دیباچہ

دیباچہ

یہ مختصر رسالہ خصوصیت کے ساتھ نوجوانوں کےلیے لکھا گیا ہے جو ہائی اسکولوں کی آخری جماعتوں یا کالج کی ابتدائی منزلوں میں تعلیم پاتے ہوں۔ ان کے علاوہ عام ناظرین بھی اس سے فائدہ اٹھاسکتے ہیں۔ اس کے پہلے ایڈیشن کو جو 1937ء میں شائع ہوا۔ ہندوستان کے بہت سے مدرسوں نے، اور قیام پاکستان کے بعد پاکستان کے بھی بہت سے اسکولوں نے اپنی اونچی جماعتوں میں شریک نصاب کرلیا۔ چھبیس سال میں یہ اب تیئیسویں بار شائع ہورہا ہے اور دنیا کی پانچ بینالاقوامی زبانوں میں ایک لاکھ سے زائد چھپ چکا ہے۔ ہمارے ہاں دینیات کی پوری تعلیم کا عام انداز اب تک یہ رہا ہے کہ طلبہ کو زیادہ تر فقہی مسائل پڑھائے جاتے ہیں جن میں نماز، روزہ ، طہارت اور اسی نوعیت کی دوسری چیزوں کی تفصیلات ہوتی ہیں۔عقائد کی تعلیم نسبتاً کم ہوتی ہے۔ اور وہ بھی نتیجہ خیز نہیں ہوتی۔ طالب علم کو آخر وقت تک یہ معلوم نہیں ہوتا کہ اسلام کیا ہے، کیا چاہتاہے اور کیوں چاہتا ہے، اس کے عقائد کا انسان کی زندگی سے کیاتعلق ہے، وہ اگر تسلیم کیے جائیں تو ان کا فائدہ کیا ہے اور نہ تسلیم کئے جائیں تو نقصان کیا ہے۔اسلام محض تحکم کو طور پر ان عقائد کو منوالینا چاہتا ہے یااس کے پاس ان کی صحت و صداقت کے لیے کوئی دلیل بھی ہے۔ یہ تمام امور دین کی سمجھ اور اعتقاد کی درستی کے لیے نہایت ضروری ہیں۔ جب تک یہ ذہن نشین نہ ہوں فقہی مسائل کی تعلیم کوئی فائدہ نہیں دے سکتی۔ کیونکہ ایمان کے بغیر احکام کی اطاعت ممکن نہیں اور ایمان صرف عقائد ہی کے ٹھیک ٹھیک سمجھنے سے مستحکم ہوسکتا ہے۔ اسی طرح نماز، روزہ کے متعلق احکام بتانے سے زیادہ ضروری یہ ہے کہ طالب علم کو عبادات اور احکام شریعت کی حکمتیں سمجھائی جائیں تاکہ وہ دل سے ان احکام کی پیروی پر آمادہ ہو۔نماز کی ترکیب ظاہر ہے کہ اسی شخص کے لیے مفید ہوکتی ہے جو نماز پڑھنا چاہتا ہو۔ ورنہ جو سرے سے نماز ہی پڑھنے کےلیے تیار نہ ہو تو اسے یہ بتانے سے کیاحاصل کہ نماز کس طرح پڑھنی چاہیے۔ لہذا احکام نماز بیان کرنے سے پہلے طالب علم کو یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ نماز درصل ہے کیا چیز؟ یہ تم پر کیوں فرض کی گئی ہے؟ اس کا فائدہ کیا ہے؟ اور اسے ضائع‏ کردینے سے تمہیں کیا نقصان پہنچے گا اسی پر دوسرے احکام کو بھی قیاس کرلیجیے کہ ان سب کو پہلے دل میں اتارنا ضروری ہے۔ بھر کہیں ان کی تفصیلات بیان کرنا مفید ہوسکتا ہے۔ میں نے یہ رسالہ اسی ضرورت کو مدنظر رکھ کر مرتب کیا ہے۔ ام میں دینی تعلمی کا ایک نیا طریقہ اختیار کرنے کی کوشش کی گئی ہے جو پرانے طریقے سے بہت کچھ مختلف ہے اور خصوصاً موجودہ زمانے کے لحاظ سے مفید تر ہے۔ میں نےاس میں قرآن مجید کی تعلیمات کا خلاصہ پیش کیا ہے اور قرآن مجید ہی کے طرز استدلال کی پیروی کی ہے۔ خدا کرے یہ کوشش جس غرض کے لیے کی گئی ہے وہ پوری ہو اور یہ رسالہ تعلیم دینی کے ایک نئے طرز کا دروازہ کھول دے جو نسبتاً زیادہ نتیجہ خیز ہو۔ ابولاعلی مودودی اپریل 1960ء