
اگر اللہ چاہتا تو انہیں ایک ہی امت رہنے دیتا مگر وہ جسے چاہتا ہے اپنی رحمت میں داخل کرتا ہے۔ اور ظالموں کے لئے نہ کوئی کارساز ہوگا اور نہ مددگاراَمِ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِهٖۤ اَوْلِیَآءَ١ۚ فَاللّٰهُ هُوَ الْوَلِیُّ وَ هُوَ یُحْیِ الْمَوْتٰى١٘ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ۠ع﴿9﴾
کیا ان لوگوں نے اللہ کے سوا دوسروں کو اپنا کارساز بنا رکھا ہے ؟ حالانکہ کارساز تو صرف اللہ ہے اور وہی مردوں کو زندہ کرے گا۔ اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔وَ مَا اخْتَلَفْتُمْ فِیْهِ مِنْ شَیْءٍ فَحُكْمُهٗۤ اِلَى اللّٰهِ١ؕ ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبِّیْ عَلَیْهِ تَوَكَّلْتُ١ۖۗ وَ اِلَیْهِ اُنِیْبُ﴿10﴾
اور جس بات میں بھی تم اختلاف کرتے ہو اس کا فیصلہ کرنا اللہ کا کام ہے۔ وہی اللہ میرا پروردگار ہے میں اسی پر بھروسہ کرچکا اور اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں۔فَاطِرُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ جَعَلَ لَكُمْ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ اَزْوَاجًا وَّ مِنَ الْاَنْعَامِ اَزْوَاجًا١ۚ یَذْرَؤُكُمْ فِیْهِ١ؕ لَیْسَ كَمِثْلِهٖ شَیْءٌ١ۚ وَ هُوَ السَّمِیْعُ الْبَصِیْرُ﴿11﴾
جو آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے والا ہے۔ جس نے تمہارے لئے تمہاری اپنی جنس سے بھی جوڑے بنا دیئے اور چوپایوں کے بھی (اس طرح) وہ تمہیں زمین میں پھیلا دیتا ہے۔ کوئی چیز اس کے مشابہ نہیں اور وہ سب کچھ سننے والا اور دیکھنے والا ہے۔لَهٗ مَقَالِیْدُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ۚ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یَقْدِرُ١ؕ اِنَّهٗ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ﴿12﴾
آسمانوں اور زمین کی چابیاں اسی کے پاس ہیں۔ وہ جس کے لئے چاہتا ہے زرق کشادہ کردیتا ہے اور جس کے لئے چاہتا ہے کم کردیتا ہے۔ بلاشبہ وہ سب کچھ جاننے والا ہےشَرَعَ لَكُمْ مِّنَ الدِّیْنِ مَا وَصّٰى بِهٖ نُوْحًا وَّ الَّذِیْۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ وَ مَا وَصَّیْنَا بِهٖۤ اِبْرٰهِیْمَ وَ مُوْسٰى وَ عِیْسٰۤى اَنْ اَقِیْمُوا الدِّیْنَ وَ لَا تَتَفَرَّقُوْا فِیْهِ١ؕ كَبُرَ عَلَى الْمُشْرِكِیْنَ مَا تَدْعُوْهُمْ اِلَیْهِ١ؕ اَللّٰهُ یَجْتَبِیْۤ اِلَیْهِ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَهْدِیْۤ اِلَیْهِ مَنْ یُّنِیْبُ﴿13﴾
