ایمان مفصل

لاالہ الا اللہ کی حقیقت

انسان کی قدیم سے قدیم تاریخ کے جو حالات ہم تک پہنچے ہیں، اور پرانی سے پرانی قوموں کے جو آثار دیکھے گئے ہیں، ان سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان نے ہر زمانے میں کسی نہ کسی کو خدا مانا ہے اور کسی نہ کسی کی عبادت ضرور کی ہے۔اب بھی دنیا میں جتنی قومیں ہیں، خواہ وہ نہایت وحشی ہوں یا نہایت مہذب، ان سب میں یہ بات موجود ہے کہ وہ کسی کو خدا مانتی ہیں اور اس کی عبادت کرتی ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ انسان کی فطرت میں خدا کا خیال بیٹھا ہوا ہے، اس کے اندر کوئی ایسی چیز ہے جو اسے مجبور کرتی ہے کہ کسی کو خدا مانے اور اس کی عبادت کرے۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ وہ کیا چیز ہے؟ تم خود اپنی ہستی پر اور تمام انسانوں کی حالت پر نظر ڈال کر اس سوال کا جواب معلوم کرسکتے ہو۔ انسان دراصل بندہ ہی پیدا ہوا ہے۔ وہ فطرتاً محتاج ہے، کمزور ہے، فقیر ہے۔ بے شمار چیزیں جو اس کی ہستی کو برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہیں، مگر اس کے قبضۂ قدرت میں نہیں ہیں، آپ سے آپ اس کو حاصل بھی ہوتی ہیں اور اس سے چھن بھی جاتی ہیں۔ بہت سی چیزیں ہیں جو اس کے لیے فائدہ مند ہیں، وہ ان کوحاصل کرنا چاہتا ہے، مگر کبھی وہ اس کو مل جاتی ہیں اور کبھی نہیں ملتیں۔ کیونکہ ان کو حاصل کرنا بالکل اس کے اختیار میں نہیں ہے۔ بہت سی چیزیں ہیں جو اس کو نقصان پہنچاتی ہیں۔ اس کی عمر بھر کی محنتوں کو آن کی آن میں برباد کردیتی ہیں، اس کی آرزوؤں کو خاک میں ملادیتی ہیں۔ اس کو بیماری اور ہلاکت میں مبتلا کردیتی ہیں وہ ان کو دفع کرنا چاہتا ہے، کبھی وہ دفع ہوجاتی ہیں اور کبھی نہیں ہوتیں۔ اس سے وہ جان لیتا کہ ان کا آنا اور نہ آنا، دفع ہونا یا نہ ہونا اس کے اختیار سے باہر ہے۔ بہت سی چیزیں ہیں جن کی شان و شوکت اور بزرگی کو دیکھ کر وہ مرعوب ہوجاتا ہے۔ پہاڑوں کو دیکھتا ہے، دریاؤں کو دیکھتا ہے، بڑے بڑے ہولناک جانور دیکھتا ہے۔ ہواؤں کے طوفان اور پانی کے سیلاب اور زمین کے زلزلے دیکھتا ہے۔ بادلوں کی گرچ اور گھٹاؤں کی سیاہی اور بجلی کی کڑک، چمک اور موسلادھار بارش کے مناظر اس کے سامنے آتے ہیں۔ سورج، اور چاند اور تارے اس کو گردش کرنے دکھائی دیتے ہیں۔ وہ دیکھتا ہے کہ سب چیزیں کتنی بڑی کتنی طاقتور، کتنی شاندار ہیں اور ان کے مقابلہ میں وہ خود کتنا ضعیف اور حقیر ہے۔ یہ مختلف نظارے اور خود اپنی مجبوریوں کے مختلف حالات دیکھ کر اس کے دل میں آپ سے آپ اپنی بندگی ، محتاجی اور کمزوری کا احساس پیدا ہوجاتا ہے۔ اور جب یہ احساس پیدا ہوتا ہے تو اس کے ساتھ ہی خودبخود الوہیت یعنی خدا کا تصور بھی پیدا ہوجاتا ہے۔ وہ ان کے ہاتھوں کا خیال کرتا ہے جو اتنی بڑی طاقتوں کے مالک ہیں۔ ان کی بزرگی کا احساس اسے مجبور کرتا ہے کہ وہ ان کی عبادت میں سرجھکادے۔ ان کی قوت کا احساس اسے مجبور کرتا ہے کہ وہ ان کے آگے اپنی عاجزی پیش کرے۔ ان کو نفع پہنچانے والی قوتوں کا احساس اسے مجبور کرتا ہے کہ وہ ان کے آگے اپنی مشکل کشائی کے لیے ہاتھ پھیلائے اور ان کی نقصان پہنچانے والی طاقتوں کا احساس اسے مجبور کرتا ہے کہ وہ ان سے خوف کرے اور ان کے غضب سے بچے۔ جہالت کے سب سے نیچے درجہ میں انسان یہ سمجھتا ہے کہ جو چیزیں اس کو شان اور طاقت والی نظر آتی ہیں، یا کسی طرح نفع یا نقصان پہنچاتی ہوئی محسوس ہوتی ہیں۔ یہی خدا ہیں ۔ چنانچہ وہ جانوروں اور دریاؤں اور پہاڑوں کو پوجتا ہے، زمین کی پرستش کرتا ہے، آگ اور بارش اور ہوا، چاند اور سورج کی عبادت کرنے لگتا ہے۔ یہ جہالت جب ذرا کم ہوتی ہے اور کچھ علم کی روشنی آتی ہے تو اسے معلوم ہوتا ہے کہ یہ سب چیزیں تو خود اسی کی طرح محتاج اور کمزور ہیں۔ بڑے سے بڑا جانور بھی ایک ادنی مچھر کی طرح مرتا ہے، بڑے بڑے دریا خشک ہوجاتے ہیں اور چڑھتے اترتے رہتے ہیں، پہاڑوں کو خود انسان توڑتا پھوڑتا ہے، زمین کا پھلنا پھولنا خود زمیں کے اپنے اختیار میں نہیں۔ جب پانی اس کا ساتھ نہیں دیتا تو وہ خشک ہوجاتی ہے۔ پانی بھی بے اختیار ہے، اس کی آمد ہوا کی محتاج ہے۔ ہوا بھی اپنے اختیار میں نہیں، اس کا مفید یا یا غیر مفید ہونا دوسرے اسباب کے تحت ہے۔ چاند اور سورج اور تارے بھی کسی قانون کے تابع ہیں۔ اس قانون کے خلاف وہ کبھی ادنٰی جنبش بھی نہیں کرسکتے۔اب اس کا ذہن مخفی اور پراسرار قوتوں کی طرف منتقل ہوتا ہے۔ وہ خیال کرتا ہے کہ ان ظاہری چیزوں کی پشت پر کچھ پوشیدہ قوتیں ہیں جو ان پر حکومت کررہی ہیں اور سب کچھ انہی کے اختیار میں ہے۔ یہیں سے خداؤں اور دیوتاؤں کا عقیدہ پیدا ہوتا ہے۔ روشنی اور ہوا اور پانی اور بیماری و تندرستی اور مختلف دوسری چیزوں کے خدا الگ الگ مان لیے جاتے ہیں اور ان کی خیالی صورتیں بنا کر ان کی عبادتیں کی جاتی ہیں۔ اس کے بعد جب اور زیادہ علم کی روشنی آتی ہے تو انسان دیکھتا ہے کہ دنیا کے انتظام میں ایک زبردست قانون اور ایک بڑے ضابطہ کی پابندی پائی جاتی ہے۔ ہواؤں کی رفتار، بارش کی آمد، سیاروں کی گردش، فصلوں، موسموں کے تغیر میں کیسی باقاعدگی ہے؟ کس طرح بے شمار قوتیں ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کام کررہی ہیں؟ کیسا زبردست قانون ہے کہ جو وقت جس کا م کے مقرر کردیا گیا ہے، ٹھیک اسی وقت پر کائنات کے تمام اسباب جمع ہوجاتے ہیں اور ایک دوسرے سے اشتراک عمل کرتے ہیں۔ انتظامِ عالم کی یہ ہم آہنگی دیکھ کر مشرک انسان یہ ماننے پر مجبور ہوجاتا ہے کہ ایک سب سے بڑا خدا بھی ہے جو ان تمام چھوٹے چھوٹے خداؤں پر حکومت کررہا ہے، ورنہ اگر سب ایک دوسرےسے الگ اور بالکل خود مختار ہوں تو دنیا کا سارے کا سارا کارخانہ درہم برہم ہوجائے۔ وہ اس بڑے خدا کو “اللہ” اور “پرمیشور”، “خدائے خدائگاں” وغیرہ ناموں سے موسوم کرتا ہے۔ مگر عبادت میں اس کے ساتھ چھوٹے خداؤں کو بھی شریک رکھتا ہے۔وہ سمجھتا ہے کہ خدائی بھی دنیوی بادشاہی کے نمونہ پر ہے جس طرح دنیا میں ایک بادشاہ ہوتا ہے اور اس کے بہت سے وزیر اور معتمد اور ناظم اور دوسرے بااختیار عہدہ دار ہوتے ہیں۔ اسی طرح کائنات میں بھی ایک بڑا خدا ہے اور بہت سے چھوٹے چھوٹے خدا اس کے ماتحت ہوتے ہیں۔جب تک چھوٹے خداؤں کو خوش نہ کیا جائے گا بڑے خدا تک رسائی نہ ہوسکے گی۔ اس لیے ان کی عبادت بھی کرو، اس کے آگے بھی ہاتھ پھیلاؤ، ان کی ناراضی سے بھی ڈرو، ان کے بڑے خدا تک پہنچنے کا ذریعہ بناؤ اور نذروں اور نیازوں سے انھیں خوش رکھو۔ پھر جب علم میں اور ترقی ہوتی ہے تو خداؤں کی تعداد گھٹنے لگتی ہے۔ جتنے خیالی خدا جاہلوں نے بنارکھے ہیں ان میں سے ایک ایک کے متعلق غور کرنے سے انسان کو معلوم ہوتا چلا جاتا ہے کہ وہ خدا نہیں ہیں، ہماری طرح کے ہی بندے ہیں بلکہ ہم سے بھی زیادہ بے بس ہیں۔ اس طرح وہ ان کو چھوڑ تا چلا جاتا ہے یہاں تک کہ آخر صرف ایک خدا رہ جاتا ہے،یہاں تک کہ آخر میں صرف ایک خدا رہ جاتا ہے، مگر اس ایک کے متعلق پھر بھی اس کے خیالات میں بہت کچھ جہالت باقی رہ جاتی ہے۔ کوئی یہ خیال کرتا ہے کہ خدا ہماری طرح جسم رکھتا ہے اور ایک جگہ بیٹھ کر خدائی کررہا ہے۔ کوئی یہ سمجھتاہے کہ خدا بیوی بچے رکھتا ہے اور انسان کی طرح اس کے ہاں بھی اولاد کا سلسلہ چل رہا ہے۔ کوئی یہ گمان کرتا ہے کہ خدا انسان کی صورت میں زمین پر اترتا ہے۔ کوئی یہ کہتا ہے کہ خدا اس دنیا کے کارخانے کو چلا کر خاموش بیٹھ گیا ہے اور اب کہیں آرام کررہا ہے۔ کوئی سمجھتا ہے کہ خدا کے ہاں بزرگوں اور روحوں کی سفارش سے جانا ضروری ہے اور ان کو وسیلہ بنائے بغیر وہاں کام نہیں چلتا۔ کوئی اپنے خیال میں خدا کی ایک صورت تجویز کرتا ہےاور عبادت کے لیے اس صورت کو سامنے رکھنا ضروری سمجھتا ہے۔ اس طرح کی بہت سی غلط فہمیاں توحید کا اعتقاد رکھنے کے باوجود انسان کے ذہن میں باقی رہ جاتی ہیں جن کے سبب سے وہ شرک یا کفر میں مبتلا ہوتا ہے اور یہ سب جہالت کا نتیجہ ہیں۔ سب سے اوپر “لاالہ الا اللہ” کا درجہ ہے۔ یہ وہ علم ہے جو خود اللہ نے ہر زمانے میں اپنے نبیوں کے ذریعے سے انسان کے پاس بھیجا ہے۔ یہی علم سب سے پہلے انسان حضرت آدم علیہ السلام کو دے کر زمین پر اتارا گیا تھا۔ یہی علم آدم علیہ السلام کے بعد حضرت نوح ، حضرت ابراہیم ، حضرت موسی ، اور دوسرے تمام پیغمبروں کو دیا گیا تھا۔ پھر اسی علم کو لے کر سب سے آخر میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے۔ یہ خالص علم ہے جس میں جہالت کا شائبہ تک نہیں۔ اوپر ہم نے شرک اور بت پرستی اور کفر کی جتنی صورتیں لکھی ہیں، ان سب میں انسان اسی وجہ سے مبتلا ہوا کہ اس نے پیغمبروں کی تعلیم سے منہ موڑکر خود اپنے حواس اور اپنی عقل پر بھروسا کیا۔ آؤ ہم بتائیں کہ اس چھوٹے سے فقرے میں کتنی بڑی حقیقت بیان کی گئی ہے: 1. سب سے پہلی چیز الوہیت یعنی خدائی کا تصور ہے۔ یہ وسیع کائنات جس کے آغاز اور انجام اور انتہا کا خیال کرنے سے ہمارا ذہن تھک جاتا ہے جو نامعلوم زمانہ سے چلی آرہی ہے اور نامعلوم زمانہ تک چلی جارہی ہے جس میں بے حد و حساب مخلوق پیدا ہوئی اور پیدا ہوئے چلی جارہی ہے۔