73. Al-Muzzammilالمزمل
The Enshrouded One · Meccan · 20 ayahs · 2 rukus · مولانا عبد الرحمٰن کیلانی
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
یٰۤاَیُّهَا الْمُزَّمِّلُۙ﴿1﴾
(اے محمد ﷺ !) جو کپڑا اوڑھے ہوئے (سونے لگے) ہوقُمِ الَّیْلَ اِلَّا قَلِیْلًاۙ﴿2﴾
رات کا تھوڑا حصہ چھوڑ کر باقی رات (نماز میں) کھڑے رہا کیجئےنِّصْفَهٗۤ اَوِ انْقُصْ مِنْهُ قَلِیْلًاۙ﴿3﴾
رات کا نصف حصہ یا اس سے کچھ کم کرلیجئےاَوْ زِدْ عَلَیْهِ وَ رَتِّلِ الْقُرْاٰنَ تَرْتِیْلًاؕ﴿4﴾
یا اس سے زیادہ کیجئے اور قرآن کو خوب ٹھہر ٹھہر کر پڑھا کیجیےاِنَّا سَنُلْقِیْ عَلَیْكَ قَوْلًا ثَقِیْلًا﴿5﴾
بلاشبہ ہم آپ پر ایک بھاری کلام نازل کرنے والے ہیںاِنَّ نَاشِئَةَ الَّیْلِ هِیَ اَشَدُّ وَطْاً وَّ اَقْوَمُ قِیْلًاؕ﴿6﴾
رات کا اٹھنا یقینا (نفس کو) بہت زیر کرنے والا ہے اور قرآن پڑھنے کے لیے زیادہ موزوں وقت ہے۔اِنَّ لَكَ فِی النَّهَارِ سَبْحًا طَوِیْلًاؕ﴿7﴾
دن کے وقت تو آپ کو لمبی چوڑی مصروفیات ہوتی ہیں۔وَ اذْكُرِ اسْمَ رَبِّكَ وَ تَبَتَّلْ اِلَیْهِ تَبْتِیْلًاؕ﴿8﴾
(لہٰذا رات کو) اپنے پروردگار کے نام کا ذکر کیا کیجیے اور ہر طرف سے توجہ ہٹا کر اسی کی طرف متوجہ ہوجائیے۔رَبُّ الْمَشْرِقِ وَ الْمَغْرِبِ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ فَاتَّخِذْهُ وَكِیْلًا﴿9﴾
وہ مشرق و مغرب کا مالک ہے، اس کے سوا کوئی الٰہ نہیں لہذا اسے ہی اپنا کارساز بنا لیجیے۔وَ اصْبِرْ عَلٰى مَا یَقُوْلُوْنَ وَ اهْجُرْهُمْ هَجْرًا جَمِیْلًا﴿10﴾
اور جو کچھ (کافر) کہتے ہیں اس پر صبر کیجیے اور شریفانہ طریقے سے ان سے الگ ہوجائیے۔وَ ذَرْنِیْ وَ الْمُكَذِّبِیْنَ اُولِی النَّعْمَةِ وَ مَهِّلْهُمْ قَلِیْلًا﴿11﴾
ور جھٹلانے والے کھاتے پیتے لوگوں کا معاملہ مجھ پر چھوڑ دیجیے اور تھوڑی مدت انہیں اسی حال میں رہنے دیجئےاِنَّ لَدَیْنَاۤ اَنْكَالًا وَّ جَحِیْمًاۙ﴿12﴾
ہمارے پاس (ان لوگوں کے لیے) بیڑیاں بھی ہیں اور دوزخ بھیوَّ طَعَامًا ذَا غُصَّةٍ وَّ عَذَابًا اَلِیْمًاۗ﴿13﴾
اور گلے میں پھنس جانے والا کھانا اور دردناک عذاب بھی ہے۔یَوْمَ تَرْجُفُ الْاَرْضُ وَ الْجِبَالُ وَ كَانَتِ الْجِبَالُ كَثِیْبًا مَّهِیْلًا﴿14﴾
جس دن زمین اور پہاڑ لرزنے لگیں گے اور پہاڑ بھربھری ریت کے پھسلتے ہوئے تودے بن جائیں گےاِنَّاۤ اَرْسَلْنَاۤ اِلَیْكُمْ رَسُوْلًا١ۙ۬ شَاهِدًا عَلَیْكُمْ كَمَاۤ اَرْسَلْنَاۤ اِلٰى فِرْعَوْنَ رَسُوْلًاؕ﴿15﴾
بلاشبہ ہم نے تمہارے پاس ایک رسول تم پر گواہ بناکر بھیجا ہے۔ جیسے ہم نے فرعون کے پاس ایک رسول بھیجا تھافَعَصٰى فِرْعَوْنُ الرَّسُوْلَ فَاَخَذْنٰهُ اَخْذًا وَّبِیْلًا﴿16﴾