اس نے تمہارے لئے دین کا وہی طریقہ مقرر کیا جس کا نوح کو حکم دیا تھا اور جو ہم نے آپ کی طرف وحی کیا ہے اور جس کا ابراہیم ، موسیٰ اور عیسیٰ کو حکم دیا تھا کہ دین کو قائم رکھو اور اس میں تفرقہ نہ ڈالنا۔ آپ ان مشرکوں کو جس بات کی دعوت دیتے ہیں وہ ان پر گراں گزرتی ہے۔ اللہ جسے چاہتا ہے اپنے لئے چن لیتا ہے اور اپنی طرف سے اسی کو راہ دکھاتا ہے جو اس کی طرف رجوع کرے۔وَ مَا تَفَرَّقُوْۤا اِلَّا مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَهُمُ الْعِلْمُ بَغْیًۢا بَیْنَهُمْ١ؕ وَ لَوْ لَا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِنْ رَّبِّكَ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى لَّقُضِیَ بَیْنَهُمْ١ؕ وَ اِنَّ الَّذِیْنَ اُوْرِثُوا الْكِتٰبَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ لَفِیْ شَكٍّ مِّنْهُ مُرِیْبٍ﴿14﴾
ان لوگوں میں فرقہ بندی اس وقت پیدا ہوئی جبکہ اس سے پہلے ان کے پاس علم (وحی) آچکا تھا (اور اس کی وجہ محض) ان کی باہمی ضد بازی تھی۔ اور اگر آپ کے پروردگار کی طرف سے ایک مقررہ مدت تک کا حکم پہلے سے طے شدہ نہ ہوتا تو ان کا قضیہ چکا دیا گیا ہوتا۔ اور ان کے بعد جو لوگ کتاب کے وارث ہوئے وہ ایسے شک میں پڑگئے جو انہیں بےچین کئے رکھتا تھا۔فَلِذٰلِكَ فَادْعُ١ۚ وَ اسْتَقِمْ كَمَاۤ اُمِرْتَ١ۚ وَ لَا تَتَّبِعْ اَهْوَآءَهُمْ١ۚ وَ قُلْ اٰمَنْتُ بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ مِنْ كِتٰبٍ١ۚ وَ اُمِرْتُ لِاَعْدِلَ بَیْنَكُمْ١ؕ اَللّٰهُ رَبُّنَا وَ رَبُّكُمْ١ؕ لَنَاۤ اَعْمَالُنَا وَ لَكُمْ اَعْمَالُكُمْ١ؕ لَا حُجَّةَ بَیْنَنَا وَ بَیْنَكُمْ١ؕ اَللّٰهُ یَجْمَعُ بَیْنَنَا١ۚ وَ اِلَیْهِ الْمَصِیْرُؕ﴿15﴾
لہٰذا آپ اسی دین کی دعوت دیجئے اور جو آپ کو حکم دیا گیا ہے اس پر ڈٹ جائیے۔ اور ان کی خواہشات پر نہ چلیے اور کہہ دیجئے کہ : میں اس کتاب پر ایمان لایا جو اللہ نے نازل کی ہے اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں تمہارے درمیان انصاف کروں۔ اللہ ہی ہمارا پروردگار ہے اور تمہارا بھی۔ ہمارے اعمال ہمارے لیے اور تمہارے اعمال تمہارے لیے۔ ہمارے اور تمہارے درمیان کوئی جھگڑا نہیں۔ اللہ ہم سب کو (روز قیامت) جمع کر دے گا اور اسی کی طرف سب کو جانا ہے۔وَ الَّذِیْنَ یُحَآجُّوْنَ فِی اللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ مَا اسْتُجِیْبَ لَهٗ حُجَّتُهُمْ دَاحِضَةٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ وَ عَلَیْهِمْ غَضَبٌ وَّ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌ﴿16﴾
جو لوگ اللہ (کی ہستی) کو تسلیم کر لئے جانے کے بعد اس کے بارے میں جھگڑا کرتے ہیں ان کی حجت ان کے پروردگار کے ہاں باطل ہے ان پر اللہ کا غضب ہے اور ان کے لئے سخت عذاب ہے۔اَللّٰهُ الَّذِیْۤ اَنْزَلَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ وَ الْمِیْزَانَ١ؕ وَ مَا یُدْرِیْكَ لَعَلَّ السَّاعَةَ قَرِیْبٌ﴿17﴾
