52. At-Turالطور
The Mount · Meccan · 49 ayahs · 2 rukus · مولانا عبد الرحمٰن کیلانی
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
وَ الطُّوْرِۙ﴿1﴾
کوہ طور کی قسموَ كِتٰبٍ مَّسْطُوْرٍۙ﴿2﴾
اور اس کتاب کیفِیْ رَقٍّ مَّنْشُوْرٍۙ﴿3﴾
جو کھلے ہوئے صفحات میں لکھی ہوئی ہے۔وَّ الْبَیْتِ الْمَعْمُوْرِۙ﴿4﴾
اور بیت المعمور کی قسموَ السَّقْفِ الْمَرْفُوْعِۙ﴿5﴾
اور اونچی چھت کیوَ الْبَحْرِ الْمَسْجُوْرِۙ﴿6﴾
اور جوش مارتے ہوئے سمندر کیاِنَّ عَذَابَ رَبِّكَ لَوَاقِعٌۙ﴿7﴾
کہ آپ کے پروردگار کا عذاب واقع ہو کے رہے گا۔مَّا لَهٗ مِنْ دَافِعٍۙ﴿8﴾
اسے کوئی روکنے والا نہیںیَّوْمَ تَمُوْرُ السَّمَآءُ مَوْرًاۙ﴿9﴾
جس دن آسمان تیزی سے لرزنے لگے گاوَّ تَسِیْرُ الْجِبَالُ سَیْرًاؕ﴿10﴾
اور پہاڑ تیزی سے اڑتے پھریں گےفَوَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِیْنَۙ﴿11﴾
اس دن جھٹلانے والوں کے لئے تباہی ہےالَّذِیْنَ هُمْ فِیْ خَوْضٍ یَّلْعَبُوْنَۘ﴿12﴾
جو کج بحثیوں میں پڑے کھیل رہے ہیںیَوْمَ یُدَعُّوْنَ اِلٰى نَارِ جَهَنَّمَ دَعًّاؕ﴿13﴾
جس دن انہیں دھکے مار مار کر آتش دوزخ کی طرف چلایا جائے گاهٰذِهِ النَّارُ الَّتِیْ كُنْتُمْ بِهَا تُكَذِّبُوْنَ﴿14﴾
(اور کہا جائے گا) یہ ہے وہ جہنم جسے تم جھٹلایا کرتے تھےاَفَسِحْرٌ هٰذَاۤ اَمْ اَنْتُمْ لَا تُبْصِرُوْنَۚ﴿15﴾
اب بتاؤ کیا یہ جادو ہے یا تمہیں کچھ نظر ہی نہیں آتا ؟اِصْلَوْهَا فَاصْبِرُوْۤا اَوْ لَا تَصْبِرُوْا١ۚ سَوَآءٌ عَلَیْكُمْ١ؕ اِنَّمَا تُجْزَوْنَ مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ﴿16﴾
اس میں داخل ہوجاؤ، اب تم صبر کرو یا نہ کرو، تمہارے لئے یکساں ہے تمہیں تو ویسا ہی بدلہ دیا جائے گا جیسے تم کام کرتے رہے۔اِنَّ الْمُتَّقِیْنَ فِیْ جَنّٰتٍ وَّ نَعِیْمٍۙ﴿17﴾
(البتہ) پرہیزگار باغوں اور نعمتوں میں ہوں گےفٰكِهِیْنَ بِمَاۤ اٰتٰىهُمْ رَبُّهُمْ١ۚ وَ وَقٰىهُمْ رَبُّهُمْ عَذَابَ الْجَحِیْمِ﴿18﴾
جو کچھ انہیں انکا پروردگار عطا کرے گا اس سے لطف اندوز ہوں گے اور ان کا پروردگار انہیں دوزخ کے عذاب سے بچا لے گاكُلُوْا وَ اشْرَبُوْا هَنِیْٓئًۢا بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَۙ﴿19﴾
(انہیں کہا جائے گا) مزے سے کھاؤ پؤ یہ ان اعمال کا بدلہ ہے جو تم کرتے رہے۔مُتَّكِئِیْنَ عَلٰى سُرُرٍ مَّصْفُوْفَةٍ١ۚ وَ زَوَّجْنٰهُمْ بِحُوْرٍ عِیْنٍ﴿20﴾
وہ قطار در قطار تختوں پر تکیہ لگائے ہوں گے اور ہم انہیں بڑی بڑی آنکھوں والی حوروں سے بیاہ دیں گےوَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ اتَّبَعَتْهُمْ ذُرِّیَّتُهُمْ بِاِیْمَانٍ اَلْحَقْنَا بِهِمْ ذُرِّیَّتَهُمْ وَ مَاۤ اَلَتْنٰهُمْ مِّنْ عَمَلِهِمْ مِّنْ شَیْءٍ١ؕ كُلُّ امْرِئٍۭ بِمَا كَسَبَ رَهِیْنٌ﴿21﴾