جس میں ایسے ایسے حیرت انگیز کرشمے ہورہے ہیں کہ ان کو دیکھ کر عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ اس کائنات کی خدائی صرف وہی کرسکتا ہے جو غیر محدود ہو، ہمیشہ سے ہو اور ہمیشہ رہے، کسی کا محتاج نہ ہو، بے نیاز ہو، قادر مطلق ہو، حکیم اور دانا ہو، ہر چیز کا علم رکھتا ہو اور کوئی چیز اس سے مخفی نہ ہو، سب پر غالب ہو اور کوئی اس کے حکم سے سرتابی نہ کرسکے، بے حساب قوتوں کا مالک ہو اور کائنا ت کی ساری چیزوں کو اس سے زندگی اور رزق کا سامان بہم پہنچے، عیب و نقص اور کمزوری کی تمام صفات سے پاک ہو اور اس کے کاموں میں کوئی دخل نہ دے سکے۔ 2. خدائی کی یہ تمام صفات ایک ہی ذات میں جمع ہونی ضروری ہیں۔ یہ ناممکن ہے کہ دو ہستیاں یہ صفات برابر رکھتی ہیں، کیوں کہ سب پر غالب اور سب پر حاکم تو ایک ہی ہوسکتا ہے۔ یہ بھی ممکن نہیں کہ یہ صفات تقسیم ہو کر بہت سے خداؤں میں بٹ جائیں، کیونکہ اگر حاکم ایک ہو اور عالم دوسرا اور رازق تیسرا، تو ہر ایک خدا دوسرے کا محتاج ہوگا۔ اور اگر ایک نے دوسرے کا ساتھ نہ دیا تو ساری کائنات یک لخت فنا ہوجائے گی۔ یہ بھی ممکن نہیں کہ یہ صفات ایک دوسرے کو منتقل ہوں۔ یعنی کبھی ایک خدا میں پائی جائیں اور کبھی دوسرے میں، کیونکہ جو خدا خود زندہ رہنے کی قوت نہ رکھتا ہو وہ ساری کائنات کو زندگی نہیں بخش سکتا، اور جو خدا خود اپنی خدائی کی حفاظت نہ کرسکتا ہو وہ اتنی بڑی کائنات پر حکومت نہیں کرسکتا۔ پس تم کو علم کی جتنی زیادہ روشنی ملے گی اتنا ہی زیادہ تم کو یقین ہوتا جائے گا کہ خدائی کی صفات صرف ایک ذات میں جمع ہونی ضروری ہیں۔ 3. خدائی کے اس کامل اور صحیح تصور کو نظر میں رکھو، پھر ساری کائنات پر نظر ڈالو، جتنی چیزیں تم دیکھتے ہو، جتنی چیزوں کو کسی ذریعہ سے محسوس کرتے ہو، جتنی چیزوں تک تمہارے علم کی محتاج ہیں، محکوم ہیں، بنتی اور بگڑتی ہیں،مرتی اور جیتی ہیں۔ کسی کو ایک حال پر قیام نہیں ، کسی کو اپنے اختیار سے کچھ کرنے کی قدرت نہیں۔ کسی کو ایک بالاتر قانون کے خلاف بال برابر حرکت کرنے کا اختیار نہیں۔ ان کے حالات خود ہی گواہی دیتے ہیں کہ ان میں سے کوئی خدا نہیں ہے۔ کسی میں خدا کی ادنی جھلک تھک نہیں پائی جاتی۔ کسی کا خدائی میں ذرہ برابر بھی دخل نہیں ہے۔ یہی معنی ہیں لاالہ کے۔ 4. کائنات کی ساری چیزوں سے چیزوں سے خدائی چھین لینے کے بعد تم کو اقرار کرنا پڑتا ہے کہ ایک اور ہستی ہے جو سب سے بالاتر ہے۔ صرف وہی تمام خدائی صفات رکھتی ہے اور اس کے سواکوئی خدا نہیں۔ یہی معنی ہیں الا اللہ کے۔ یہ سب سے بڑا علم ہے ۔ تم جس قدر تحقیق اور جستجو کروگے تم کو یہی معلوم ہوگا کہ یہی علم کا سرا بھی ہے اور یہی علم کی آخری حد بی۔ طبیعیات، کیمیا، ہیئت، ریاضیات، حیاتیات، حیوانیات، انسانیت غرض کائنات کی حقیقتوں کا کھوج لگانے والے جتنے علوم ہیں ان میں سے خواہ کوئی علم لے لو، اس کی تحقیق میں جس قدر تم آگے بڑھتے جاؤگے لاالہ الا اللہ کی صداقت تم پر زیادہ کھلتی جائے گی اور اس پر تمہارا یقین بڑھتا جائے گا۔ تم کو علمی تحقیقات کے میدان میں ہر ہر قدم پر محسوس ہوگا کہ اس سب سے بڑی سچائی سے انکار کرنے کے بعد کائنات کی ہر چیز بے معنی ہوجاتی ہے۔