اللہ ہی ہے جس نے حق کے ساتھ کتاب اور میزان نازل کی ہے۔ اور آپ کو کیا پتا کہ شاید قیامت قریب ہی ہو۔یَسْتَعْجِلُ بِهَا الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِهَا١ۚ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مُشْفِقُوْنَ مِنْهَا١ۙ وَ یَعْلَمُوْنَ اَنَّهَا الْحَقُّ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ الَّذِیْنَ یُمَارُوْنَ فِی السَّاعَةِ لَفِیْ ضَلٰلٍۭ بَعِیْدٍ﴿18﴾
جو لوگ اس (قیامت) پر ایمان نہیں رکھتے وہ تو اس کے لئے جلدی مچاتے ہیں اور جو ایمان لاتے ہیں وہ اس سے ڈرتے ہیں اور جانتے ہیں کہ وہ ایک حقیقت ہے یاد رکھو ! ! جو لوگ قیامت کے بارے میں بحثیں کرتے ہیں وہ گمراہی میں دور تک چلے گئے ہیںاَللّٰهُ لَطِیْفٌۢ بِعِبَادِهٖ یَرْزُقُ مَنْ یَّشَآءُ١ۚ وَ هُوَ الْقَوِیُّ الْعَزِیْزُ۠ع﴿19﴾
اللہ اپنے بندوں پر بہت مہربان ہے جسے (جتنا) چاہتا ہے رزق دیتا ہے اور وہ طاقتور اور زبردست ہے۔مَنْ كَانَ یُرِیْدُ حَرْثَ الْاٰخِرَةِ نَزِدْ لَهٗ فِیْ حَرْثِهٖ١ۚ وَ مَنْ كَانَ یُرِیْدُ حَرْثَ الدُّنْیَا نُؤْتِهٖ مِنْهَا وَ مَا لَهٗ فِی الْاٰخِرَةِ مِنْ نَّصِیْبٍ﴿20﴾
جو شخص آخرت کی کھیتی چاہتا ہے ہم اس کی کھیتی بڑھا دیتے ہیں اور جو دنیا کی کھیتی چاہتا ہے اسے اس میں سے کچھ دے دیتے ہیں اور آخرت میں اس کا کوئی حصہ نہ ہوگا۔اَمْ لَهُمْ شُرَكٰٓؤُا شَرَعُوْا لَهُمْ مِّنَ الدِّیْنِ مَا لَمْ یَاْذَنْۢ بِهِ اللّٰهُ١ؕ وَ لَوْ لَا كَلِمَةُ الْفَصْلِ لَقُضِیَ بَیْنَهُمْ١ؕ وَ اِنَّ الظّٰلِمِیْنَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ﴿21﴾
کیا ان لوگوں کے ایسے شریک ہیں جنہوں نے ان کے لئے دین کا ایسا طریقہ مقرر کیا ہو جس کا اللہ نے اذن نہیں دیا ؟ اور اگر فیصلے کی بات طے شدہ نہ ہوتی تو ان کا فیصلہ کردیا گیا ہوتا۔ یقینا ان ظالموں کے لئے دردناک عذاب ہے۔تَرَى الظّٰلِمِیْنَ مُشْفِقِیْنَ مِمَّا كَسَبُوْا وَ هُوَ وَاقِعٌۢ بِهِمْ١ؕ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فِیْ رَوْضٰتِ الْجَنّٰتِ١ۚ لَهُمْ مَّا یَشَآءُوْنَ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الْفَضْلُ الْكَبِیْرُ﴿22﴾
(اس دن) آپ دیکھیں گے کہ یہ ظالم اپنے اعمال سے ڈر رہے ہوں گے مگر وہ (عذاب) ان پر واقع ہو کے رہے گا اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک اعمال کئے وہ جنت کے باغوں میں ہوں گے۔ اپنے پروردگار کے ہاں جو چاہیں گے، انہیں ملے گا۔ یہی بہت بڑا فضل ہے۔ذٰلِكَ الَّذِیْ یُبَشِّرُ اللّٰهُ عِبَادَهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ١ؕ قُلْ لَّاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ اَجْرًا اِلَّا الْمَوَدَّةَ فِی الْقُرْبٰى١ؕ وَ مَنْ یَّقْتَرِفْ حَسَنَةً نَّزِدْ لَهٗ فِیْهَا حُسْنًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ شَكُوْرٌ﴿23﴾