اور جو لوگ ایمان لائے اور ان کی اولاد نے ایمان لانے میں ان کی پیروی کی تو ہم ان کی اولاد کو بھی ان کے ساتھ ملا دیں گے اور ان کے اپنے عملوں سے کچھ بھی کم نہ کریں گے ہر شخص اپنے ہی عملوں کے عوض گروی ہے۔وَ اَمْدَدْنٰهُمْ بِفَاكِهَةٍ وَّ لَحْمٍ مِّمَّا یَشْتَهُوْنَ﴿22﴾
اور ہم انہیں پھل اور گوشت جو وہ چاہیں گے دیتے چلے جائیں گےیَتَنَازَعُوْنَ فِیْهَا كَاْسًا لَّا لَغْوٌ فِیْهَا وَ لَا تَاْثِیْمٌ﴿23﴾
وہاں وہ لپک لپک کر ایک دوسرے سے جام شراب لیں گے جس میں نہ یا وہ گوئی ہوگی اور نہ کوئی گناہ کا کاموَ یَطُوْفُ عَلَیْهِمْ غِلْمَانٌ لَّهُمْ كَاَنَّهُمْ لُؤْلُؤٌ مَّكْنُوْنٌ﴿24﴾
وہاں ان کی خدمت پر مامور لڑکے چکر لگاتے رہیں گے اور وہ خود ایسے خوبصورت ہوں گے جیسے چھپا کر رکھے ہوئے موتیوَ اَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلٰى بَعْضٍ یَّتَسَآءَلُوْنَ﴿25﴾
وہ ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر (گزشتہ حالات) پوچھیں گےقَالُوْۤا اِنَّا كُنَّا قَبْلُ فِیْۤ اَهْلِنَا مُشْفِقِیْنَ﴿26﴾
کہیں گے : اس سے پہلے ہم اپنے گھر والوں میں ڈرتے ڈرتے رہا کرتے تھے۔فَمَنَّ اللّٰهُ عَلَیْنَا وَ وَقٰىنَا عَذَابَ السَّمُوْمِ﴿27﴾
سو (آج) اللہ نے ہم پر احسان فرمایا اور ہمیں لو کے عذاب سے بچا لیا۔اِنَّا كُنَّا مِنْ قَبْلُ نَدْعُوْهُ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْبَرُّ الرَّحِیْمُ۠ع﴿28﴾
ہم اس سے پہلے (دنیا میں) اسی کو پکارا کرتے تھے۔ بلاشبہ وہ بڑا احسان کرنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔فَذَكِّرْ فَمَاۤ اَنْتَ بِنِعْمَتِ رَبِّكَ بِكَاهِنٍ وَّ لَا مَجْنُوْنٍؕ﴿29﴾
پس آپ نصیحت کرتے رہئے۔ اپنے رب کے فضل سے آپ کاہن یا مجنون نہیںاَمْ یَقُوْلُوْنَ شَاعِرٌ نَّتَرَبَّصُ بِهٖ رَیْبَ الْمَنُوْنِ﴿30﴾
ہیں یا وہ کہتے ہیں کہ : یہ شاعر ہے جس کے متعلق ہم گردش ایام کے منتظر ہیں۔قُلْ تَرَبَّصُوْا فَاِنِّیْ مَعَكُمْ مِّنَ الْمُتَرَبِّصِیْنَؕ﴿31﴾
آپ انہیں کہئے : تم بھی انتظار کرو ، میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرتا ہوںاَمْ تَاْمُرُهُمْ اَحْلَامُهُمْ بِهٰذَاۤ اَمْ هُمْ قَوْمٌ طَاغُوْنَۚ﴿32﴾
کیا ان کی عقلیں ہی انہیں ایسی باتیں کرنے کا حکم دیتی ہیں یا پھر یہ لوگ ہیں ہی سرکش۔اَمْ یَقُوْلُوْنَ تَقَوَّلَهٗ١ۚ بَلْ لَّا یُؤْمِنُوْنَۚ﴿33﴾
یا (پھر) یہ کہتے ہیں کہ اس نے اسے خود ہی بنا ڈالا ہے۔ (بات یہ نہیں) بلکہ یہ ایمان لائیں گے ہی نہیںفَلْیَاْتُوْا بِحَدِیْثٍ مِّثْلِهٖۤ اِنْ كَانُوْا صٰدِقِیْنَؕ﴿34﴾
اگر وہ (ان باتوں میں) سچے ہیں تو پھر اسی جیسا کوئی کلام بنا لائیںاَمْ خُلِقُوْا مِنْ غَیْرِ شَیْءٍ اَمْ هُمُ الْخٰلِقُوْنَؕ﴿35﴾
یا کیا وہ بغیر کسی چیز کے خود ہی پیدا ہوگئے ہیں یا یہ خود (اپنے) خالق ہیں۔اَمْ خَلَقُوا السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ١ۚ بَلْ لَّا یُوْقِنُوْنَؕ﴿36﴾