پھر فرعون نے رسول کی بات نہ مانی تو ہم نے اسے بڑی سختی کے ساتھ پکڑ لیافَكَیْفَ تَتَّقُوْنَ اِنْ كَفَرْتُمْ یَوْمًا یَّجْعَلُ الْوِلْدَانَ شِیْبَاۗۖ﴿17﴾
اب اگر تم نے (اس رسول کا) انکار کردیا تو اس دن (کی سختی) سے کیسے بچو گے جو بچوں کو بوڑھا بنادے گااِ۟لسَّمَآءُ مُنْفَطِرٌۢ بِهٖ١ؕ كَانَ وَعْدُهٗ مَفْعُوْلًا﴿18﴾
جس (کی سختی) سے آسمان پھٹ جائے گا یہ اللہ کا وعدہ ہے جو پورا ہو کے رہے گا۔اِنَّ هٰذِهٖ تَذْكِرَةٌ١ۚ فَمَنْ شَآءَ اتَّخَذَ اِلٰى رَبِّهٖ سَبِیْلًا۠ع﴿19﴾
یہ (قرآن) یقینا ایک نصیحت ہے اب جو چاہے وہ اپنے پروردگار کی طرف (جانے والی) راہ اختیار کرلے۔اِنَّ رَبَّكَ یَعْلَمُ اَنَّكَ تَقُوْمُ اَدْنٰى مِنْ ثُلُثَیِ الَّیْلِ وَ نِصْفَهٗ وَ ثُلُثَهٗ وَ طَآئِفَةٌ مِّنَ الَّذِیْنَ مَعَكَ١ؕ وَ اللّٰهُ یُقَدِّرُ الَّیْلَ وَ النَّهَارَ١ؕ عَلِمَ اَنْ لَّنْ تُحْصُوْهُ فَتَابَ عَلَیْكُمْ فَاقْرَءُوْا مَا تَیَسَّرَ مِنَ الْقُرْاٰنِ١ؕ عَلِمَ اَنْ سَیَكُوْنُ مِنْكُمْ مَّرْضٰى١ۙ وَ اٰخَرُوْنَ یَضْرِبُوْنَ فِی الْاَرْضِ یَبْتَغُوْنَ مِنْ فَضْلِ اللّٰهِ١ۙ وَ اٰخَرُوْنَ یُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ۖ٘ فَاقْرَءُوْا مَا تَیَسَّرَ مِنْهُ١ۙ وَ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ وَ اَقْرِضُوا اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا١ؕ وَ مَا تُقَدِّمُوْا لِاَنْفُسِكُمْ مِّنْ خَیْرٍ تَجِدُوْهُ عِنْدَ اللّٰهِ هُوَ خَیْرًا وَّ اَعْظَمَ اَجْرًا١ؕ وَ اسْتَغْفِرُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۠ع﴿20﴾
آپ کا پروردگار یقینا جانتا ہے کہ آپ قریباً دو تہائی رات اور (کبھی) نصف رات اور (کبھی) ایک تہائی رات (نماز میں) کھڑے ہوتے ہیں اور آپ کے ساتھیوں میں سے بھی ایک گروہ (کھڑا ہوتا ہے) اور رات، دن کو تو اللہ ہی کم و بیش کرتا ہے۔ اسے معلوم ہے کہ تم اوقات کا صحیح شمار نہ کرسکو گے لہذا اس نے تم پر مہربانی فرما دی۔ لہذا اب جتنا قرآن آسانی سے پڑھ سکو۔ پڑھ لیا کرو۔ اسے معلوم ہے کہ تم میں سے کچھ بیمار ہوں گے، کچھ دوسرے اللہ کے فضل کی تلاش میں سفر کرتے ہیں اور کچھ دوسرے اللہ کی راہ میں جہاد کرتے ہیں، لہذا جتنا قرآن آسانی سے پڑھ سکو پڑھ لیا کرو۔ اور نماز قائم کرو اور زکوٰۃ ادا کیا کرو اور اللہ کو اچھا قرض دیتے رہو، اور جو بھی بھلائی تم اپنے لیے آگے بھیجو گے تو اسے اللہ کے ہاں اس حال میں موجود پاؤ گے کہ وہ (اصل عمل سے) بہتر اور اجر کے لحاظ سے بہت زیادہ ہوگی۔ اور اللہ سے معافی مانگتے رہو، اللہ یقینا بخشنے والا ہے، رحم کرنے والا ہے۔