یہی وہ فضل ہے جس کی اللہ اپنے ان بندوں کو بشارت دیتا ہے جو ایمان لائے اور نیک عمل کئے۔ آپ ان سے کہئے کہ میں اس کام پر تم سے کوئی اجر نہیں مانگتا البتہ قرابت کی محبت ضرور چاہتا ہوں۔ اور جو کوئی نیکی کمائے گا ہم اس کے لئے اس میں خوبی کا اضافہ کردیں گے بلاشبہ اللہ معاف کرنے والا اور قدر دان ہے۔اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا١ۚ فَاِنْ یَّشَاِ اللّٰهُ یَخْتِمْ عَلٰى قَلْبِكَ١ؕ وَ یَمْحُ اللّٰهُ الْبَاطِلَ وَ یُحِقُّ الْحَقَّ بِكَلِمٰتِهٖ١ؕ اِنَّهٗ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ﴿24﴾
کیا وہ یہ کہتے ہیں کہ اس نے اللہ پر جھوٹ باندھا ہے ؟ پس اگر وہ چاہتا تو آپ کے دل پر مہر کردیتا اور اللہ تو باطل کو مٹاتا اور اپنے کلمات سے حق کو حق ثابت کرتا ہے۔ بلاشبہ وہ دلوں کے راز تک جانتا ہےوَ هُوَ الَّذِیْ یَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهٖ وَ یَعْفُوْا عَنِ السَّیِّاٰتِ وَ یَعْلَمُ مَا تَفْعَلُوْنَۙ﴿25﴾
وہی تو ہے جو اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا اور (ان کی) برائیوں کو معاف کرتا ہے اور جو کچھ تم کرتے ہو وہ اسے جانتا ہےوَ یَسْتَجِیْبُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ یَزِیْدُهُمْ مِّنْ فَضْلِهٖ١ؕ وَ الْكٰفِرُوْنَ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌ﴿26﴾
اور جو لوگ ایمان لائیں اور نیک عمل کریں ان کی دعا قبول کرتا ہے اور اپنے فضل سے انہیں زیادہ بھی دیتا ہے۔ اور جو کافر ہیں ان کے لئے سخت عذاب ہے۔وَ لَوْ بَسَطَ اللّٰهُ الرِّزْقَ لِعِبَادِهٖ لَبَغَوْا فِی الْاَرْضِ وَ لٰكِنْ یُّنَزِّلُ بِقَدَرٍ مَّا یَشَآءُ١ؕ اِنَّهٗ بِعِبَادِهٖ خَبِیْرٌۢ بَصِیْرٌ﴿27﴾
اور اگر اللہ اپنے سب بندوں کو وافر رزق عطا کردیتا تو وہ زمین میں سرکشی سے اودھم مچا دیتے۔ مگر وہ ایک اندازے سے جتنا رزق چاہتا ہے نازل کرتا ہے۔ یقینا وہ اپنے بندوں سے باخبر ہے، انہیں دیکھ رہا ہے۔وَ هُوَ الَّذِیْ یُنَزِّلُ الْغَیْثَ مِنْۢ بَعْدِ مَا قَنَطُوْا وَ یَنْشُرُ رَحْمَتَهٗ١ؕ وَ هُوَ الْوَلِیُّ الْحَمِیْدُ﴿28﴾
وہی تو ہے جو لوگوں کے مایوس ہوجانے کے بعد بارش برساتا ہے اور اپنی رحمت عام کردیتا ہے اور وہی کارساز ہے، حمد کے لائق ہے۔وَ مِنْ اٰیٰتِهٖ خَلْقُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَثَّ فِیْهِمَا مِنْ دَآبَّةٍ١ؕ وَ هُوَ عَلٰى جَمْعِهِمْ اِذَا یَشَآءُ قَدِیْرٌ۠ع﴿29﴾
اور اس کی نشانیوں میں ایک نشانی اس کا آسمانوں، زمین اور ان جانداروں کا پیدا کرنا ہے جو اس نے ان میں پھیلا دیئے ہیں اور وہی جب چاہے انہیں اکٹھا کرلینے پر بھی قادر ہے۔وَ مَاۤ اَصَابَكُمْ مِّنْ مُّصِیْبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ اَیْدِیْكُمْ وَ یَعْفُوْا عَنْ كَثِیْرٍؕ﴿30﴾
