66. At-Tahrimالتحريم

The Prohibition · Medinan · 12 ayahs · 2 rukus · مولانا عبد الرحمٰن کیلانی

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

  1. یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَاۤ اَحَلَّ اللّٰهُ لَكَ١ۚ تَبْتَغِیْ مَرْضَاتَ اَزْوَاجِكَ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ﴿1﴾

    اے نبی ! جس چیز کو اللہ نے آپ کے لئے حلال کیا ہے۔ اسے آپ کیوں حرام کرتے ہیں ؟ (کیا) آپ اپنی بیویوں کی خوشی چاہتے ہیں اور اللہ بخشنے والا رحم کرنے والا ہے۔
  2. قَدْ فَرَضَ اللّٰهُ لَكُمْ تَحِلَّةَ اَیْمَانِكُمْ١ۚ وَ اللّٰهُ مَوْلٰىكُمْ١ۚ وَ هُوَ الْعَلِیْمُ الْحَكِیْمُ﴿2﴾

    اللہ نے تمہارے لیے (ناجائز) قسموں کو کھول دینا واجب قرار دیا ہے۔ اللہ ہی تمہارا سرپرست ہے اور وہ سب کچھ جاننے والا حکمت والا ہے۔
  3. وَ اِذْ اَسَرَّ النَّبِیُّ اِلٰى بَعْضِ اَزْوَاجِهٖ حَدِیْثًا١ۚ فَلَمَّا نَبَّاَتْ بِهٖ وَ اَظْهَرَهُ اللّٰهُ عَلَیْهِ عَرَّفَ بَعْضَهٗ وَ اَعْرَضَ عَنْۢ بَعْضٍ١ۚ فَلَمَّا نَبَّاَهَا بِهٖ قَالَتْ مَنْ اَنْۢبَاَكَ هٰذَا١ؕ قَالَ نَبَّاَنِیَ الْعَلِیْمُ الْخَبِیْرُ﴿3﴾

    جب نبی نے اپنی کسی بیوی سے ایک راز کی بات کہی۔ اس بیوی نے وہ بات (آگے) بتادی اور یہ معاملہ اللہ تعالیٰ نے نبی پر ظاہر کردیا اب نبی نے (اس بیوی کو) کچھ بات تو جتلا دی اور کچھ نہ جتلائی۔ پھر جب نبی نے اسے (افشائے راز کی) یہ بات بتائی تو وہ پوچھنے لگی کہ : آپ کو اس کی کس نے خبر دی ؟ تو نبی نے کہا : مجھے اس نے خبر دی جو ہر بات کو جانتا اور اس سے پوری طرح باخبر ہے
  4. اِنْ تَتُوْبَاۤ اِلَى اللّٰهِ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوْبُكُمَا١ۚ وَ اِنْ تَظٰهَرَا عَلَیْهِ فَاِنَّ اللّٰهَ هُوَ مَوْلٰىهُ وَ جِبْرِیْلُ وَ صَالِحُ الْمُؤْمِنِیْنَ١ۚ وَ الْمَلٰٓئِكَةُ بَعْدَ ذٰلِكَ ظَهِیْرٌ﴿4﴾

    اگر تم دونوں (بیویاں) اللہ کے حضور توبہ کرتی ہو (تو بہتر ہے کیونکہ) تمہارے دل راہ راست سے ہٹ گئے ہیں اور اگر تم (اس معاملہ میں) نبی کے خلاف ایک دوسرے کی پشت پناہی کرو گی تو اللہ جبریل اور صالح مومن (سب نبی کے) مددگار ہیں اور ان کے علاوہ فرشتے بھی اس کے مددگار ہیں
  5. عَسٰى رَبُّهٗۤ اِنْ طَلَّقَكُنَّ اَنْ یُّبْدِلَهٗۤ اَزْوَاجًا خَیْرًا مِّنْكُنَّ مُسْلِمٰتٍ مُّؤْمِنٰتٍ قٰنِتٰتٍ تٰٓئِبٰتٍ عٰبِدٰتٍ سٰٓئِحٰتٍ ثَیِّبٰتٍ وَّ اَبْكَارًا﴿5﴾

    کچھ بعید نہیں کہ اگر نبی تمہیں طلاق دے دے تو اس کا پروردگار اسے تم سے بہتر بیویاں بدل دے جو مسلمان، مومن، اطاعت گزار ، توبہ کرنے والی، عبادت گزار اور روزہ دار ہوں، خواہ وہ شوہر دیدہ ہو یا کنواریاں ہوں
  6. یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قُوْۤا اَنْفُسَكُمْ وَ اَهْلِیْكُمْ نَارًا وَّ قُوْدُهَا النَّاسُ وَ الْحِجَارَةُ عَلَیْهَا مَلٰٓئِكَةٌ غِلَاظٌ شِدَادٌ لَّا یَعْصُوْنَ اللّٰهَ مَاۤ اَمَرَهُمْ وَ یَفْعَلُوْنَ مَا یُؤْمَرُوْنَ﴿6﴾

