ایمان مفصل
آخرت پر ایمان
پانچویں چیز جس پر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ہو کو ایمان لانے کی ہدایت فرمائی ہے وہ آخرت ہے۔ آخرت کے متعلق جن جن چیزوں پر ایمان لانا ضروری ہے وہ یہ ہیں:
1. ایک دن اللہ تعالیٰ تمام عالم اور اس کی مخلوقات کو مٹادے گا، اس دن کا نام قیامت ہے۔
2. پھر وہ سب کو ایک دوسری زندگی بخشے گا اور سب اللہ کے سامنے حاضر ہوں گے، اس کو حشر کہتے ہیں۔
3. تمام لوگوں نے اپنی دنیوی زندگی میں جو کچھ کیا ہے اس کا پورا کارنامۂ اعمال خدا کی عدالت میں پیش ہوگا۔
4. اللہ تعالیٰ ہر شخص کے اچھے اور برے اعمال وزن فرمائے گا جس کی بھلائی خدا کی میزان میں برائی سے زیادہ وزنی ہوگی اس کو بخش دے گا اور جس کی برائی کا پلہ بھاری رہے گااسے سزا دے گا۔
5. جن لوگوں کی بخشش ہوجائے گی وہ جنت میں جائیں گے اور جن کو سزا دی جائے گی وہ دوزخ میں جائیں گے۔
عقیدۂ آخرت کی ضرورت
آخرت کا یہ عقیدہ جس طرح محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے پیش کیا ہے، اسی طرح پچھلے تمام انبیاء بھی اسے پیش کرتے آئے ہیں اور ہر زمانے میں اس پر ایمان لانا مسلمان ہونے کے لیے لازمی شرط رہا ہے ۔ تمام نبیوں نے اس شخص کو کافر قرار دیا ہے جو اس سے انکار کرے یا اس میں شک کرے ۔ کیونکہ اس عقیدہ کے بغیر خدا اور اس کی کتابوں اور اس کے رسولوں کو ماننا بالکل بے معنی ہوجاتا ہے اور انسان کی ساری زندگی خراب ہوجاتی ہے۔ اگر غور کرو تو یہ بات آسانی سے سمجھ میں آسکتی ہے۔ تم سے جب کبھی کسی کام کے لیے کہا جاتا ہے تو سب سے پہلاسوال جو تمہارے دل میں پیدا ہوتا ہے وہ یہی ہےکہ اس کے کرنے سے کیا فائدہ ہے اور نہ کرنے کا نقصان کیا ہے؟ یہ سوال کیوں پیدا ہوتا ہے؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ انسان کی فطرت ہر ایسے کام کو لغو اور فضول سمجھتی ہے جس کا کوئی فائدہ نہیں۔ اور اسی طرح تم کسی ایسی چیز سے پرہیز کرنا بھی قبول نہ کروگے جس کے متعلق تم کو یقین ہو کہ اس سے کوئی نقصان نہیں۔ یہی حال شک کا بھی ہے،جس کام کا فائدہ مشکوک ہو اس میں تمہارا جی ہرگز نہ لگے گا۔ اور جس کام کے نقصان دہ ہونے میں شک ہو،اس سے بچنے کی بھی تم کوئی خاص کوشش نہ کرگے۔ بچوں کو دیکھو! وہ آگ میں کیوں ہاتھ ڈال دیتے ہیں؟ اس لیے ناکہ ان کو اس بات کا یقین نہیں ہے کہ آگ جلادینے والی چیز ہے، اور وہ پڑھنے سے کیوں بھاگتے ہیں؟ اسی وجہ سے نا کہ جو کچھ فائدے ان کے بڑے انہیں سمجھانے کی کوشش کرتے ہیں وہ ان کے دل کو نہیں لگتے۔ اب خیال کرو کہ جو شخص آخرت کو نہیں مانتا وہ خدا کی فرمانبرداری کا کوئی فائدہ ہے اور نہ اس کی نافرمانی کا کوئی نقصان۔پھر کیوں کر ممکن ہے کہ وہ ان احکام کی اطاعت کرے جو خدا نے اپنے رسولوں اور اپنی کتابوں کے ذریعہ سے دیے ہیں؟ بالفرض اگر اس نے خدا کو مان بھی لیا تو ایسا ماننا بالکل بیکار ہوگا، کیونکہ وہ خدا کے قانون کی اطاعت نہ کرے گا اور اس کی مرضی کے مطابق نہ چلے گا۔
لیکن یہ معاملہ یہیں تک نہیں رہتا۔ تم اور زیادہ غور کروگے تو تم معلوم ہوگا کہ آخرت کا انکار یا اقرار انسان کی زندکی میں فیصلہ کن اثر رکھتا ہے جیسا کہ ہم نے اوپر بیان کیا انسان کی فطرت ہی ایسی ہے کہ وہ ہر کام کے کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ اس کے فائدے اور نقصان کے لحاظ سے کرتاہے۔ اب ایک شخص تو وہ ہے جس کی نظر صرف اسی دنیا کے فائدے اور نقصان پر ہے۔ وہ کسی ایسے نیک کام پر ہر گز آمادہ نہ ہوگا جس سے کوئی فائدہ اس دنیا میں حاصل ہونے کی امید نہ ہو۔اور کسی ایسے نیک کام پر ہر گز آمادہ نہ ہوگا جس سے کوئی فائدہ اس دنیا میں حاصل ہونے کی امید نہ ہو۔ اور کسی ایسے برے کام سے پرہیز نہ کرے گا جس سے اس دنیا میں کوئی نقصان پہنچنے کا خطرہ نہ ہو۔ایک دوسرا شخص ہے جس کی نظر افعال کے آخری نتائج پر ہے ۔ وہ دنیا کے فائدے اور نقصان کو محض عارضی چیز سمجھے گا اورآخرت کے دائمی فائدے یا نقصان کا لحاظ کرکے نیکی اختیار کرے گا اور بدی کو چھوڑ دے گا، خواہ اس دنیا میں نیکی سے کتنا بڑا نقصان اور بدی سے کتنا ہی بڑا فائدہ ہوتا ہو۔ دیکھو! دونوں میں کتنا بڑا فرق ہوگیا۔ ایک کے نزدیک نیکی وہ ہے جس کا کوئی اچھا نتیجہ اس دنیا کی ذرا سی زندگی میں حاصل ہوجائے۔ مثلاً کچھ روپیہ ملے، کوئی زمین ہاتھ آجائے، کوئی عہدہ مل جائے۔ کچھ خواہشات کی تسکین ہو، کچھ نفس کو مزہ آجائے۔ اور بدی وہ ہے جس سے کوئی برا نتیجہ اس زندگی میں ظاہر ہو یا ظاہر ہونے کا خوف ہو۔ مثلاً جان و مال کا نقصان صحت کی خرابی، بدنامی، حکومت کی سزا، کسی قسم کی تکلیف یا رنج یا بدمزگی۔ اس کے مقابلہ میں دوسرے شخص کے نزدیک نیکی وہ ہے جس سے خدا خوش ہو، اور بدی وہ جس سے خدا ناراض ہو۔ نیکی اگر دنیا میں اس کو کسی قسم کا فائدہ نہ پہنچائے، بلکہ الٹا نقصان ہی نقصان دے تب بھی وہ اس کو نیکی ہی سمجھتا ہے اور یقین رکھتاہے کہ آخرکار خدا اس کو ہمیشہ باقی رہنے والا فائدہ عطا کرے گا۔ اور بدی سے خواہ یہاں کسی قسم کا نقصان پہنچے، نہ نقصان کو خوف ہو، بلکہ سراسر فائدہ ہی فائدہ نظر آئے پھر بھی وہ اس کو بدی ہی سمجھتا ہے اور یقین رکھتا ہے کہ اگر میں دنیا کی اس مختصر زندکی میں سزا سے بچ گیا اور چند روز مزے لوٹتا رہا تب بھی آخر کار خدا کے عذاب سے نہ بچوں گا۔