اور تمہیں جو مصیبت بھی آتی ہے تمہارے اپنے ہی کرتوتوں کے سبب سے آتی ہے اور وہ تمہارے بہت سے گناہوں سے درگزر بھی کرجاتا ہےوَ مَاۤ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِیْنَ فِی الْاَرْضِ١ۖۚ وَ مَا لَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا نَصِیْرٍ﴿31﴾
اور نہ تم اسے زمین عاجز کرسکتے ہو (کہ تمہیں سزا نہ دے سکے) اور اللہ کے سوا تمہارا نہ کوئی کارساز ہے اور نہ مددگار۔وَ مِنْ اٰیٰتِهِ الْجَوَارِ فِی الْبَحْرِ كَالْاَعْلَامِؕ﴿32﴾
اور اس کی نشانیوں میں ایک وہ کشتیاں ہیں جو سمندر میں پہاڑوں کی طرح (نظر آتی ہیں)اِنْ یَّشَاْ یُسْكِنِ الرِّیْحَ فَیَظْلَلْنَ رَوَاكِدَ عَلٰى ظَهْرِهٖ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّكُلِّ صَبَّارٍ شَكُوْرٍۙ﴿33﴾
اگر وہ چاہے تو ہوا کو ساکن کردے اور وہ کشتیاں سطح سمندر پر کھڑی کی کھڑی رہ جائیں۔ اس میں بھی ہر صبر کرنے والے اور شکرگزار کے لئے کئی نشانیاں ہیںاَوْ یُوْبِقْهُنَّ بِمَا كَسَبُوْا وَ یَعْفُ عَنْ كَثِیْرٍ٘﴿34﴾
یا ان کے برے اعمال کے سبب کشتیوں کو تباہ کردے اور وہ بہت سے لوگوں کو معاف ہی کردیتا ہےوَّ یَعْلَمَ الَّذِیْنَ یُجَادِلُوْنَ فِیْۤ اٰیٰتِنَا١ؕ مَا لَهُمْ مِّنْ مَّحِیْصٍ﴿35﴾
اور ان لوگوں کو جو ہماری آیات میں جھگڑا کرتے ہیں یہ معلوم ہوجائے کہ ان کے لئے کوئی پناہ کی جگہ نہیں۔فَمَاۤ اُوْتِیْتُمْ مِّنْ شَیْءٍ فَمَتَاعُ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۚ وَ مَا عِنْدَ اللّٰهِ خَیْرٌ وَّ اَبْقٰى لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَلٰى رَبِّهِمْ یَتَوَكَّلُوْنَۚ﴿36﴾
تمہیں جو کچھ بھی دیا گیا ہے وہ دنیا کی زندگی کا سازوسامان ہے اور جو کچھ اللہ کے ہاں ہے وہ بہتر اور باقی رہنے والا ہے وہ ان لوگوں کے لئے ہے جو ایمان لائے اور اپنے پروردگار پر بھروسہ کرتے ہیں۔وَ الَّذِیْنَ یَجْتَنِبُوْنَ كَبٰٓئِرَ الْاِثْمِ وَ الْفَوَاحِشَ وَ اِذَا مَا غَضِبُوْا هُمْ یَغْفِرُوْنَۚ﴿37﴾
اور جو بڑے بڑے گناہوں اور بےحیائی کے کاموں سے بچتے ہیں اور جب انہیں غصہ آئے تو معاف کردیتے ہیںوَ الَّذِیْنَ اسْتَجَابُوْا لِرَبِّهِمْ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ١۪ وَ اَمْرُهُمْ شُوْرٰى بَیْنَهُمْ١۪ وَ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَۚ﴿38﴾
اور جو اپنے پروردگار کا حکم مانتے اور نماز قائم کرتے ہیں اور ان کے کام باہمی مشورہ سے طے پاتے ہیں اور جو کچھ رزق ہم نے انہیں دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔وَ الَّذِیْنَ اِذَاۤ اَصَابَهُمُ الْبَغْیُ هُمْ یَنْتَصِرُوْنَ﴿39﴾
اور جب ان پر زیادتی ہوتی ہے تو وہ بدلہ لے لیتے ہیںوَ جَزٰٓؤُا سَیِّئَةٍ سَیِّئَةٌ مِّثْلُهَا١ۚ فَمَنْ عَفَا وَ اَصْلَحَ فَاَجْرُهٗ عَلَى اللّٰهِ١ؕ اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الظّٰلِمِیْنَ﴿40﴾