    اے ایمان والو ! اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو اس آگ سے بچاؤ جس کا ایندھن آدمی اور پتھر ہیں۔ اس پر تند خو اور سخت گیر فرشتے مقرر ہیں۔ اللہ انہیں جو حکم دے وہ اس کی نافرمانی نہیں کرتے اور وہی کچھ کرتے ہیں جو انہیں حکم دیا جاتا ہے۔
  7. یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَا تَعْتَذِرُوا الْیَوْمَ١ؕ اِنَّمَا تُجْزَوْنَ مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ۠ع﴿7﴾

    (اس دن اللہ کافروں سے فرمائے گا) اے کافرو ! آج بہانے مت بناؤ۔ تمہیں ویسا ہی بدلہ دیا جائے گا جیسے تم عمل کرتے رہے۔
  8. یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا تُوْبُوْۤا اِلَى اللّٰهِ تَوْبَةً نَّصُوْحًا١ؕ عَسٰى رَبُّكُمْ اَنْ یُّكَفِّرَ عَنْكُمْ سَیِّاٰتِكُمْ وَ یُدْخِلَكُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ۙ یَوْمَ لَا یُخْزِی اللّٰهُ النَّبِیَّ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ١ۚ نُوْرُهُمْ یَسْعٰى بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَ بِاَیْمَانِهِمْ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَاۤ اَتْمِمْ لَنَا نُوْرَنَا وَ اغْفِرْ لَنَا١ۚ اِنَّكَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ﴿8﴾

    اے ایمان والو ! اللہ کے حضور خالص توبہ کرو کچھ بعید نہیں کہ تمہارا پروردگار تم سے تمہاری برائیاں دور کردے اور تمہیں ایسی جنتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہیں۔ اس دن اللہ اپنے نبی کو اور ان لوگوں کو جو اس کے ساتھ ایمان لائے ہیں رسوا نہیں کرے گا۔ ان کا نور ان کے آگے آگے اور دائیں جانب دوڑ رہا ہوگا (اور) وہ کہہ رہے ہوں گے : اے ہمارے پروردگار ! ہمارے لیے ہمارا نور پورا کردے اور ہمیں بخش دے یقینا تو ہر چیز پر قادر ہے
  9. یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ جَاهِدِ الْكُفَّارَ وَ الْمُنٰفِقِیْنَ وَ اغْلُظْ عَلَیْهِمْ١ؕ وَ مَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ١ؕ وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ﴿9﴾

    اے نبی ! کافروں اور منافقوں سے جہاد کرو اور ان پر سختی کرو۔ ان کی پناہ گاہ جہنم ہے جو بہت برا ٹھکانا ہے
  10. ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا لِّلَّذِیْنَ كَفَرُوا امْرَاَتَ نُوْحٍ وَّ امْرَاَتَ لُوْطٍ١ؕ كَانَتَا تَحْتَ عَبْدَیْنِ مِنْ عِبَادِنَا صَالِحَیْنِ فَخَانَتٰهُمَا فَلَمْ یُغْنِیَا عَنْهُمَا مِنَ اللّٰهِ شَیْئًا وَّ قِیْلَ ادْخُلَا النَّارَ مَعَ الدّٰخِلِیْنَ﴿10﴾

    اللہ کافروں کے لئے نوح اور لوط کی بیویوں کو بطور مثال بیان کرتا ہے۔ وہ دونوں ہمارے بندوں میں سے صالح بندوں کے نکاح میں تھیں مگر انہوں نے اپنے شوہروں سے خیانت کی تو وہ اللہ کے مقابلہ میں اپنی بیویوں کے کچھ بھی کام نہ آسکے۔ اور ان سے کہہ دیا گیا کہ : جہنم میں داخل ہونے والوں کے ساتھ تم بھی اس میں داخل ہوجاؤ۔
  11. وَ ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوا امْرَاَتَ فِرْعَوْنَ١ۘ اِذْ قَالَتْ رَبِّ ابْنِ لِیْ عِنْدَكَ بَیْتًا فِی الْجَنَّةِ وَ نَجِّنِیْ مِنْ فِرْعَوْنَ وَ عَمَلِهٖ وَ نَجِّنِیْ مِنَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَۙ﴿11﴾

    نیز اللہ تعالیٰ ایمان والوں کے لئے فرعون کی بیوی کی مثال پیش کرتا ہے جب اس نے دعا کی کہ : اے میرے پروردگار ! میرے لیے اپنے پاس جنت میں ایک گھر بنادے اور مجھے فرعون اور اس کے عمل سے نجات دے اور ان ظالموں سے بھی نجات دے۔
  12. وَ مَرْیَمَ ابْنَتَ عِمْرٰنَ الَّتِیْۤ اَحْصَنَتْ فَرْجَهَا فَنَفَخْنَا فِیْهِ مِنْ رُّوْحِنَا وَ صَدَّقَتْ بِكَلِمٰتِ رَبِّهَا وَ كُتُبِهٖ وَ كَانَتْ مِنَ الْقٰنِتِیْنَ۠ع﴿12﴾

    اور مریم بنت عمران کی (بھی مثال پیش کرتا ہے) جس نے اپنی عصمت کی حفاظت کی تھی۔ پھر ہم نے اس کے اندر اپنی ایک روح پھونک دی اور اس نے اپنے پروردگار کے کلموں کی اور اس کی کتابوں کی تصدیق کی اور وہ عبادت میں ہمہ تن مصروف رہنے والوں سے تھی۔