یا آسمانوں اور زمین کو انہوں نے پیدا کیا ہے ؟ اصل بات یہ ہے کہ وہ (اللہ کی قدرتوں پر) یقین ہی نہیں رکھتےاَمْ عِنْدَهُمْ خَزَآئِنُ رَبِّكَ اَمْ هُمُ الْمُصَۜیْطِرُوْنَؕ﴿37﴾
کیا ان کے پاس آپ کے پروردگار کی رحمت کے خزانے ہیں ؟ یا یہ ان (خزانوں) پر حکم چلانے والے ہیں ؟اَمْ لَهُمْ سُلَّمٌ یَّسْتَمِعُوْنَ فِیْهِ١ۚ فَلْیَاْتِ مُسْتَمِعُهُمْ بِسُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍؕ﴿38﴾
کیا ان کے پاس کوئی سیڑھی ہے جس پر چڑھ کر وہ (عالم بالا کی) باتیں سن آتے ہیں ؟ (اگر ایسی بات ہو) تو ان میں سے کوئی سننے والا صریح سند کے ساتھ وہ بات پیش کرےاَمْ لَهُ الْبَنٰتُ وَ لَكُمُ الْبَنُوْنَؕ﴿39﴾
کیا اس (اللہ) کے لئے تو بیٹیاں ہیں اور تمہارے لیے بیٹے ؟اَمْ تَسْئَلُهُمْ اَجْرًا فَهُمْ مِّنْ مَّغْرَمٍ مُّثْقَلُوْنَؕ﴿40﴾
یا آپ ان سے کوئی صلہ مانگتے ہیں جس کے تاوان سے یہ دبے جارہے ہیں ؟اَمْ عِنْدَهُمُ الْغَیْبُ فَهُمْ یَكْتُبُوْنَؕ﴿41﴾
یا ان کے پاس غیب کا علم ہے جسے وہ لکھتے جاتے ہیں ؟اَمْ یُرِیْدُوْنَ كَیْدًا١ؕ فَالَّذِیْنَ كَفَرُوْا هُمُ الْمَكِیْدُوْنَؕ﴿42﴾
یا یہ کوئی چال چلنا چاہتے ہیں ؟ حالانکہ یہ کافر خود ہی اس چال میں پھنسنے والے ہیںاَمْ لَهُمْ اِلٰهٌ غَیْرُ اللّٰهِ١ؕ سُبْحٰنَ اللّٰهِ عَمَّا یُشْرِكُوْنَ﴿43﴾
کیا اللہ کے سوا ان کا کوئی اور الٰہ ہے ؟ اللہ ان سب باتوں سے پاک ہے جن میں یہ اس کا شریک بناتے ہیںوَ اِنْ یَّرَوْا كِسْفًا مِّنَ السَّمَآءِ سَاقِطًا یَّقُوْلُوْا سَحَابٌ مَّرْكُوْمٌ﴿44﴾
اگر یہ لوگ آسمان سے سے کوئی گرتا ہوا ٹکڑا بھی دیکھ لیں تو کہہ دیں گے کہ یہ تہ بہ تہ بادل ہے۔فَذَرْهُمْ حَتّٰى یُلٰقُوْا یَوْمَهُمُ الَّذِیْ فِیْهِ یُصْعَقُوْنَۙ﴿45﴾
لہٰذا انہیں (ان کے حال پر) چھوڑیئے تاآنکہ اپنے اس دن کو جاملیں جس میں یہ بےہوش ہو کر گرپڑیں گےیَوْمَ لَا یُغْنِیْ عَنْهُمْ كَیْدُهُمْ شَیْئًا وَّ لَا هُمْ یُنْصَرُوْنَؕ﴿46﴾
جس دن ان کی کوئی چال ان کے کسی کام نہ آئے گی نہ ہی انہیں کہیں سے مدد مل سکے گی۔وَ اِنَّ لِلَّذِیْنَ ظَلَمُوْا عَذَابًا دُوْنَ ذٰلِكَ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ﴿47﴾
بلاشبہ ظالموں کے لئے اس اخروی عذاب کے علاوہ (دنیا میں بھی) عذاب ہے۔ لیکن اکثر لوگ جانتے نہیں۔وَ اصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ فَاِنَّكَ بِاَعْیُنِنَا وَ سَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ حِیْنَ تَقُوْمُۙ﴿48﴾
(اے نبی ﷺ آپ اپنے پروردگار کا حکم آنے تک صبر کیجئے۔ بلاشبہ آپ ہماری آنکھوں کے سامنے ہیں اور جب آپ اٹھا کریں تو اپنے پروردگار کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کیجئے۔وَ مِنَ الَّیْلِ فَسَبِّحْهُ وَ اِدْبَارَ النُّجُوْمِ۠ع﴿49﴾
اور رات کو بھی اس کی تسبیح کیجئے اور ستاروں کے غروب ہونے کے بعد بھی۔