یہ دو مختلف خیالات ہیں جن کے اثر سے انسان دو مختلف طریقے اختیار کرتا ہے۔جو شخص آخرت پر یقین نہیں رکھتا اس کے لیے قطعی ناممکن ہے کہ وہ ایک قدم بھی اسلام کےطریقے پر چل سکے۔ اسلام کہتا ہے کہ خدا کی رہ میں غریبوں کو زکوۃ دو، وہ جواب دیتا ہے زکوۃ سے میری دولت گھٹ جائے گی، میں تو اپنے مال پر الٹا سود لوں گا اور سود کی ڈگری میں غریبوں کے گھر کا تنکا تک قرق کرالوں گا۔ اسلام کہتا ہے ہمیشہ سچ بولو اور جھوٹ سے پرہیز کرو، خواہ سچائی میں کتناہی نقصان اور جھوٹ میں کتنا ہی فائدہ ہو۔وہ جواب دیتا ہے کہ میں سچائی کو لے کر کیا کروں جس سے مجھے نقصان پہنچے اور فائدہ کچھ نہ ہو،اور ایسے جھوٹ سے پرہیز کیوں کروں جو فائدہ مند ہو اور جس میں بدنامی کا خوف تک نہ ہو؟ وہ ایک سنسان راستہ سے گذرتا ہے ، ایک قیمتی چیز پڑی ہوئی اس کو نظر آتی ہے۔ اسلام کہتا ہےکہ یہ تیرا مال نہیں ہے تو اس کو ہرگز نہ لے۔ وہ جواب دیتا ہے کہ مفت ہاتھ آئی ہوئی چیز کو کیوں چھوڑدوں؟ یہاں کوئی دیکھنے والا نہیں جو پولیس کو خبر کرے یا عدالت میں گواہی دے یا لوگوں میں مجھے بدنام کرے، پھر کیوں نہ میں اس مال سے فائدہ اٹھاؤں؟ ایک شخص پوشیدہ طور پر اس کے پاس کوئی امانت رکھواتا ہے اور مرجاتا ہے، اسلام کہتا ہے کہ امانت میں خیانت نہ کر۔ اس کے مال اس کے بال بچوں کو پہنچادے۔ وہ کہتا ہے کیوں؟ کوئی شہادت اس بات کی نہیں کہ مرنے والے کا مال میرے پاس ہے، خود اس کے بال بچوں کو اس کی خبر تک نہیں، جب میں آسانی کے ساتھ اس کو کھاسکتا ہوں اور کسی دعوے یا کسی بدنامی کا خوف بھی نہیں تو کیوں نہ اسے کھاجاؤں؟
غرض یہ کہ زندگی کے راستہ میں ہر ہر قدم پر اسلام اس کو ایک طریقے پر چلنے کی ہدایت کرے گا اور وہ اس کے بالکل خلاف دوسرا طریقہ اختیار کرے گا۔ کیونکہ اسلام میں ہر چیز کی قدر و قیمت آخرت کے دائمی نتائج کے لحاظ سے ہے۔ مگر ہو شخص ہر معاملہ میں نظر صرف ان نتائج پر رکھتا ہے جو اس دنیا کی چند روزہ زندگی میں حاصل ہوتے ہیں۔
اب تم سمجھ سکتے ہو کہ آخرت پر ایمان لائے بغیر انسان کیوں مسلمان نہیں ہوسکتا۔ مسلمان تو خیر بڑی چیز ہے، سچ یہ ہے کہ آخرت کا انکار انسان کو انسانیت سے گرا کر حیوانیت سے بھی بدتر درجہ میں لے جاتا ہے۔