اور برائی کا بدلہ ویسی ہی برائی ہے۔ پھر جو کوئی معاف کردے اور صلح کرلے تو اس کا اجر اللہ کے ذمہ ہے۔ وہ ظالموں کو قطعاً پسند نہیں کرتا۔وَ لَمَنِ انْتَصَرَ بَعْدَ ظُلْمِهٖ فَاُولٰٓئِكَ مَا عَلَیْهِمْ مِّنْ سَبِیْلٍؕ﴿41﴾
اور جو شخص ظلم ہونے کے بعد بدلہ لے لے تو اس پر کوئی الزام نہیں۔اِنَّمَا السَّبِیْلُ عَلَى الَّذِیْنَ یَظْلِمُوْنَ النَّاسَ وَ یَبْغُوْنَ فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ١ؕ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ﴿42﴾
الزام تو ان لوگوں پر ہے جو لوگوں پر ظلم کرتے اور زمین میں ناحق زیادتی کرتے ہیں۔ ایسے ہی لوگوں کے لئے دردناک عذاب ہےوَ لَمَنْ صَبَرَ وَ غَفَرَ اِنَّ ذٰلِكَ لَمِنْ عَزْمِ الْاُمُوْرِ۠ع﴿43﴾
اور جو شخص صبر کرے اور معاف کردے تو یہ بڑی ہمت کا کام ہے۔وَ مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ وَّلِیٍّ مِّنْۢ بَعْدِهٖ١ؕ وَ تَرَى الظّٰلِمِیْنَ لَمَّا رَاَوُا الْعَذَابَ یَقُوْلُوْنَ هَلْ اِلٰى مَرَدٍّ مِّنْ سَبِیْلٍۚ﴿44﴾
اور جسے اللہ گمراہ کردے تو اس کے بعد کوئی اس کا کارساز نہیں۔ اور آپ ظالموں کو دیکھیں گے کہ جب وہ عذاب دیکھیں گے تو کہیں گے کہ : کیا واپس پلٹنے کی بھی کوئی راہ ہے ؟وَ تَرٰىهُمْ یُعْرَضُوْنَ عَلَیْهَا خٰشِعِیْنَ مِنَ الذُّلِّ یَنْظُرُوْنَ مِنْ طَرْفٍ خَفِیٍّ١ؕ وَ قَالَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنَّ الْخٰسِرِیْنَ الَّذِیْنَ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ وَ اَهْلِیْهِمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ الظّٰلِمِیْنَ فِیْ عَذَابٍ مُّقِیْمٍ﴿45﴾
اور آپ دیکھیں گے کہ جب انہیں اس (دوزخ) پر پیش کیا جائے گا تو ذلت کے مارے جھکے ہوئے دزدیدہ نگاہوں سے دیکھ رہے ہوں گے۔ اور جو لوگ ایمان لائے تھے وہ کہیں گے کہ اصل میں خسارہ اٹھانے والے وہ لوگ ہیں جنہوں نے قیامت کے دن اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو خسارہ میں رکھا۔ سن لو ! ظالم لوگ دائمی عذاب میں رہیں گےوَ مَا كَانَ لَهُمْ مِّنْ اَوْلِیَآءَ یَنْصُرُوْنَهُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ؕ وَ مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ سَبِیْلٍؕ﴿46﴾
اور ان کے کوئی حمایتی نہ ہوں گے جو اللہ کے مقابلے میں ان کی مدد کریں۔ اور جسے اللہ گمراہ کردے اس کے لئے (بچاؤ کی) کوئی راہ نہیںاِسْتَجِیْبُوْا لِرَبِّكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَ یَوْمٌ لَّا مَرَدَّ لَهٗ مِنَ اللّٰهِ١ؕ مَا لَكُمْ مِّنْ مَّلْجَاٍ یَّوْمَئِذٍ وَّ مَا لَكُمْ مِّنْ نَّكِیْرٍ﴿47﴾
