عبادات
زکوٰۃ
تیسرا فرض زکوٰۃ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہر مسلمان مالدار پر فرض کیا ہے کہ اگر اس کے پاس کم سے کم چالیس روپے ہوں اور ان پر پورا ایک سال گذر جائے تو وہ ان میں سے ایک روپیہ کسی غریب رشتہ دار یا کسی محتاج، کسی مسکین، کسی نو مسلم، کسی مسافر یا کسی قرض دار شخص کو دے دے۔
اس طرح اللہ نے امیروں کی دولت میں غریبوں کے لیے کم از کم ڈھائی فیصد حصہ مقرر کردیا ہے۔ اس سے زیادہ کوئی دے تو یہ احسان ہے جس کا ثواب اور زیادہ ہوگا۔
دیکھو! یہ حصہ اللہ کو نہیں پہنچتا، وہ تمہاری کسی چیز کا محتاج نہیں ہے۔ لیکن وہ فرماتا ہے کہ تم نے اگر خوشدلی کے ساتھ میری خاطر اپنے کسی غریب بھائی کو کچھ دیا تو گویا مجھ کو دیا، اس کی طرف سے میں تم کو کئی گنا زیادہ بدلہ دوں گا البتہ شرط یہ ہے کہ اس کو دے کر تم کوئی احسان نہ جتاؤ، اس کو ذلیل و حقیر نہ کرو، اس سے شکریہ کی بھی خواہش نہ رکھو۔ یہ بھی کوشش نہ کرو کہ تمہاری اس بخشش کا لوگوں میں چرچا ہو اور لوگ تمہاری تعریف کریں کہ فلاں صاحب بڑے سخی داتا ہیں، اگر ان تمام ناپاک خیالات سے اپنے دل کو پاک رکھوگے اور محض میری خوشنودی کے لیے اپنی دولت میں سے غریبوں کو حصہ دوگے تو میں اپنی بے پایاں دولت میں سے تم کو وہ حصہ دوں گا جو کبھی ختم نہ ہوگا۔
اللہ تعالی ٰنے اس زکوٰۃ کو بھی اسی طرح فرض کیا ہے جس طرح نماز روزے کو فرض کیا ہے۔یہ اسلام کابہت بڑا رکن ہے اور اس کو رکن اس لیے قرار دیا گیا ہے کہ یہ مسلمانوں میں خدا کی خاطر قربانی اور ایثار کرنے کی صفت پیدا کرتا ہے۔ اور خودغرضی ، تنگ دلی اور زرپرستی کی بری صفات کو دور کرتا ہے۔ لچھمی کی پوجا کرنے والا اور روپے پر جان دینے والا حریص اور بخیل آدمی اسلام کے کسی کام کا نہیں۔جو شخص خد کے حکم پر اپنی گاڑھی محنت سے کمایا ہوا مال اپنی کسی ذاتی غرض کے بغیر قربان کرسکتا ہو وہی اسلام کے سیدھے راستے پر چل سکتا ہے۔ زکوٰۃ مسلمان کو اس قربانی کی مشق کراتی ہے اور اس کو اس قابل بناتی ہے کہ خدا کی راہ میں جب مال صرف کرنے کی ضرورت ہو تو وہ اپنی دولت کو سینے سے چمٹائے نہ بیٹھا رہے ، بلکہ دل کھول کر خرچ کرے۔
زکوٰۃ کا دنیا وی فائدہ یہ ہے کہ مسلمان آپس میں ایک دوسرے کی مدد کریں۔ کوئی مسلمان ننگا بھوکا اور ذلیل و خوار نہ ہو، جو امیر ہیں وہ غریبوں کو سنبھال لیں اور جو غریب ہیں وہ بھیک مانگتے نہ پھریں، کوئی شخص اپنی دولت کو صرف اپنے عیش و آرام اور اپنی شان و شوکت ہی پر نہ اڑادے، بلکہ یہ بھی یادرکھے کہ اس میں اس قوم کے یتیموں اور بیواؤں اور محتاجوں کا بھی حق ہے۔ اس میں ان لوگوں کا بھی حق ہے جو کام کرنے کی قابلیت رکھتے ہیں، مگر سرمایہ نہ ہونے کی وجہ سے نہیں کرسکتے۔ اس میں ان بچوں کا بھی حق ہے جو قدرت سے دماغ اور ذہانت لائے ہیں، مگر غریب ہونے کی وجہ سے تعلیم نہیں پاسکتے۔اس میں ان کا بھی حق ہے جو معذور ہوگئے ہیں اور کوئی کام کرنے کے قابل نہیں رہے۔ جو شخص اس حق کو نہیں مانتا وہ ظالم ہے۔ اس سے بڑا ظلم کیا ہوگا کہ تم اپنے پاس روپے کے کھتے کے کھتے بھرے بیٹھے رہو، کوٹھیوں میں عیش کرو، موٹر وں میں چڑھے چڑھے پھرو اور تمہاری قوم کے ہزاروں آدمی روٹیوں کے محتاج ہوں اور ہزاروں کام کے آدمی بیکار مارے مارے پھریں۔ اسلام ایسی خود غرضی کا دشمن ہے۔ کافروں کو ان کی تہذیب یہ سکھاتی ہے کہ جو کچھ دولت ان کے ہاتھ لگے اس کو سمیٹ سمیٹ کر رکھیں اور اسے سود پر چلا کر آس پاس کے لوگوں کی کمائی بھی اپنے پاس کھینچ لیں۔ لیکن مسلمانوں کو ان کا مذہب یہ سکھاتا ہے کہ اگر خدا تمہیں اس قدر رزق دے جو تمہاری ضرورت سے زیادہ ہو تو اس کو سمیٹ کر نہ رکھو، بلکہ اپنے دوسرے بھائیوں کو دو تاکہ ان کی ضرورتیں پوری ہوں اور تمہاری طرح وہ بھی کچھ کمانے اور کام کرنے کے قابل ہوجائیں۔