عبادات
حمایت اسلام
آخری فرض جو خدا کی طرف سے تم پر عائد کیا گیا ہے، حمایت اسلام ہے۔ اگرچہ یہ ارکان اسلام میں سے نہیں ہے، مگر یہ اسلامی فرائض میں سے ایک اہم فرض ہے اور قرآن و حدیث میں اس پر بہت زور دیا گیا ہے۔
حمایت اسلام کیا چیز ہے اور کیوں فرض کی گئی ہے؟ اس کو تم ایک مثال سے بہ آسانی سمجھ سکتے ہو۔ فرض کرو کہ ایک شخص تم سے دوستی کرتا ہے، مگر ہر آزمائش کے موقع پر یہ ثابت ہوتا ہے کہ اس کو تم سے کوئی ہمدردی نہیں۔ وہ تمہارے فائدے اور نقصان کی کوئی پروا نہیں کرتا۔جس کام میں تمہارا نقصان ہوتا ہو اس کو وہ اپنے ذاتی فائدے کی خاطر بے تکلف کرگزرتا ہے جس کام میں تمہارا فائدہ ہوتا ہے ، اس میں تمہارا ساتھ دینے سے وہ صرف اس لیے پرہیز کرتا ہے کہ اس میں خود اس کا کوئی فائدہ نہیں۔ تم پر کوئی مصیبت آئے تو وہ تمہاری کوئی مدد نہیں کرتا۔ کہیں تمہاری برائی کی جارہی ہو تو وہ خود بھی برائی کرنے والوں میں شریک ہوجاتا ہے،یا کم از کم تمہاری برائی کو خاموشی کے ساتھ سنتا ہے۔ تمہارے دشمن تمہارے خلاف کوئی کام کریں تو وہ ان کے ساتھ شریک ہوجاتا ہے، یا کم از کم تمہیں ان کی شرارتوں سے بچانے کی ذرا کوشش نہیں کرتا۔ بتاؤ کیا تم ایسے شخص کو اپنا دوست سمجھوگے؟ تم یقیناً کہوگے کہ ہر گز نہیں۔ اس لیے کہ وہ محض زبان سے دوستی کا دعوی کرتا ہے۔ مگر درحقیقت دوستی اس کے دل میں نہیں ہے۔ دوستی کے معنی تو یہ ہیں کہ انسان جس کا دوست ہو اس سے محبت اور خلوص رکھے، اس کا ہمدرد و خیر خواہ ہو، وقت پر اس کے کام آئے، دشمنوں کےمقابلہ میں اس کی مدد کرے، اس کی برائی سننے تک کا روادار نہ ہو۔ جب یہ بات اس میں نہیں تو وہ منافق ہے، اس کا دوستی کا دعوی جھوٹا ہے۔
اسی مثال پر قیاس کرلو کہ جب تم مسلمان ہونے کا دعوی کرتے ہو تو تم پر کیا فرض عائد ہوتا ہے۔ مسلمان ہونے کے معنی یہ ہیں کہ تم میں اسلامی حمیت ہو، ایمانی غیرت ہو، اسلام کی محبت اور اپنے مسلمان بھائیوں کی سچی خیر خواہی ہو۔تم خواہ دنیا کا کوئی کام کرو، اس میں اسلام کا مفاد اورمسلمانوں کی بھلائی ہمیشہ تمہارے پیش نظر رہے۔ اپنے ذاتی فائدے کی خاطر یا اپنے کسی ذاتی نقصان سے بچنے کی خاطر تم سے کبھی کوئی ایسی حرکت سرزد نہ ہو جو اسلام کے مقاصد اور مسلمانوں کی فلاح کے خلاف ہو اور ہر اس کام میں دل اور جان اور مال سے حصہ لو جو اسلام اور مسلمانوں کے لیے مفید ہو اور ہر اس کام سے الگ رہو جو اسلام اور مسلمانوں کے لیے نقصان دہ ہو۔اپنے دین اور اپنی دینی جماعت کی عزت کو اپنی عزت سمجھو۔ جس طرح تم خود اپنی توہین برداشت نہیں کرسکتے، اسی طرح اسلام اور اہل اسلام کی توہین بھی برداشت نہ کرو۔ جس طرح تم خود اپنے خلاف اپنے دشمنوں کا ساتھ نہیں دیتے، اسی طرح اسلام اور مسلمانوں کے دشمنوں کا بھی ساتھ نہ دو۔ جس طرح تم اپنی جان و مال اور عزت کی حفاظت کے لیے ہر قسم کی قربانی پر آمادہ ہوجاتے ہو، اسی طرح اسلام اور مسلمانوں کی حفاظت کے لیے بھی ہر قربانی پر آمادہ رہو۔ یہ صفات ہر اس شخص میں ہونی چاہیئیں جو اپنے آپ کو مسلمان کہتا ہو، ورنہ اسکا شمار منافقوں میں ہوگا اور اس کا عمل خود ہی اس کے زبانی دعوے کو جھوٹا ثابت کردے گا۔
اس حمایت اسلام کا ایک شعبہ ہو ہے جس کو شریعت کی زبان میں “جہاد” کہتے ہیں۔ جہاد کے لفظی معنی ہیں کسی کام میں اپنی انتہائی طاقت صرف کردینا۔ اس معنی کے لحاظ سے جو شخص خدا کا کلمہ بلند کرنے کےلیے روپے سے، زبان سے، قلم سے، ہاتھ پاؤں سے کوشش کرتا ہے وہ بھی جہاد ہی کرتا ہے، مگر خاص طور پر “جہاد” کا لفظ اس جنگ کے لیے استعمال کیا گیا ہے جو تمام دنیوی اغراض سے پاک ہو کر محض خدا کے لیے اسلام کے دشمنوں سے کی جائے۔ شریعت میں اس جہاد کو فرض کفایہ کہتے ہیں۔ یعنی ایسا فرض جو تمام مسلمانوں پر عائد تو ہوتا ہے، لیکن اگر ایک جماعت اس کو ادا کردے تو باقی لوگوں پر سے اس کو ادا کردینے کی ذمہ داری ساقط ہوجاتی ہے۔ البتہ اگر کسی اسلامی ملک پر دشمنوں کا حملہ ہو تو اس صورتمیں جہاد اس ملک کے تمام باشندوں پر نماز اور روزہ کی طرح فرض عین ہوجاتا ہے۔ اور اگر وہ مقابلہ کی طاقت نہ رکھتے ہوں تو ان کے قریب جو ملک واقع ہوں وہاں کے بھی ہر مسلمان پر فرض ہوجاتا ہے کہ جان اور مال سے ان کی مدد کرے اور اگر ان کی مدد سے بھی دشمن کا حملہ دفع نہ ہو تو اس صورت میں جہاد اس ملک کے تمام دنیاکے مسلمانوں پر ان کی حمایت اسی طرح فرض ہوجاتی ہے جس طرح نماز روزہ فرض ہے۔ یعنی اگر کوئی شخص بھی یہ فرض ادا کرنے میں کوتاہی کرے گا تو گنہگار ہوگا۔ ایسی صورتوں میں جہاد کی اہمیت نماز اور روزے سے بھی زیادہ ہوجاتی ہے، اس لیے کہ وہ وقت ایمان کے امتحان کا ہوتا ہے جو شخص مصیبت کے وقت اسلام اور مسلمانوں کا ساتھ نہ دے اس کا ایمان ہی مشتبہ ہے پھر اس کی نماز کس کام کی اور اس کے روزے کی کیا وقعت؟ اور اگر کوئی بدبخت ایسا ہو کہ اس وقت اسلام اور مسلمانوں کے دشمنوں کا ساتھ دے تو وہ یقیناً منافق ہے۔ اس کی نماز اور اس کا روزہ اور اس کی زکٰوۃ اور اس کا حج سب کچھ بیکار ہے۔