اس دن کے آنے سے پہلے پہلے اپنے پروردگار کا حکم مان لو جس کے ٹلنے کی کوئی صورت اللہ کی طرف سے نہیں ہے۔ اس دن تمہارے لئے کوئی جائے پناہ نہ ہوگی۔ اور تم اظہار ناراضگی بھی نہ کرسکو گے۔فَاِنْ اَعْرَضُوْا فَمَاۤ اَرْسَلْنٰكَ عَلَیْهِمْ حَفِیْظًا١ؕ اِنْ عَلَیْكَ اِلَّا الْبَلٰغُ١ؕ وَ اِنَّاۤ اِذَاۤ اَذَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنَّا رَحْمَةً فَرِحَ بِهَا١ۚ وَ اِنْ تُصِبْهُمْ سَیِّئَةٌۢ بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْهِمْ فَاِنَّ الْاِنْسَانَ كَفُوْرٌ﴿48﴾
پھر اگر وہ منہ موڑیں تو ہم نے آپ کو ان پر نگران بنا کر نہیں بھیجا۔ آپ کے ذمہ تو صرف پہنچا دینا ہے۔ اور جب ہم انسان کو اپنی رحمت کا مزا چکھاتے ہیں تو وہ پھول جاتا ہے اور اگر انہیں کی بدعملیوں کے سبب کوئی تکلیف پہنچے تو اس وقت انسان ناشکرا (ہی ثابت ہوا) ہے۔لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ یَخْلُقُ مَا یَشَآءُ١ؕ یَهَبُ لِمَنْ یَّشَآءُ اِنَاثًا وَّ یَهَبُ لِمَنْ یَّشَآءُ الذُّكُوْرَۙ﴿49﴾
آسمانوں اور زمین کی بادشاہی اللہ ہی کے لئے ہے۔ وہ جو چاہے پیدا کرتا ہے جسے چاہے لڑکیاں عطا کرتا ہے اور جسے چاہے لڑکےاَوْ یُزَوِّجُهُمْ ذُكْرَانًا وَّ اِنَاثًا١ۚ وَ یَجْعَلُ مَنْ یَّشَآءُ عَقِیْمًا١ؕ اِنَّهٗ عَلِیْمٌ قَدِیْرٌ﴿50﴾
یا لڑکے اور لڑکیاں ملا کردیتا ہے اور جسے چاہے بانجھ بنا دیتا ہے۔ یقینا وہ سب کچھ جاننے والا قدرت والا ہےوَ مَا كَانَ لِبَشَرٍ اَنْ یُّكَلِّمَهُ اللّٰهُ اِلَّا وَحْیًا اَوْ مِنْ وَّرَآئِ حِجَابٍ اَوْ یُرْسِلَ رَسُوْلًا فَیُوْحِیَ بِاِذْنِهٖ مَا یَشَآءُ١ؕ اِنَّهٗ عَلِیٌّ حَكِیْمٌ﴿51﴾
کسی انسان کے لئے ممکن نہیں کہ اللہ اس سے روبرو بات چیت کرے۔ البتہ یہ وحی کی صورت میں یا پردے کے پیچھے سے ہوسکتی ہے یا وہ کوئی فرشتہ بھیجتا ہے اور وہ اللہ کے حکم سے جو کچھ اللہ چاہتا ہے وحی کرتا ہے وہ یقینا عالی شان اور حکمت والا ہے۔وَ كَذٰلِكَ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ رُوْحًا مِّنْ اَمْرِنَا١ؕ مَا كُنْتَ تَدْرِیْ مَا الْكِتٰبُ وَ لَا الْاِیْمَانُ وَ لٰكِنْ جَعَلْنٰهُ نُوْرًا نَّهْدِیْ بِهٖ مَنْ نَّشَآءُ مِنْ عِبَادِنَا١ؕ وَ اِنَّكَ لَتَهْدِیْۤ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍۙ﴿52﴾
اور اسی طرح ہم نے اپنے حکم سے ایک روح آپ کی طرف وحی کی۔ اس سے پہلے آپ یہ نہیں جانتے تھے کہ کتاب کیا چیز ہے اور ایمان کیا ہوتا ہے۔ لیکن ہم نے اس روح کو ایک روشنی بنادیا۔ ہم اپنے بندوں میں سے جسے چاہیں اس روشنی سے راہ دکھا دیتے ہیں اور بلاشبہ آپ سیدھی راہ کی طرف رہنمائی کررہے ہیں۔صِرَاطِ اللّٰهِ الَّذِیْ لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ اَلَاۤ اِلَى اللّٰهِ تَصِیْرُ الْاُمُوْرُ۠ع﴿53﴾
اس اللہ کی راہ کی طرف جو آسمانوں اور زمین میں موجود ہر چیز کا مالک ہے۔ یاد رکھو ! سارے معاملات اللہ ہی کی طرف لوٹتے ہیں۔